انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی حکمرانی: ڈالر کی قدر میں مزید کمی، معاشی استحکام کی نئی لہر

پاکستانی کرنسی روپیہ اور امریکی ڈالر کا گراف، انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں اضافے اور معاشی اشاریوں کی تفصیل۔

یوتھ ویژن نیوز : (عمر اسحاق چشتی سے) پاکستان کی معاشی تاریخ میں ایک غیر معمولی تسلسل دیکھا جا رہا ہے جہاں انٹربینک مارکیٹ میں پیر کے روز بھی روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی برتری برقرار رکھی۔ یہ مسلسل 96واں دن ہے جب روپیہ تگڑا رہا، جس کی بنیادی وجہ ملک میں معاشی استحکام کی جانب بامعنی پیشرفت اور مثبت عالمی اشاریے ہیں۔ اگرچہ انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں کمی دیکھی گئی، تاہم اس کے برعکس اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مستحکم رہی، جو مارکیٹ میں طلب اور رسد کے توازن کو ظاہر کرتی ہے۔

روپے کی برتری کے کلیدی عوامل: معاشی ماہرین کے مطابق روپے کی اس مضبوطی کے پیچھے تین بڑے عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے اہم پیش رفت آئی ایم ایف (IMF) کی مقررہ 5 کڑی شرائط میں سے 3 مالیاتی شرائط کی کامیابی سے تکمیل ہے، جس نے ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کے حصول کی راہ ہموار کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، عالمی بینک کی سربراہ کی جانب سے پاکستان کے لیے 20 ارب ڈالر کے 10 سالہ ترقیاتی پیکیج کی حمایت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نئی زندگی بخشی ہے۔ مزید برآں، سعودی عرب کے ساتھ مختلف اہم شعبوں میں تعاون کی حالیہ ڈیلز نے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انٹربینک بمقابلہ اوپن مارکیٹ: ڈالر کی قدر میں کمی اور روپے کی مسلسل برتری کی اندرونی کہانی

انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز سے ہی ڈالر دباؤ کا شکار رہا۔ ایک موقع پر ڈالر کی قدر میں 25 پیسے کی واضح کمی دیکھی گئی، جس کے بعد قیمت 279 روپے 46 پیسے کی سطح پر آگئی۔ یہ تنزلی ظاہر کرتی ہے کہ موثر مالیاتی انتظام اور کلیدی اقتصادی شعبوں میں بتدریج بحالی کے ثمرات اب زمینی حقائق کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

اوپن مارکیٹ کی صورتحال: جہاں انٹربینک میں روپے کی حکمرانی رہی، وہیں اوپن مارکیٹ میں صورتحال قدرے مختلف رہی اور وہاں ڈالر کی قیمت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں استحکام درآمدی ادائیگیوں اور سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کے مستحکم بہاؤ کا نتیجہ ہے۔ اگر آئی ایم ایف کی باقی ماندہ شرائط بھی بروقت پوری ہو جاتی ہیں، تو روپے کی قدر میں مزید اضافے اور ڈالر کی قیمت میں 275 روپے تک کی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں