پی ایس ایل کی مہنگی ترین فرنچائز: ملتان سلطانز 2.45 ارب میں فروخت، اب راولپنڈی کے نام سے ایکشن میں ہوگی!

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور ولی ٹیکنالوجیز کے احسن طاہر ملتان سلطانز کی نیلامی کے بعد معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے، پی ایس ایل 11 کی نئی ٹیمیں اور قیمتیں۔

یوتھ ویژن نیوز : لاہور (اسپورٹس ڈیسک): پاکستان سپر لیگ (PSL) کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہو گیا ہے، جہاں ملتان سلطانز 2 ارب 45 کروڑ روپے کی ریکارڈ قیمت پر فروخت ہو کر لیگ کی مہنگی ترین فرنچائز بن گئی ہے۔ لاہور کے ایکسپو سینٹر میں منعقدہ ایک پروقار اور سنسنی خیز نیلامی کی تقریب میں "ولی ٹیکنالوجیز” نے سی ڈی وینچرز کو سخت مقابلے کے بعد پیچھے چھوڑتے ہوئے اگلے دس سال کے لیے ٹیم کے ملکیتی حقوق حاصل کر لیے ہیں۔ اس موقع پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی، سابق چیئرمین نجم سیٹھی اور لیجنڈری کرکٹر ظہیر عباس بھی موجود تھے۔

نیلامی کا آغاز ایک ارب 82 کروڑ روپے سے ہوا، جس میں پانچ بڑے گروپس ڈی ایس ایم، ولی ٹیکنالوجیز، سی ڈی وینچرز، پارٹیکل اگنائیٹر اور ایم نیکسٹ نے حصہ لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین کا گروپ ‘ڈی ایس ایم’ ابتدائی مرحلے میں ہی دوڑ سے باہر ہو گیا تھا۔ اصل مقابلہ سی ڈی وینچرز اور ولی ٹیکنالوجیز کے درمیان دیکھا گیا، جہاں بولی 2 ارب 35 کروڑ تک جا پہنچی۔ آخر کار ولی ٹیکنالوجیز نے 2 ارب 45 کروڑ روپے کی حتمی بولی لگا کر میدان مار لیا۔

نام کی تبدیلی اور مستقبل کا وژن: نیلامی جیتنے کے بعد ولی ٹیکنالوجیز کے سربراہ احسن طاہر نے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ ٹیم "ملتان سلطانز” کے بجائے "راولپنڈی” کے نام سے جانی جائے گی۔ انہوں نے جذباتی انداز میں بتایا کہ وہ راولپنڈی کی گلیوں میں پلے بڑھے ہیں، اسی لیے وہ اپنی ٹیم کو اپنے شہر کے نام سے منسوب کرنا چاہتے ہیں۔ پی سی بی کے مطابق، سابق مالک کی جانب سے حقوق کی تجدید نہ کرنے پر یہ نیلامی ضروری تھی، اور اس ریکارڈ قیمت نے ثابت کر دیا ہے کہ پی ایس ایل کی برانڈ ویلیو میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

پی ایس ایل 11 کا نیا ڈھانچہ: رواں سال پی ایس ایل کے گیارہویں ایڈیشن میں اب 6 کے بجائے 8 ٹیمیں ایکشن میں نظر آئیں گی۔ حیدرآباد اور سیالکوٹ کی دو نئی فرنچائزز کی شمولیت اور ملتان سلطانز کا نام بدل کر راولپنڈی ہونے سے ٹورنامنٹ کی مقبولیت اور مسابقت میں اضافے کی توقع ہے۔ ماہرینِ کرکٹ کا کہنا ہے کہ 2.45 ارب روپے کی یہ سرمایہ کاری پاکستان میں کھیلوں کی معیشت کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہوگی۔ پی سی بی نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ نیلامی کا تمام عمل شفاف اور غیر جانبدارانہ رہے تاکہ لیگ کی ساکھ برقرار رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں