سعودی عرب اے آئی ایکو سسٹم کی تعمیر میں قابل اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے،سعودی وزیرِ
یوتھ ویژن نیوز : (نمائدہ خصؤصی برائے ٹیک انفارمیشن عفان گوہر سے) سعودی وزیر آئی ٹی کے مطابق سعودی عرب عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے ایکو سسٹم کی تعمیر میں قابل اعتماد شراکت دار بن چکا ہے۔
برن/ڈیووس: سعودی عرب کے وزیرِ کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئر عبداللہ السواحہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب انٹیلیجنٹ ایج میں مصنوعی ذہانت کے ایک مضبوط اور پائیدار ایکو سسٹم کی تعمیر کے لیے ایک قابل اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔ انہوں نے یہ بات سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر سعودی ہاؤس میں منعقدہ ڈائیلاگ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا عنوان ’’عالمی خوشحالی کے لیے مصنوعی ذہانت: جدت، شمولیت اور اعتماد‘‘ تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں : اوپن اے آئی میں نوکری، تنخواہ 15 کروڑ، لیکن ایک شرط ہے
سعودی وزیر نے کہا کہ عالمی سطح پر سعودی عرب کی پوزیشن کو توانائی، سرمایہ، جدید انفراسٹرکچر اور انسانی صلاحیتوں جیسے بنیادی عناصر غیر معمولی طور پر مضبوط بناتے ہیں، جو مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ کے شعبے میں مملکت کی تیز رفتار ترقی کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی پیش رفت شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایات اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بھرپور تعاون کا نتیجہ ہے۔
انجینئر عبداللہ السواحہ نے کہا کہ سعودی عرب دنیا کے سب سے بڑے توانائی فراہم کنندگان میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز تک عالمی رسائی بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 20ویں صدی توانائی کی صدی تھی، جبکہ 21ویں صدی کی شناخت کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے ہو رہی ہے، اور سعودی عرب اس تبدیلی میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مملکت کی جانب سے ہیلتھ کیئر، توانائی اور جدید کیمسٹری کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ایسے ماڈلز سامنے آ رہے ہیں جو نہ صرف انسانیت بلکہ کرہ ارض کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں۔ طبی اور حیاتیاتی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جن میں سرجری کے دوران روبوٹک ٹیکنالوجی کا کامیاب استعمال بھی شامل ہے۔ ایسے پیچیدہ طبی اور سائنسی کام، جن کی تکمیل میں ماضی میں کئی ہفتے درکار ہوتے تھے، اب مصنوعی ذہانت کی بدولت چند گھنٹوں میں ممکن ہو رہے ہیں۔
سعودی وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے انکشاف کیا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان تین منفرد نوعیت کی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں، جن کا اعلان جلد متوقع ہے۔ ان حکمت عملیوں میں ایک اہم ہدف یہ بھی شامل ہے کہ سعودی عرب کو دنیا کے مصنوعی ذہانت کے پانچ بہترین عالمی مراکز میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مملکت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر ایک ترقی یافتہ اور قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
انجینئر عبداللہ السواحہ نے زور دیا کہ سعودی عرب کی پالیسی کا محور یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو صرف تجارتی یا تکنیکی ترقی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے عالمی خوشحالی، شمولیت اور اعتماد کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کی یہ حکمت عملی عالمی سطح پر اے آئی ایکو سسٹم کی تعمیر میں ایک متوازن، ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ماڈل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جو مستقبل میں بین الاقوامی تعاون اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کو نئی سمت دے سکتی ہے۔