پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی ریکارڈ تیزی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بلند
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا، مارکیٹ میں لیکویڈیٹی، نئی لسٹنگز اور اصلاحات نے اضافہ کیا۔
یوتھ ویژن نیوز : (خصؤصی رپورٹ برائے محمد عاقب قریشی سے) پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا، مارکیٹ میں لیکویڈیٹی، نئی لسٹنگز اور اصلاحات نے اضافہ کیا۔
اسلام آباد: وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی واضح علامت ہے، جو معاشی استحکام، اصلاحات، سرمایہ کاری کے تسلسل اور درمیانی مدت کے معاشی امکانات کی وجہ سے سامنے آئی ہے۔ بدھ کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے بتایا کہ مختلف سیاسی ادوار میں مارکیٹ کی کارکردگی یہ پیغام دیتی ہے کہ سرمایہ کار شور یا سیاسی نعروں پر نہیں بلکہ پائیدار اصلاحات اور قابلِ اعتبار پالیسیوں پر انعام دیتے ہیں۔
مزید یہ بھی : پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی
خرم شہزاد نے اعداد و شمار سے واضح کیا کہ 2023 سے 2025 تک ایس ای 100 انڈیکس میں امریکی ڈالر کی بنیاد پر ریٹرن 161 فیصد اور پاکستانی کرنسی میں 190 فیصد رہی، جو گزشتہ دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔ گزشتہ 18 ماہ میں 135,000 سے زائد نئے سرمایہ کار شامل ہوئے، جبکہ مجموعی سرمایہ کاروں کی تعداد 464,000 سے تجاوز کر گئی ہے اور عوامی مارکیٹ سرمایہ کاروں کی تعداد 1.1 ملین تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ آمدن میں گزشتہ 9 ماہ میں سالانہ تقریباً 14 فیصد اضافہ ہوا اور 2026 میں 16 سے زائد نئی لسٹنگز متوقع ہیں، جس سے مارکیٹ کی لیکویڈیٹی اور وسعت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ مشیر خزانہ نے کیپیٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل کے قیام کو بھی ایک مثبت قدم قرار دیا، جس کا مقصد اصلاحات، سرمایہ کار مراعات، ٹیکس ہم آہنگی اور مارکیٹ انفراسٹرکچر کے ذریعے کیپیٹل مارکیٹ کو مستحکم کرنا ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ پاکستان اب خطے میں اور ایم ایس سی آئی فرنٹیئر مارکیٹس میں دوسرا بہترین کارکردگی دکھانے والا ملک بن چکا ہے، اور موجودہ مارکیٹ تیزی عالمی سطح پر بھی قابلِ غور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹس سیاست کی پیش گوئی نہیں کرتیں بلکہ اعتماد کی قیمت لگاتی ہیں، اور اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آج سرمایہ کار گزشتہ 20 برسوں میں کسی بھی مرحلے کے مقابلے میں معاشی استحکام اور پائیدار اصلاحات پر زیادہ اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔