قسط دوم :کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کی خطیر مالی امداد: سابق ریاستِ بہاولپور کی لاہور پر ناقابلِ فراموش مہربانیاں
برصغیر کی سیاسی، سماجی اور علمی تاریخ میں سابق ریاستِ بہاولپور وہ واحد مسلم ریاست تھی جس نے لاہور اور پنجاب کی علمی و طبی ترقی میں ایسے اَن مٹ نقوش چھوڑے، جو نہ صرف تاریخ کا حصہ ہیں بلکہ آج بھی زندہ اور روشن حوالہ ہیں۔ انہی تاریخی ثبوتوں میں سے ایک 1915ء میں نواب آف بہاولپور کی جانب سے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کو دی گئی خطیر مالی امداد ہے، جو ریاستِ بہاولپور کی عظمت، فیاضی اور دوراندیشی کا درخشندہ باب ہے۔
اس وقت کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کو بڑھتے ہوئے تعلیمی بوجھ، کلینیکل ٹریننگ اور ہسپتال کی گنجائش میں اضافے کے لیے فوری توسیع کی ضرورت تھی۔ برطانوی حکومت نے پورے پنجاب سے چندہ مہم شروع کی، جو اُس دور کے ‘‘ضلع لاہور’’ پر مشتمل تھی، اور جس میں آج کا لاہور، قصور، شیخوپورہ اور امرتسر شامل تھے۔
مزید یہ بھی پڑھیں : ریاستِ بہاولپور کے لاہور اور پنجاب پر تاریخی احسانات:قسط اول کا آغاز
لاہور بھر سے مجموعی چندہ — 1,67,000 روپے
برطانوی ریکارڈ کے مطابق پنجاب کے سرمایہ دار، جاگیردار، ساہوکار، تاجر اور سیاسی شخصیات مل کر صرف 167,000 روپے جمع کرسکے۔
نواب آف بہاولپور کا عطیہ — اکیلے 150,000 روپے
اس کے مقابلے میں ریاستِ بہاولپور کے نواب نے 150,000 روپے (ڈیڑھ لاکھ روپے) اکیلے عطیہ کیے — جو تقریباً لاہور بھر کے چندے کے برابر رقم تھی۔ یہ اس دور کا وہ غیر معمولی عطیہ تھا جو ایک متوسط ضلع کے سالانہ ترقیاتی بجٹ کے برابر سمجھا جاتا تھا۔
اگر آج اس رقم کا سونے سے حساب لگایا جائے تو موجودہ مالیت حیران کن ہوگی۔ کمپیوٹر کے مطابق یہ رقم 48 کلو سونے کے برابر بنتی ہے، جس کی مالیت تقریباً ایک ارب روپے سے زیادہ بنتی ہے — مگر درست حساب وہی کرے جسے قدیم مالیاتی نظام اور گرام فارمولے کا علم ہو۔
برطانوی حکومت کا اعتراف — "King Edward Medical College Bahawalpur”
1916ء میں برطانوی حکومت نے اس خطیر امداد کے اعتراف میں کالج کے توسیعی بلاک پر “King Edward Medical College Bahawalpur” کندہ کروایا۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہاں “لاہور” نہیں لکھا گیا — ریاستِ بہاولپور کے اعزاز میں "Bahawalpur” درج کیا گیا، جو آج بھی عمارت کے اگلے حصے پر موجود ہے۔
ساتھ ہی پٹیالہ بلاک میں سنگِ مرمر کی تختی نصب کی گئی، جس پر نواب صاحب کا نام اور عطیہ شدہ رقم درج ہے۔ یہ تختی آج بھی کنگ ایڈورڈ کے تاریخی ریکارڈ کا ناقابلِ تردید حصہ ہے — ایک ایسی حقیقت جسے کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی۔
یہ واقعہ اس بات کی گواہی ہے کہ ریاستِ بہاولپور نے نہ صرف لاہور بلکہ پورے پنجاب کی علم، طب اور سماجی فلاح کے شعبوں میں ایسی سخاوت کی مثالیں قائم کیں جن کی نظیر کسی دوسری ریاست کے ہاں نہیں ملتی۔
آخر میں چند دوستوں سے درخواست ہے کہ وہ 1915ء کے 150,000 روپے کی آج کے دور میں حقیقی مالیت کا درست حساب نکال کر بتائیں تاکہ یہ ریکارڈ مزید مستند ہوسکے۔ جتنے زیادہ لوگ حساب کریں گے اتنی ہی شفافیت بڑھے گی۔
تیسری قسط جلد پیش کی جائے گی — جاری ہے۔۔۔