پاکستان میں گورننس اور کرپشن کے مسائل برقرار، آئی ایم ایف کی سخت رپورٹ جاری
یوتھ ویژن نیوز: (واصب ابراہیم سے) آئی ایم ایف نے پاکستان میں گورننس اور کرپشن کے نظام پر اپنی تازہ ترین گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں انسدادِ کرپشن سے متعلق اب تک کی جانے والی کوششیں مکمل طور پر کارگر ثابت نہیں ہوئیں اور حکومتی ڈھانچے میں موجود کئی خامیاں بدستور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
انسدادِ کرپشن کی کوششیں غیر مؤثر قرار رپورٹ کے مطابق سرکاری محکموں میں تعینات افسران اہم فیصلے لینے سے گریز کرتے ہیں جس کے نتیجے میں حکومتی معاملات میں تاخیر، غیر یقینی صورتحال اور کمزور پالیسی عمل درآمد سامنے آتا ہے۔
ایف اے ٹی ایف اہداف میں سزاؤں پر پیش رفت سست آئی ایم ایف نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان میں کئی اہم اہداف کامیابی سے حاصل کیے، تاہم سزاؤں کے حوالے سے پیش رفت بہت سست رہی ہے، خصوصاً منی لانڈرنگ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف عدالتوں میں کم فیصلے سامنے آئے ہیں جس سے مالیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ منی لانڈرنگ کیسز میں سزاؤں کی کمی رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ سرکاری اخراجات میں کمی لانے کے لیے مختلف ادوار میں اٹھائے گئے اقدامات خاطر خواہ نتائج نہیں لا سکے اور اداروں میں مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے مزید پائیدار حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں : آئی ایم ایف نے ہمیں آڑے ہاتھوں لیا اورہماری ناک سے لکیریں نکلوائیں، شہبازشریف
▪ سرکاری اداروں میں استعدادکار کا فقدان رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن کے خاتمے کے لیے قائم کئی اداروں میں مطلوبہ استعدادکار اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا فقدان ہے، جبکہ متعدد سرکاری اداروں میں کام عارضی، عبوری یا ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جاتا ہے جس سے پالیسیوں میں تسلسل اور انتظامی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ فیصلہ سازی میں افسران کی کمزوری آئی ایم ایف نے کہا کہ کئی وزارتوں میں موجود افسران متعلقہ شعبوں کی مکمل مہارت نہیں رکھتے جس سے فیصلہ سازی کی رفتار سست اور حکومتی افعال غیر مؤثر ہو جاتے ہیں۔ ٹیکس نظام کی پیچیدگیاں حکومتی ناکامی ظاہر کرتی ہیں رپورٹ میں ٹیکس نظام میں موجود پیچیدگیوں کو بھی حکومتی کمزوریوں کی ایک بڑی مثال قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کے لیے موجود متعدد قوانین، طریقہ کار اور انتظامی مشکلات نہ صرف ریونیو وصولی میں کمی کا باعث بنتی ہیں بلکہ کاروباری ماحول کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
ٹیکس افسران کی کارکردگی کا احتساب ضروری آئی ایم ایف نے زور دیا کہ ٹیکس افسران کی کارکردگی کا مؤثر احتساب ہونا چاہیے تاکہ شفافیت، پیشہ ورانہ دیانت اور ٹیکس وصولی کے عمل میں بہتری لائی جا سکے۔ ادارہ جاتی اصلاحات اور شفافیت ناگزیر رپورٹ کے مطابق پاکستان کو گورننس کے ڈھانچے میں وسیع اصلاحات، ادارہ جاتی مضبوطی، پالیسیوں میں تسلسل، میرٹ پر مبنی تقرریاں، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور انسدادِ کرپشن کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع اقدامات کرنا ہوں گے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پالیسی سازی سے لیکر عمل درآمد تک شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا ناگزیر ہو چکا ہے، ورنہ مالیاتی نظم و ضبط اور اقتصادی استحکام پر دباؤ برقرار رہے گا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ پاکستان کے ادارہ جاتی ڈھانچے اور طرزِ حکمرانی میں موجود خامیوں کو واضح کرتی ہے اور اگر ان نکات پر سنجیدگی سے عمل نہ کیا گیا تو طویل المدتی اقتصادی ترقی ممکن نہیں ہو سکے گی۔ رپورٹ کے بعد حکومتی حلقوں میں بھی اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ادارہ جاتی اصلاحات، رشوت کے خاتمے، ٹیکس نظام کی سادگی اور سرکاری افسران کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ شفافیت اور گورننس کے معیار میں بہتری لائی جا سکے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ مضبوط ہو۔