پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی کی نئی تاریخ 17 نومبر مقرر۔
یوتھ ویژن نیوز : (نمائدہ خصوصی و بیورجیف شہزاد حُسین بھٹی سے) پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت بولی جمع کرانے کی نئی تاریخ 30 اکتوبر سے بڑھا کر 17 نومبر مقرر کر دی گئی ہے۔ وزارتِ نجکاری کے مطابق اب تک چار بڑے کنسورشیم اس مرحلے کے لیے کوالیفائی کر چکے ہیں، جو قومی ایئر لائن کے حصص خریدنے کے لیے دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت پاکستان پی آئی اے کے انتظامی بوجھ کو کم کرنے اور ادارے کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے حتمی فیصلے کے قریب پہنچ چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق، نجکاری کا عمل آئندہ ماہ اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہونے کی توقع ہے۔ وزارتِ خزانہ اور نجکاری کمیشن نے سرمایہ کاروں کی درخواستوں پر غور کرتے ہوئے بولی جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع دی تاکہ دلچسپی رکھنے والے فریقین کو اپنی مالی تجاویز تیار کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کوالیفائی کرنے والے چار کنسورشیم نے حکومت سے کچھ شرائط و ضوابط میں نرمی کی درخواست بھی کی ہے تاکہ نجکاری کے عمل کو شفاف اور عملی طور پر قابلِ عمل بنایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے واضح کر دیا گیا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے باوجود ایئر لائن کی قومی شناخت برقرار رکھی جائے گی۔ طیاروں پر قومی پرچم بدستور موجود رہے گا اور ادارے کا تاریخی نام “پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن” برقرار رکھا جائے گا۔ مزید برآں، نجکاری کے بعد بھی ایئر لائن کی ملکیت پاکستانی شہریوں کے پاس ہی رہے گی، اور کسی غیر ملکی فرد یا ادارے کو اکثریتی شیئرز خریدنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت 51 سے 100 فیصد شیئرز فروخت کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور اس کے مالی خسارے کو ختم کیا جا سکے۔ تاہم، حکومت کی خواہش ہے کہ قومی ایئر لائن کی انتظامی خودمختاری برقرار رہے اور اس کی قومی حیثیت متاثر نہ ہو۔ ماہرین کے مطابق، یہ نجکاری پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا فیصلہ ہے جو مستقبل میں نجی سرمایہ کاری کے دروازے کھول سکتا ہے۔
وزارتِ نجکاری کے حکام کا کہنا ہے کہ نجکاری کے بعد بھی پی آئی اے کے ملازمین کے حقوق اور مراعات کو تحفظ دیا جائے گا۔ اس حوالے سے ایک فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت موجودہ اسٹاف کو نئے انتظامی ڈھانچے میں شامل رکھا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، پی آئی اے کی تنظیمِ نو کے عمل میں ایس آئی ایف سی (اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل) بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے تاکہ تمام عمل شفاف اور تیز رفتاری سے مکمل ہو۔
دوسری جانب، ایوی ایشن انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل اگر شفاف طریقے سے مکمل ہوتا ہے تو یہ پاکستان کے فضائی شعبے کے لیے نیا دور ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، پی آئی اے کو جدید انتظامی نظام، بہتر سروس اسٹینڈرڈز اور مالی ڈھانچے کی ضرورت ہے تاکہ وہ دوبارہ عالمی مارکیٹ میں مسابقت حاصل کر سکے۔ اس وقت پی آئی اے پر اربوں روپے کے قرضے ہیں اور اسے کئی بین الاقوامی روٹس پر نقصان کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے حکومت اس کے مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے نجکاری کو واحد راستہ سمجھتی ہے۔
حکومتی عہدیداروں کے مطابق، پی آئی اے کے ممکنہ خریداروں کو ایئر لائن کی مالی رپورٹوں، اثاثہ جات، اور قرضوں کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم کر دی گئی ہیں۔ نجکاری کمیشن کے مطابق، بولی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی ماہرینِ مالیات اور قانونی مشیروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ بولی کا حتمی نتیجہ آنے کے بعد حکومت اس عمل کو کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کرے گی۔
واضح رہے کہ پی آئی اے کے نجکاری منصوبے پر گزشتہ کئی برسوں سے غور کیا جا رہا تھا لیکن انتظامی مسائل اور سیاسی اختلافات کے باعث یہ عمل بارہا تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔ موجودہ حکومت نے اس منصوبے کو اقتصادی اصلاحات کے اہم ایجنڈے کے طور پر شامل کیا ہے تاکہ قومی اداروں کو خسارے سے نکال کر منافع بخش بنایا جا سکے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر پی آئی اے کی نجکاری بین الاقوامی معیار کے مطابق کی گئی تو اس سے پاکستان میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا، جس کے اثرات دوسرے قومی اداروں کی اصلاحات پر بھی مثبت انداز میں مرتب ہوں گے۔