مستقل اور فوری اقدامات کے بغیر2022تباہ کن ہوسکتا ہے، اقوام متحدہ
جنیوا۔ (قاری عاشق حسین سے ):جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے تعاون انسانی امور نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ مستقل اور فوری اقدامات کے بغیر2022تباہ کن اور تاریک ہوسکتا ہے۔
چینی خبر رساں ادارے کے مطابق ادارے نے گزشتہ روز ’’عالمی انسانی ہمدردی کا جائزہ 2022‘‘بارے شائع کی گئی ایک رپورٹ میں کہا کہ افغانستان کو 27سالوں میں بدترین قحط سالی کے باعث شدید غذائی عدم تحفظ ، سیاسی و معاشی عدم استحکام کا سامنا ہے جہاں 2کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ افراد کو تباہی سے بچنے کے لیے امداد کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق شام میں بنیادی سہولیات کی فراہمی بنیادی طور پر ناکافی ہے اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے، اہم سپلائیز کی کمی اور تیزی سے مالی عدم برداشت کی وجہ سے رکاوٹ کا سامنا ہے جبکہ اگست 2020 میں ایک گھرانے کے اخراجات دستیاب آمدنی سے 20 فیصد زیادہ تھے جو بڑھ کر 50 فیصد ہو گئے ہیں۔
یمن میں شدید غذائی عدم تحفظ کے باعث ایک کروڑ 62لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور ایتھوپیا میں 2کروڑ 59لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ ہیٹی میں کورونا وائرس کی وبا ، 7.2شدت کے زلزلےکے اثرات کے ساتھ ساتھ سماجی اقتصادی، سیاسی اور سلامتی کی صورتحال پریشان کن ہے جس کے باعث ملک کی 43 فیصد آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے ۔
اقوام متحدہ کے تازہ ترین جائزے کے مطابق کورونا وائرس کی وبا نے اضافی 2کروڑ افرادکو شدید غربت میں دھکیل دیا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے 2050 تک21کروڑ 60 لاکھ( 216 ملین) افراد کو اندرونی سطح پر بے گھر ہونا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ خواتین اور لڑکیوں کو تنازعات کے باعث جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہے۔ انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور اثاثوں کے خلاف حملے جاری ہیں۔ 2020 میں انسانی ہمدردی کے117 کارکن ہلاک ہوئے جن میں سے 108 اپنے ہی ملک میں کام کر رہے تھے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مستقل اور فوری اقدامات کے بغیر 2022 تباہ کن ہو سکتا ہے۔