آئی جی پولیس کے بعد چیف سیکرٹری پنجاب نے بھی عہدے سے علیحدہ ہونے کی تیار کر لی
لاہور (ثاقب غوری سے ) پنجاب میں حکومت کی متوقع تبدیلی کی صورت میں اہم انتظامی افسران کی تبدیلی کا بھی امکان ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت کی تبدیلی کی صورت میں پنجاب کے چیف سیکرٹری کامران افضل اور آئی جی پولیس راؤ سردار نے اپنے عہدوں سے علیحدہ ہونے کی تیار کر لی ہے۔وزیراعلیٰ آفس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب نے وفاق میں بھیجنے کی درخواست کی ہے کہ جس کے لیے دونوں افسران نے شہباز حکومت سے درخواست کی ہے۔
چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب نے کچھ دن پہلے وفاقی میں بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ اس سے قبل آئی جی پنجاب نے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز سے وفاق میں تبادلے کی درخواست کی ۔ آئی جی پنجاب راؤ سردار علی کو کل تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز نے آئی جی پنجاب راو سردار علی خا ن کو وفاق میں ٹرانسفر کی حامی بھر لی۔راؤ سردار علی خان کو وفاق میں ٹرانسفر کے بعد ڈی جی آئی بی لگائے جانے کا امکان ہے۔
نئے آئی جی پنجاب کیلئے اے ڈی خواجہ ، فیصل شاہکار اور انعام غنی کے نام سامنے آئے ہیں۔ نئے آئی جی پنجاب کی تعیناتی آج ہی متوقع ہے۔دو روز قبل پی ٹی آئی رہنماء شہباز گل نے پنجاب کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پر آرٹیکل 6 لگانے کا مطالبہ کیا تھا ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری ایماندار آدمی ہیں لیکن ڈرپوک ہیں، آئی جی پنجاب راؤسردار اور چیف سیکرٹری کے خلاف آرٹیکل 6 لگنا چاہیے ، آئی جی اور چیف سیکرٹری کو بغیر مراعات کے ریٹائر کیا جائے، ان کی نسلیں یاد رکھیں، ایسے کرداروں کے خلاف آواز بلند کرتا رہوں گا۔
شہباز گل نے سوال اٹھایا کہ کیا آرٹیکل 6 کی بات صرف سیاست دانوں پر لگنے کی ہو گی؟ کیا آئین سب پر لاگو نہیں ہوتا ؟ آئی جی پنجاب رائوسردار کو فون کر کے کہا تھا کہ اپنا ایڈریس دیں، گاڑی آپ کے ہی نام کر دیتا ہوں، میری گاڑی کے حادثے میں ایک جعلی آدمی نے معافی مانگ لی۔