یہ نہیں ہو سکتا کہ سابق وزیراعلی بحال ہوں:چیف جسٹس پاکستان

سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کی اپیل پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ ہم تحریک انصاف کی پریشانی سے واقف ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ صوبے کو وزیر اعلی کے بغیر رکھا جائے۔ جمہوریت بہتر خدمت کر سکتی ہے جب عوام فیصلہ کریں۔تحریک انصاف کے وکلا تیاری کر لیں آدھے گھنٹے بعد واپس آتے ہیں۔
سپریم کورٹ میں وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف تحریک انصاف کی اپیل پر چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے .
تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج نے فیصلے کیخلاف اختلافی نوٹ لکھا ہے۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ایک جج نے کچھ نکات پر اختلاف کیا ہے۔سادہ سی بات ہے کہ 197 ووٹ حمزہ شہباز نے لیے 25 نکال کر 172 بنتے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے کہا پہلے دوبارہ گنتی کرائیں پھر دوبارہ انتخاب کرا لیں۔تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ انکے ارکان پورے نہیں ہیں۔ تحریک انصاف کی ارکان کا انتظار کرنے کی بات سے متفق نہیں ہوں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے مزید کہا ارکان پورے ہونے یا نہ ہونے کی بات چھوڑ دیں۔ مزید وقت دینے سے متعلق کچھ کہنا ہے تو بتا دیں۔
بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا تمام ارکان ووٹنگ کے وقت موجود ہونے چاہیں۔ شفاف انتحاب کو بھی یقینی بنایا جائے۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے تحریک انصاف کی اپیل میں یہ تو استدعا بھی نہیں۔لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ تو پی ٹی آئی کے حق میں ہوا ہے۔پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ مزید وقت دیا جائے۔کس اصول کے تحت ہم لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں مداخلت کریں۔
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دئیے تحریک انصاف نے اپیل میں لکھا کہ کچھ ارکان عمرے پر ہیں کچھ شادی وغیرہ پر گئے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کتنے وقت میں تمام ارکان پہنچ سکتے ہیں؟ وکیل بابر اعوان نے جواب دیا تحریک انصاف الیکشن میں حصہ لینے کیلئے تیار ہے۔ وزیر اعلی کے انتخاب کیلئے سات دن کا وقت دیا جائے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ سات روز کا وقت مناسب نہیں ہے۔ 24 گھنٹے کا وقت ارکان کو ووٹنگ کیلئے پہنچنے کیلئے کافی ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے آپ چاہتے ہیں 7روز تک پنجاب میں کوئی وزیر اعلی نہ ہو،یا تحریک انصاف چاہتی ہے کہ حمزہ شہباز سات روز تک وزیر اعلی ہوں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایا کہ اگر وزیر اعلی نہ ہو تو کون صوبہ چلائے گا جس پر وکیل تحریک انصاف نےکہا سینئر وزیر صوبے کو چلاسکتا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے ہائیکورٹ نے کہا ہے 197 میں سے 25 ووٹ نکال دی۔ 25ووٹ نکالنے کے بعد حمزہ شہباز کا انتخاب درست نہیں رہتا۔انتخاب کے دوسرے راؤنڈ میں سادہ اکثریت یعنی 186 کی ضرورت نہیں۔وزیر اعلی کے بغیر صوبے کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعلی کی عدم دستیابی پر کون انکی جگہ لے گا۔ چیف جسٹس نے کہا ہائیکورٹ چاہتی ہے کہ صوبے میں حکومت قائم رہے۔ کیا پنجاب میں قائم مقام وزیراعلی والا فارمولا اپلائی ہو سکتا ہے؟ یہ نہیں ہو سکتا کہ سابق وزیراعلی بحال ہوں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ تحریک انصاف کوئی جواز بتائے کہ کس بنیاد پر آج 4 بجے ہونے والا انتخاب روکا جائے۔اگر وزیراعلی کے پاس 186 ووٹ نہیں تو انکا فی الحال برقرار رہنا مشکل ہے۔
وکیل بابر اعوان نے کہا پنجاب میں ایک قائم مقام کابینہ تشکیل دی جا سکتی ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔تحریک انصاف قائل کرے کہ کیوں آج ہونے والا انتخاب روکیں یا مزید وقت دیں؟
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سوال یہ ہے کہ کیا لاہور ہائیکورٹ کا انتحاب کیلئے دیا گیا وقت کافی ہے یا نہیں؟چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہم تحریک انصاف کی پریشانی سے واقف ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ صوبے کو وزیر اعلی کے بغیر رکھا جائے۔ جمہوریت بہتر خدمت کر سکتی ہے جب عوام فیصلہ کریں۔
چیف جسٹس پاکستان نے مزید ریمارکس دئیے کہ میرے خیال میں گورنر عبوری کام کرے تو یہ غیر آئینی ہوگا۔ تحریک انصاف چاہتی کہ حمزہ شہباز کام نہ کرے پھر کون انکی جگہ ہوگا؟۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کر دیا۔چیف جسٹس پاکستان نے ریماکس دیئے کہ تحریک انصاف کے وکلا تیاری کر لیں آدھے گھنٹے بعد واپس آتے ہیں۔
دوسری جانب سماعت میں وقفے کے دوران پی ٹی آئی وکلا اور رہنماؤں میں مشاورت جاری ہے۔ سپریم کورٹ میں کیا جواب دیا جائے،تحریک انصاف کے رہنماؤں نے سر جوڑ لئے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں