یورپی یونین نے ’ایکس‘ پر 120 ملین یورو جرمانہ عائد کر دیا
یوتھ ویژن نیوز : (عفان گوہر نمائدہ خصؤصی برائے ٹیک انفارمیشن سے) یورپی یونین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کی خلاف ورزی پر 120 ملین یورو جرمانہ عائد کر دیا، امریکا کی جانب سے سخت ردعمل، جبکہ کمیشن نے کارروائی کو قانونی قرار دیا۔
یورپی یونین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کی شفافیت سے متعلق دفعات کی خلاف ورزی پر 120 ملین یورو کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا یہ فیصلہ نہ صرف ڈی ایس اے کے تحت اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی ہے بلکہ آزادیٔ اظہار، پلیٹ فارم شفافیت اور ٹیک کمپنیوں کے ریگولیٹری مستقبل سے متعلق نئی بحث بھی چھیڑ رہا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یورپی کمیشن نے دو سالہ تحقیقات کے بعد ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر 1 کروڑ 20 لاکھ یورو (140 ملین ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا۔ تحقیق میں تین مختلف شفافیت سے متعلق دفعات کی خلاف ورزی سامنے آئی۔
ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) ایک جامع قانونی فریم ورک ہے جو بڑے آن لائن پلیٹ فارمز کو صارفین کے تحفظ، نقصان دہ اور غیر قانونی مواد کے ہٹانے، اور پلیٹ فارم شفافیت کے سخت تقاضوں کا پابند بناتا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کمپنی کو رسمی طور پر نان کمپلائنٹ قرار دیتے ہوئے اتنے بڑے جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔
خلاف ورزیوں کی تفصیل
یورپی کمیشن کے مطابق:
بلیو چیک مارک سسٹم
ایلون مسک کی جانب سے بلیو ٹک کو شناخت کی تصدیق کے بجائے ’خریدے جانے‘ والا فیچر بنا دیا گیا، جس سے صارفین گمراہ ہو سکتے ہیں۔
اشتہارات کے ڈیٹا بیس میں شفافیت کا فقدان
ایکس کے اشتہارات میں واضح نہیں ہوتا کہ اشتہار کس نے دیا، کیوں دیا اور اسے کس گروپ تک پہنچایا جا رہا ہے۔
محققین کے لیے عوامی ڈیٹا تک رسائی میں رکاوٹیں
کمیشن کے مطابق عوامی ڈیٹا بلاک ہونے سے غلط معلومات اور سیکیورٹی خطرات کی نشاندہی مشکل ہو جاتی ہے۔
کمیشن نے کہا کہ ان خامیوں کے باعث صارفین کا اعتماد متاثر ہوتا ہے اور پلیٹ فارم پر دھوکے، ہیرا پھیری اور غلط معلومات کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
ایلون مسک کا سخت ردِعمل
فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ایلون مسک نے کہا:
”یہ عجیب و غریب جرمانہ صرف ایکس پر نہیں، بلکہ مجھ پر ذاتی طور پر لگایا گیا ہے۔ یہ مزید پاگل پن ہے!“
انہوں نے کہا کہ ایکس کا ردعمل یورپی یونین تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان افراد تک بھی پہنچنا چاہیے جنہوں نے ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔
امریکی حکومت بھی میدان میں آگئی
فیصلے پر امریکا کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ اقدام “تمام امریکی ٹیک پلیٹ فارمز پر حملہ” ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایکس پر لکھا:
”یورپی یونین کو ایسی ’بکواس بنیادوں‘ پر امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کے بجائے آزادیٔ اظہار کی حمایت کرنی چاہیے۔“
امریکہ کی سابق ٹرمپ انتظامیہ بھی یورپی ڈیجیٹل قوانین کو امریکی کمپنیوں کے خلاف جانبدار قرار دیتی رہی ہے۔
یورپی یونین کی وضاحت
یورپی کمیشن نے امریکی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی مکمل طور پر قانونی تقاضوں کے تحت کی گئی ہے اور کسی کمپنی کو اس کے ملک کی بنیاد پر ٹارگٹ نہیں کیا جاتا۔
کمیشن کے ترجمان تھامس ریگنیئر نے کہا:
”ہم کسی کمپنی کے ملکِ حوالہ کی بنیاد پر کارروائی نہیں کرتے، قوانین سب پر یکساں ہیں۔“
ایکس کی جانب سے تاخیر
ابھی تک ایکس انتظامیہ نے اس فیصلے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم کے اشتہاری ڈیٹا بیس، ڈیٹا ایکسیس سسٹمز اور شفافیت کے دیگر آلات ڈی ایس اے کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔
ٹک ٹاک سے متعلق تازہ پیش رفت
دلچسپ طور پر یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب یورپی یونین نے ٹک ٹاک کے خلاف کارروائی روک دی ہے کیونکہ پلیٹ فارم نے سیاسی و تجارتی اشتہارات کی شفافیت بہتر بنانے پر اتفاق کیا ہے۔