ہالی ووڈ کی عظیم اداکارہ ڈائنا کیٹن 79 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں — فلمی دنیا سوگ میں ڈوب گئی
کیلیفورنیا (یو تھ وژن نیوز) : ہالی ووڈ کی معروف اور آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ ڈائنا کیٹن 79 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈائنا کیٹن کے خاندانی ذرائع نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ہفتہ کے روز کیلیفورنیا میں اپنے گھر پر انتقال کر گئیں۔ ان کی وفات کی خبر نے مداحوں اور فلم انڈسٹری کو گہرے صدمے اور غم میں مبتلا کر دیا ہے۔
ڈائنا کیٹن نے اپنی شاندار اداکاری اور منفرد طرزِ گفتگو سے نہ صرف امریکی بلکہ عالمی سینما میں نا قابلِ فراموش مقام حاصل کیا۔
ان کی 1977 کی کلاسک فلم ”اینی ہال “(Annie Hall) نے ہالی ووڈ کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ اسی فلم میں شاندار کارکردگی پر انہیں بہترین اداکارہ کا آسکر ایوارڈ دیا گیا، جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
فلمی سفر کا آغاز
ڈائنا کیٹن نے 1970 کی دہائی میں ہالی ووڈ میں قدم رکھا، اور جلد ہی اپنی قدرتی اداکاری، منفرد فیشن اسٹائل اور اظہار کی سادگی کی وجہ سے پہچانی جانے لگیں۔
ان کا فلمی سفر کئی دہائیوں پر محیط رہا جس کے دوران انہوں نے معروف ہدایتکار ووڈی ایلن (Woody Allen) کے ساتھ متعدد کامیاب فلموں میں کام کیا۔
“اینی ہال” کو نہ صرف بہترین فلم بلکہ بہترین ہدایتکار اور بہترین اسکرین پلے کے ایوارڈز بھی ملے، جس سے ڈائنا کیٹن کا نام فلمی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے درج ہو گیا۔
گاڈ فادر میں یادگار کردار
ڈائنا کیٹن کی فنی زندگی میں سب سے نمایاں کرداروں میں سے ایک “دی گاڈ فادر” (The Godfather) سیریز میں کے ایڈمز کارلیون (Kay Adams Corleone) کا کردار تھا، جو انہوں نے عالمی شہرت یافتہ اداکار ال پچینو کے مقابل ادا کیا۔
اس کردار نے انہیں نہ صرف مقبولیت بلکہ فلمی تاریخ کی سب سے مضبوط خواتین کرداروں میں شمار کروایا۔
“گاڈ فادر پارٹ II” میں ان کی اداکاری کو آج بھی کلاسک مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
کامیڈی فلموں میں بے مثال کارکردگی
ڈائنا کیٹن نے ڈرامہ اور سنجیدہ کرداروں کے ساتھ ساتھ کامیڈی فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔
1991 کی مشہور کامیڈی فلم “فادر آف دی برائڈ” (Father of the Bride) میں انہوں نے ایک محبت کرنے والی مگر فکرمند ماں کا کردار نبھایا، جو اپنی بیٹی کی شادی کی تیاریوں میں خوشی اور الجھن کے درمیان الجھی رہتی ہے۔
ان کے قدرتی تاثرات اور نرم مزاجی نے انہیں فیملی کامیڈی فلموں کی پسندیدہ اداکارہ بنا دیا۔
زندگی کے آخری برس اور فنی وراثت
اپنی زندگی کے آخری برسوں میں ڈائنا کیٹن نے عمر رسیدہ خواتین کے احساسات اور تجربات پر مبنی فلموں میں کام کیا۔
ان کی فلمیں "Something’s Gotta Give”، "Morning Glory” اور "Book Club” خواتین کی خوداعتمادی، محبت اور زندگی کے نئے مفاہیم کی نمائندگی کرتی ہیں۔
یہ کردار ناظرین کو یہ پیغام دیتے رہے کہ عمر کبھی بھی خواب دیکھنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
ڈائنا کیٹن نے اپنی خودنوشت میں لکھا تھا،
“زندگی ایک فلم کی طرح ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس کا اختتام ہمیشہ غیر متوقع ہوتا ہے۔”
ان کے یہ الفاظ آج ان کے مداحوں کے دلوں میں گونج رہے ہیں۔
مداحوں کا ردعمل
ڈائنا کیٹن کے انتقال کی خبر کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں نے افسوس اور خراجِ تحسین کے پیغامات شیئر کیے۔
ہالی ووڈ کے کئی اداکاروں نے انہیں “ایک شفیق دوست، مضبوط خاتون اور لازوال فنکارہ” قرار دیا۔
اداکار رابرٹ ڈی نیرو نے اپنے بیان میں کہا،
“ڈائنا کے ساتھ کام کرنا ایک اعزاز تھا۔ وہ ہر منظر میں جان ڈال دیتی تھیں۔ ان کی کمی ہمیشہ محسوس ہوگی۔”
مشہور ہدایتکار ووڈی ایلن نے کہا،
”ڈائنا میری فلمی زندگی کا سب سے روشن باب تھیں۔ ان کی مسکراہٹ، ان کی توانائی اور ان کا فن کبھی ماند نہیں پڑے گا۔“
دنیا بھر میں سوگ
امریکہ سمیت دنیا بھر کے فلمی شائقین نے ڈائنا کیٹن کے فن اور شخصیت کو خراج عقیدت پیش کیا۔
کیلیفورنیا میں ان کے گھر کے باہر مداحوں نے پھول رکھ کر انہیں الوداع کہا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈائنا کیٹن کی یاد میں ہالی ووڈ واک آف فیم پر خصوصی شمعیں روشن کی جا رہی ہیں۔
ڈائنا کیٹن کا شمار ان اداکاراؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہالی ووڈ کی خواتین کو نئی شناخت دی — ایک مضبوط، خودمختار اور باوقار عورت کی جو صرف کردار نہیں نبھاتی بلکہ اپنے عمل سے تحریک دیتی ہے۔
ان کی فلمیں آج بھی نئی نسل کے فنکاروں کے لیے اداکاری کا نصاب سمجھی جاتی ہیں۔