گورنر اسٹیٹ بینک کا انکشاف: پاکستان کے بیرونی قرضوں میں کمی، ڈیٹ ٹو جی ڈی پی تناسب 26 فیصد تک آگیا.

pakistan-external-debt-decline-state-bank-governor-jameel-ahmed

یوتھ ویژن نیوز : (عمر اسحاق چشتی سے) جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کے بیرونی قرضوں میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ کمی آئی ہے، ڈیٹ ٹو جی ڈی پی تناسب 31 سے کم ہو کر 26 فیصد ہو گیا۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کے بیرونی قرضوں میں 2022ء کے بعد کوئی اضافہ نہیں ہوا بلکہ قرضوں کے بوجھ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ڈیٹ ٹو جی ڈی پی کا تناسب 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد کی سطح تک نیچے آ گیا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2015ء سے 2022ء تک پاکستان کے بیرونی قرضوں میں سالانہ اوسطاً 6.4 ارب ڈالر اضافہ ہوتا رہا جس سے معیشت پر بوجھ بڑھتا رہا، تاہم حالیہ برسوں میں بہتر مالی نظم و ضبط، بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور اقتصادی اصلاحات کے باعث قرضوں کا مجموعی بوجھ قابو میں آیا ہے۔

گورنر نے وضاحت کی کہ موجودہ مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہے گا، جو ایک مستحکم اور متوازن معاشی تصویر پیش کرتا ہے، حالانکہ درآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن حکمت عملی کے نتیجے میں بیرونی کھاتہ مجموعی طور پر کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی ترسیلاتِ زر رواں مالی سال 40 ارب ڈالر کا ریکارڈ عبور کر جائیں گی، جب کہ گزشتہ مالی سال ملک کو 38 ارب ڈالر ترسیلات موصول ہوئی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نومبر 2024ء سے اکتوبر 2025ء تک خواتین کے لیے 50 ارب روپے کی خصوصی فنانسنگ کا ہدف رکھا گیا تھا تاکہ خواتین کاروباری افراد، خود روزگار خواتین اور گھریلو سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے، اس کے ساتھ ہی ملک میں ایس ایم ایز فنانسنگ بھی سالانہ بنیادوں پر نمایاں رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ جمیل احمد نے بتایا کہ گزشتہ سال چھوٹے اور درمیانے کاروباروں (SMEs) کے لیے بینکنگ سیکٹر کی جانب سے 550 ارب روپے کی فنانسنگ فراہم کی گئی تھی جو اب بڑھ کر 700 ارب روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروباری ماحول بہتر ہو رہا ہے اور مالیاتی ادارے چھوٹے کاروباروں کی معاونت میں زیادہ فعال ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط ترسیلات، بہتر برآمدات، مستحکم کرنٹ اکاؤنٹ اور قرضوں میں اضافے کے عمل کے رکنے سے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، جبکہ حکومت اور اسٹیٹ بینک معیشت کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے مشترکہ پالیسی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گورنر کا کہنا تھا کہ مالیاتی شعبے میں استحکام لانے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں قرضوں پر انحصار کم ہو رہا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آ رہی ہے اور سرمایہ کاری کے رجحانات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات، معاشی نظم و ضبط اور مثبت اقتصادی اشاریے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان مستقبل میں قرضوں کے بہتر انتظام اور معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے زور دیا کہ معیشت کو درپیش چیلنجز کے باوجود مجموعی طور پر بہتری کے آثار واضح ہیں اور مسلسل پالیسی عمل درآمد کے ذریعے معاشی استحکام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مستقبل میں پاکستان کے بیرونی قرضوں کا بوجھ مزید کم ہوگا اور ترسیلات، برآمدات اور گھریلو پیداوار میں بہتری سے معاشی بنیادیں مزید مضبوط ہوں گی، جس سے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں