ڈی آئی خان میں پولیس ٹریننگ اسکول پر دہشتگردوں کا حملہ، 7 اہلکار شہید، 5 حملہ آور ہلاک
یوتھ ویژن نیوز : (نمائندہ خصوصی اور بیورچیف شہزاد حُسین بھٹی سے) خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ اسکول پر دہشتگردوں کے حملے میں 7 بہادر اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا، جب کہ جوابی کارروائی میں 5 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور بہادری پر مبنی کارروائی کے باعث ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔
ڈی ایس پی حافظ محمد عدنان کے مطابق دہشتگردوں نے گزشتہ رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے پولیس ٹریننگ اسکول ڈی آئی خان پر حملہ کیا۔ حملے کے فوری بعد علاقے میں سائرن بج اٹھے اور پولیس و سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ آپریشن شروع کر دیا۔ آپریشن رات گئے تک جاری رہا اور آخرکار تمام دہشتگردوں کو ہلاک کر کے عمارت کو کلیئر کروا لیا گیا۔
دہشتگردوں کے پیچھے افغانستان جائیں گے ،کالعدم ٹی ٹی پی سے حساب برابر ہوگا، وزیر دفاع خواجہ آصف
ڈی ایس پی کے مطابق حملے میں 7 اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے جنہوں نے ملک و قوم کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان اہلکاروں کی قربانی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پاکستان کی پولیس اور سیکیورٹی فورسز ملک کے دفاع کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں۔
ڈی جی پبلک ریلیشنز خیبرپختونخوا پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران تقریباً 200 پولیس ریکروٹس اور جوانوں کو محفوظ طریقے سے ریسکیو کر لیا گیا۔ ڈی جی پی آر کے مطابق دہشتگردوں نے اسکول کے ساتھ موجود نادرا آفس پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دونوں عمارتوں کو کلیئر کرا لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے دوران دہشتگردوں کے پاس جدید خودکار اسلحہ موجود تھا، اور وہ عمارت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، مگر پولیس اہلکاروں نے بہادری سے ان کی پیش قدمی روکی۔ واقعے کے دوران علاقے میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
آپریشن کے اختتام پر بم ڈسپوزل اسکواڈ (BDS) نے علاقے کا مکمل سرچ آپریشن کیا اور تمام مشکوک اشیاء کو تحویل میں لے لیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق دہشتگردوں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے بتایا جا رہا ہے، جو جنوبی خیبرپختونخوا میں حالیہ ہفتوں کے دوران سرگرم تھی۔
پولیس حکام کے مطابق حملے کا مقصد ٹریننگ اسکول کو نشانہ بنا کر فورسز کے مورال کو کمزور کرنا تھا، تاہم جوانوں نے اپنی جانیں قربان کر کے یہ پیغام دیا کہ قوم اور فورسز دہشتگردی کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، علی امین گنڈا پور نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا ہے اور شہداء کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہمارے جوان قوم کے محافظ ہیں، ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔”
صدر مملکت، وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ اور چیئرمین تحریکِ انصاف نے بھی اس بہیمانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں نے ڈی آئی خان کے اس سانحے کو قومی اتحاد اور دہشتگردی کے خلاف عزم کی ایک بڑی آزمائش قرار دیا ہے۔
دہشتگردی کے اس واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، داخلی و خارجی راستوں پر چیک پوسٹس بڑھا دی گئی ہیں جبکہ انٹیلی جنس اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی خیبرپختونخوا میں یہ حملہ اس بات کا عندیہ ہے کہ دہشتگرد عناصر دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ریاستی اداروں کی بروقت کارروائی نے ان کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔
پاکستانی قوم نے ایک مرتبہ پھر اپنے شہداء کو سلامِ عقیدت پیش کیا ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر امن کے مشن کو برقرار رکھا۔ ملک بھر میں پولیس لائنز اور تربیتی مراکز میں شہداء کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔