وزیراعظم پاکستان کی بھارت کو نتیجہ خیزمذاکرات کی دعوت

تحریر…… نوید نعمان

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم خطے کی خوشحالی اور امن کے لیے بھارت کے ساتھ بات چیت کرنے کو بالکل تیار ہیں لیکن سنجیدہ ، بامعنی اورنتیجہ خیز مذاکرات کے لیے بھارت کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔قازقستان میں ہونے والے ایشیا میں روابط و اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق سربراہی اجلاس (سیکا) سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے ہم منصبوں، بھارتیوں کے ساتھ سنجیدہ بات چیت اور بات چیت کے لیے بالکل تیار ہوں، بشرطیکہ وہ اس مقصد کے لیے خلوص کا مظاہرہ کریں اور یہ ظاہر کریں کہ وہ ایسے مسائل پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں سے ہمارے درمیان فاصلے رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے والے مسائل نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں رکاوٹ ڈالی انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’اسے روکنے کی ضرورت ہے‘ لیکن یہ بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بامعنی اور نتیجہ خیزرابطوں کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پر امن تعلقات کا خواہاں ہے، 7 دہائیوں سے بھارت کشمیر کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی قرادادوں کو نظر انداز کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھارت اپنی اقلیتوں، ہمسایہ ممالک، خطے اور خود اپنے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے،اس کے باوجود ہم بھارت سے بات چیت کے لیے تیار ہیں کیوں کہ ہم خطے میں مزید غربت، بے روزگاری کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں اپنے عوام کو صحت، تعلیم اور روزگار فراہم کرنے کےلئے زیادہ وسائل مختص کرنے کی ضرورت ہے، ہم بھارت کے ساتھ بات چیت کےلئے تیار ہیں لیکن سنجیدہ ، بامعنی اورنتیجہ خیز مذاکرات کے لیے بھارت کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان کو اس وقت بدترین قدرت آفت کا سامنا ہے، بے مثال بارشوں نے میرے ملک کے ایک تہائی حصے کو ڈبو دیا ہے جو بلا شک و شبہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیں کے اثرات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تخمینےکے مطابق ہماری معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا ہے اور میں نے گزشتہ کئی ہفتوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جا کر اس تباہی کا خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی جانب سے تمام تر وسائل کا رخ ریسکیو، ریلیف اور ری ہیبلیٹیشن کی جانب موڑ دیا ہے لیکن ہمارے پاس کافی امداد نہیں، موسمیاتی تبدیلی کی طاقت نے ہم پر غلبہ پالیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ چیز جو اس صورتحال کو مزید اندوہناک بنا رہی ہے وہ یہ ہے کہ حالانکہ پاکستان عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں صرف ایک فیصد کا ذمہ دار ہے لیکن پھر میں ہم ان 10 ممالک میں شامل ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ اس تباہی نے پاکستان کو کئی دہائی پیچھے دھکیل دیا ہے، بچوں سمیت ایک ہزار 600 سے زائد پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، ہزاروں کلومیٹر طویل سڑکیں بہہ گئیں، پورے پورے گاؤں پانی میں ڈوب گئے، کپاس، چاول اور گندم کی فصلیں تباہ ہوئیں۔
کہ ہم نے 80 ہزار سے زائد انسانی جانوں اور ڈیڑھ سو ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کیا اور بالآخر ہم دہشت گردی کو ہر صورت میں شکست دینے میں کامیاب رہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک پرامن، مضبوط اور خوشحال افغانستان نہ صرف پاکستان، خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے مفید ہوگا، ہم دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پائیدار امن، استحکام اور ترقی کی جدوجہد میں افغان عوام کی مدد کریں۔یاد رہے کہ 17 اپريل 2022 کووزیر اعظم شہباز شریف نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا جس میں ان سے جموں و کشمیر کے تنازع کوحل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر بامقصد مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔وزیر اعظم شہبازشریف نے خط میں لکھا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کے لیے پر عزم ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہماری قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہماری کوششوں کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ عوام کی ترقی کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان پر امن اور تعاون پر مبنی تعلقات ناگزیر ہیں۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کی منزل اور مقصد مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر بامقصد مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

وزیر اعظم شہبازشریف نے بھارتی ہم منصب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئیے امن کو محفوظ بنائیں اور عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کریں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے منتخب ہونے پر نیک خواہشات کے اظہار پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔

خیال رہے کہ بھارتی وزیراعطم نریندر مودی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں شہباز شریف کو 11 اپریل کو بطور وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی تھی,بھارتی وزیر اعظم نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ہندوستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔وزیر اعظم شہباز نے بھی ٹوئٹر پر ان کے اس پیغام کا جواب دیا تھا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تہنیتی پیغام پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ پرامن اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔بھارتی وزیراعظم نے مزید لکھا تھا کہ بھارت کی خواہش ہے کہ خطے میں امن اور استحکام ہو تاکہ ہم ترقیاتی چیلنجز اور لوگوں کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرسکیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا اپنے ایک پیغام میں کہنا تھا کہ جموں و کشمیر سمیت دیرینہ تنازعات کا پرامن حل ناگزیر ہے۔ شہباز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ ‘ پرامن اور تعاون پر مبنی تعلقات’ چاہتا ہے جس کے لیے تنازعہ کشمیر کا حل ‘ناگزیر’ ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم منختب ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر کے دوران شہباز شریف نے بھارت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم بھارت کے ساتھ پر امن دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل تک خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ہم کشمیر کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے، ہم کشمیر کے لوگوں کی ہر سطح پر سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے انہوں نے بھارتی وزیراعظم کو مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئیں ہم دونوں ممالک کے مسائل کے حل کےلیے، ان کو غربت اور پسماندگی سے نکالنے کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور کشمیر کے عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کریں۔یاد رہے کہ سیکا 1992 میں قائم کیا گیا بین الحکومتی ادارہ ہے جس میں ایشیا کے 27 ممالک شامل ہیں، سیکا ایشیا میں امن، سلامتی اور سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینے پر توجہ رکھتا ہے اور پاکستان سیکا کے بانی ارکان میں سے ایک ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں