سندھ کی تمام سرکاری جامعات کے ملازمین کی ڈگریوں کی HEC سے لازمی تصدیق کا حکم
یوتھ ویژن نیوز : سندھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے تمام سرکاری جامعات کے ملازمین کی ڈگریوں کی HEC سے لازمی تصدیق تین ماہ میں کرانے کا حکم دے دیا۔
سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے صوبے کی تمام سرکاری جامعات کے ملازمین کی تعلیمی اسناد تین ماہ کے اندر اندر ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے تصدیق کرانے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جعلی ڈگریوں کے ذریعے بھرتیوں کا سلسلہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں 10 ملازمین کے جعلی اسناد کے ساتھ بھرتی ہونے کا انکشاف سامنے آنے کے بعد کیا گیا، جس نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے نظامِ بھرتی اور نگرانی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین نثار احمد کھوڑو نے کی جس میں ڈاؤ یونیورسٹی کے سال 2022ء تا 2025ء آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
آڈٹ افسران نے نشاندہی کی کہ ڈاؤ یونیورسٹی اپنے ملازمین کی تنخواہوں پر سالانہ دو ارب 33 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے، اس کے باوجود مختلف ادوار میں بھرتیاں تعلیمی اسناد کی باقاعدہ تصدیق کے بغیر کی گئیں، جس سے جعلی بھرتیوں کا راستہ ہموار ہوا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر نازلی حسین نے کمیٹی کو بتایا کہ یونیورسٹی کے 3500 ملازمین میں سے 2500 کنٹریکٹ پر ہیں اور ان کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ اب تک 10 ملازمین کی اسناد جعلی ثابت ہونے پر ان کی ملازمتیں ختم کر دی گئی ہیں جبکہ دو مزید افراد کو فائنل شوکاز جاری کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران لاڑکانہ میونسپل کارپوریشن کے آڈٹ پیراز کا بھی جائزہ لیا گیا جہاں آڈٹ حکام نے اعتراض اٹھایا کہ پینشنرز کو لائف سرٹیفکیٹ اور نو میریج سرٹیفکیٹ کے بغیر پینشن ادا کی جا رہی ہے۔ میونسپل کمشنر کے مطابق کارپوریشن کے 1150 ملازمین اور 150 پینشنرز میں سے صرف 34 کے تصدیقی سرٹیفکیٹس آڈٹ میں پیش کیے گئے، جس پر رکن پی اے سی طاحہ احمد نے کہا کہ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ باقی پینشن کی ادائگیاں شفاف نہیں اور جعلی ادائیگیوں کا قوی امکان موجود ہے۔ چیئرمین نثار کھوڑو نے اجلاس کے دوران سوال اٹھایا کہ جب کے ایم سی (KMC) نے جعلی تنخواہوں اور پینشن کے اجرا روکنے کے لیے SEAMS/SEAP جیسے ڈیجیٹل سسٹم نافذ کیے تو باقی لوکل کونسلز میں یہ نظام کیوں رائج نہیں کیا گیا؟ اس پر ایڈیشنل سیکریٹری بلدیات نے بتایا کہ فروری یا مارچ 2026ء تک حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص اور شہید بینظیر آباد میں تمام لوکل کونسلز کی تنخواہیں اور پینشن SEAP ڈیجیٹل سسٹم کے تحت آن لائن کر دی جائیں گی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جعلی بھرتیوں اور جعلی پینشن کی ادائیگیوں کی روک تھام کے لیے پہلے مرحلے میں صوبے بھر کی میونسپل کارپوریشنز کی تنخواہیں اور پینشن فوری طور پر SEAP سسٹم کے تحت آن لائن منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا، جبکہ یونیورسٹیوں کے لیے بھی اسناد کی لازمی تصدیق کا عمل تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔