خوشبوؤں کے پیرھن میں خوبصورت رات تھی

خوشبوؤں کے پیرھن میں خوبصورت رات تھی
نور کی برسات میں وہ نور کی سوغات تھی
نور کے ہالے میں پنہاں آپ کی ہی ذات تھی
نور کے پیکر نے مجھ سے بات کی وہ نعت تھی
ڈاکٹر شہناز مزمل

اپنا تبصرہ بھیجیں