خانہ کعبہ خلا سے بھی روشن دکھائی دینے لگا، ناسا کے خلا باز کی حیرت انگیز تصویر وائرل

kaaba-from-space-nasa-photo-viral

یوتھ ویژ ن نیوز : (نمائدہ خصؤصی امجد محمود بھٹی سے) ناسا کے خلا باز ڈان پیٹیٹ نے خلا سے مکہ کی تصویر شیئر کی جس میں خانہ کعبہ ایک روشن نقطے کی طرح دکھائی دیتا ہے، تصویر وائرل ہو گئی اور عالمی سطح پر دلچسپی کا باعث بنی۔

ناسا کے خلا باز ڈان پیٹیٹ کی جانب سے شیئر کی گئی ایک حیرت انگیز تصویر نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے، جس میں سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ کا فضائی منظر خلا سے دکھایا گیا ہے۔ اس شاندار تصویر میں زمین سے تقریباً 400 کلومیٹر اوپر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) سے لی گئی جھلک میں خانہ کعبہ ایک روشن نقطے کی طرح چمکتا ہوا نظر آتا ہے، جو عملی طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ اسلام کا مقدس ترین مقام خلا کی تاریکی میں بھی اپنی روحانی چمک برقرار رکھتا ہے۔

ڈان پیٹیٹ، جو حال ہی میں اپنی آئی ایس ایس مہم سے زمین پر واپس آئے ہیں، نے یہ تصویر کپولا ونڈو سے ہائی ریزولوشن نائیکن کیمرے کے ذریعے لی۔ تصویر میں مکہ کی پھیلی ہوئی روشنی، شہر کی پرواز کرتی بلندی، اور مسجد الحرام کی عظیم الشان عمارت پوری وضاحت کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا: “یہ مکہ ہے… وسط میں جو روشن نقطہ نظر آ رہا ہے، وہ کعبہ ہے — جو خلا سے بھی دکھائی دیتا ہے۔” یہ تصویر دیکھتے ہی عالمی سطح پر وائرل ہو گئی اور مسلمانوں سمیت دنیا بھر میں تعریفوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

ماہرین کے مطابق خانہ کعبہ کی روشنی مصنوعی اور قدرتی دونوں ذرائع سے 24 گھنٹے برقرار رہتی ہے، جس کی وجہ سے یہ خلا میں بھی واضح دکھائی دیتا ہے۔ مسجد الحرام کے اندر اور اردگرد نصب لاکھوں روشنیوں کے علاوہ سورج کی شعاعیں بھی اس مقام کو نمایاں کرتی ہیں، جس کے باعث خلا سے دیکھنے پر مکہ ایک روشن دائرے کی طرح نظر آتا ہے جبکہ کعبہ اپنی مخصوص ساخت اور روشنی کے باعث سب سے زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے۔

رات کے وقت یہ منظر مزید دلکش ہو جاتا ہے کیونکہ شہر کی روشنی، فضائی آلودگی اور لاکھوں ایل ای ڈی لیمپس کی چمک آسمان کی طرف اٹھتی ہے، جس سے آئی ایس ایس پر موجود حساس کیمرے نہایت باریکی سے منظر ریکارڈ کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلا سے مکہ دیگر اطراف کے مقابلے میں زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے۔ڈان پیٹیٹ نے اس تصویر میں ایک خاص فوٹوگرافی تکنیک استعمال کی، جس میں آئی ایس ایس کی 28 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل نمائش (Long Exposure) کا استعمال کیا گیا۔ اس تکنیک سے نہ صرف مکہ کے پہاڑی راستے بلکہ شہر کی ساخت اور مسجد الحرام کے گرد موجود تمام تفصیلات واضح انداز میں دکھائی دیں۔

خانہ کعبہ کا مقدس مقام اپنی روحانی حیثیت کے باعث ہمیشہ سے منفرد اہمیت رکھتا ہے، تاہم اس تصویر نے اسے ایک نئے زاویے سے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے — وہ زاویہ جو صرف خلا میں موجود انسان ہی دیکھ سکتا ہے۔ اس منظر نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے ایک نئی جذباتی کیفیت پیدا کی ہے اور بہت سے لوگ اسے انسانیت کی روحانی وابستگی کا عالمی نشان قرار دے رہے ہیں۔ڈان پیٹیٹ اس سے قبل بھی زمین کی قدرتی مناظر، ایوروراس، شہروں کی روشنی، ساحلی علاقوں اور مختلف موسموں کی تصاویر خلا سے لیتے رہے ہیں، لیکن ان کے مطابق مکہ کا یہ منظر ان کی فوٹوگرافی کی کیرئیر کی “سب سے یادگار تصاویر میں سے ایک” ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی مقامات اپنی روحانی روشنی کے باعث انسان کو زمین سے خلا تک جوڑ دیتے ہیں۔

ماہرین فلکیات اور فوٹوگرافی کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ تصویر نہ صرف سائنسی اہمیت رکھتی ہے بلکہ یہ انسانیت اور مذہبی مقامات کی عالمگیر روحانیت کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مقدس مقامات کی روشنی زمین سے نکل کر خلا کی وسعتوں تک رسائی رکھتی ہے اورصدیوں سے جاری عبادات آج بھی وہ روشنی بکھیر رہی ہیں جسے دنیا بھر کے لوگ احترام سے دیکھتے ہیں۔ ڈان پیٹیٹ کی یہ نئی تصویر اس حقیقت کو دوبارہ ثابت کرتی ہے کہ خانہ کعبہ کی روحانی چمک صرف زمین تک محدود نہیں بلکہ خلا کی وسعتوں میں بھی اسی شدت سے روشن ہے — جیسے ستاروں کے نیچے ایک ایسی روشنی جو کبھی مدھم نہیں پڑتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں