حکومت کی ٹیکس وصولی جلد 8 ہزار ارب کو کراس کر جائیں گی،عمران خان
اسلام آباد – وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کی ٹیکس وصولی جلد 8 ہزار ارب کو کراس کر جائیں گی، شروع میں جب 8 ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کرنے کا کہا تو مذاق اڑایا گیا، ابھی ہم نے 6 ہزار ارب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرلیا، آج تاریخ کی ریکارڈ ایکسپورٹ، ترسیلات زر اورٹیکس وصولیاں ہیں۔ انہوں نے نیشنل سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز پالیسی کی اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایم ایز سیکٹر کیلئے آسانیاں پیدا کررہے ہیں، ایس ایم ایز سیکٹر کو وہ اہمیت دے رہے ہیں جو کبھی ماضی میں نہیں دی گئی، ماضی میں چھوٹے سرمایہ کاروں کو بینک قرضے نہیں دیتا تھا، نوجوانوں کے اندر زیادہ جنون ہوتا ہے، چھوٹے کاروباری افراد کیلئے قرضوں کی سہولت پیدا کی ہے، نوجوانوں کے پاس بہت آئیڈیاز ہوتے ہیں، ریاست کو نوجوانوں کی مدد کرنا ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ماضی کے غلط فیصلوں کے باعث ہم نیچے جانا شروع ہوگئے، ہم کاروبار کرنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کررہے ہیں، ایس ایم ایزسیکٹر کے لیے آسانیاں پیدا کی جارہی ہیں، ہم نے ایکسپورٹس پر خصوصی توجہ دینی ہے، ہمیں شرم آتی ہے اتنی آبادی کے باوجود برآمدات چھوٹے ممالک سے کم ہیں، چھوٹے چھوٹے ممالک برآمدات میں ہم سے آگے نکل گئے، اب ہمیں برآمدات بڑھانے پر توجہ دینا ہو گی، رکاوٹیں ڈالنے والوں کے خلاف ایکشن لیں گے، ایس ایم ایز کا جی ڈی پی میں اہم کردار ہے، اس پالیسی کا آنے والے دنوں میں پاکستان کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا، ہم تمام متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مل کر اس حوالے سے رکاوٹیں دور کریں گے۔
پاکستان میں ہماری حکومت کوجتنے چیلنجزملے اتنے کسی حکومت کو نہیں ملے، بینک خسارے میں تھا،بڑی مشکلوں سے بھاگ دوڑکی، سعودی عرب، چین یواے ای پیسے دے کر مدد نہ کرتا تو ملک دیوالیہ ہوجاتا،دیوالیہ ہوتا تو روپیہ گر جانا تھا اور مہنگائی بڑھ جانی تھی،اس چیلنج سے نکلے تو کوویڈ آگیا، اس طرح کا بحران 100سالوں میں ایک بارآتا ہے، اس طرح کا بحران کسی حکومت نے فیس نہیں کیا، پاکستان اس کرائسز میں بھی نکل آیا، دنیا پاکستان کی تعریف کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کی نئی لہرکا چیلنج پھر آرہا ہے پاکستان اس سے بھی نکل جائے گا،نئی لہر کے دوران معاشی سرگرمیوں پر بندش نہیں لگائیں گے، ایس اوپیز پر عملدرآمد جاری رکھیں گے۔ کورونا جیسے بحران کا کسی حکومت نے سامنا نہیں کیا، ایسے بحران سو سالوں میں ایک بار آتے ہیں۔افغانستان کا کرائسز آگیا، جب ان کی کرنسی گری تو پاکستان سے ڈالرز خریدے اور ہمارے روپیہ پر پریشر پڑ رہا، ڈالر مہنگا ہوگیا۔
پھر اشیاء کی قیمتیں بڑھیں، کیونکہ اشیاء کی سپلائی متاثر ہوئی جس سے قیمتیں بڑھ گئیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی تاریخ کی ریکارڈ ایکسپورٹ، ریکارڈ ترسیلات زر، ریکارڈ ٹیکس وصولیاں ہوئیں، میں نے کہا کہ ہم 8 ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کریں گے، لوگوں نے مذاق اڑایا لیکن اب ہم 6ہزار ارب سے کراس کرگئے ، ٹیکس سسٹم کیلئے نادرا کے ساتھ مل کر سافٹ ویئر بنا رہے ہیں،22 کروڑ کے ملک میں صرف 20 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں، بہت سارے لوگ ہیں جو ٹیکس ہی نہیں دیتے، انشاء اللہ ٹیکس کلیکشن 8 ہزار سے کراس کرجائے گی۔