بھارت میں شیر سڑک کے بیچ بیٹھ گیا، ٹریفک بند؛ حیران کن ویڈیو وائرل

lion-stops-traffic-chandrapur-road-india-video

یوتھ ویژن نیوز: بھارت کے مہاراشٹر میں شیر کے سڑک کے بیچ بیٹھ جانے سے ٹریفک آدھے گھنٹے تک بند رہی، ویڈیو وائرل ہو گئی جبکہ محکمہ جنگلات کے اہلکار موقع پر پہنچ کر صورتحال کو سنبھالتے رہے۔

بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک شیر نے اچانک سڑک کے درمیان آکر بیٹھنے کے بعد ٹریفک روک دی۔ واقعے کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شیر بے خوف ہو کر سڑک پر بیٹھا ہے جبکہ دونوں اطراف لمبی گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

بھارتی نشریاتی ادارے انڈیا ٹو ڈے کے مطابق یہ واقعہ چاندراپور کے موہرلّی روڈ پر پیش آیا، جہاں ایک شیر—جسے مقامی سطح پر “مامہ میل” کہا جاتا ہے—اچانک شاہراہ پر نمودار ہوا اور تقریباً آدھے گھنٹے تک ٹریفک مکمل طور پر معطل رہی۔ خوش قسمتی سے اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

عینی شاہدین کے مطابق شیر پہلے بھی اس علاقے میں نظر آتا رہا ہے اور چند رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسی شیر نے ماضی میں علاقے کے دو بیل بھی ہلاک کیے تھے۔ مقامی افراد کے مطابق گزشتہ دنوں شیر کی نقل و حرکت ہائی وے کے قریب بڑھ گئی تھی اور لوگ مسلسل اس صورتحال سے خوفزدہ تھے۔

وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہری دور رہ کر موبائل فون سے مناظر ریکارڈ کرتے رہے، لیکن کوئی بھی گاڑی یا شخص شیر کے قریب جانے کی ہمت نہ کر سکا۔ کچھ دیر بعد محکمہ جنگلات کے اہلکار موقع پر پہنچے اور صورت حال کی نگرانی شروع کی، جس کے بعد شیر خود ہی جنگل کی طرف واپس چلا گیا۔

چاندراپور کا یہ علاقہ تادوبا ٹائیگر ریزرو کے قریب واقع ہے، جو بھارت کے سب سے بڑے ٹائیگر ہبیٹاٹس میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں اندازاً 300 کے قریب شیر موجود ہیں، اور جنگل و آبادی کے درمیان کم ہوتا فاصلہ ان کے دو ہفتوں میں سڑکوں اور بستیوں تک آنے کا سبب بنتا ہے۔

گزشتہ ماہ بھی اسی سڑک پر ایک مادہ شیرنی نے دو پہیہ گاڑیوں پر حملہ کر کے مسافروں میں خوف و ہراس پھیلا دیا تھا۔ محکمہ جنگلات کے مطابق جنگلی جانوروں کی آبادی بڑھنے، جنگلات کے سکڑنے اور انسانی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث انسان اور شیر کے بیچ ٹکراؤ کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔محکمہ وائلڈ لائف حکام کا کہنا ہے کہ سڑک سے گزرنے والے مسافروں کو محتاط رہنے اور رات کے وقت ہائی وے استعمال نہ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں