بلوچستان میں 3200 سے زائد سرکاری اسکول دوبارہ فعال، 82 ہزار بچے تعلیم کی راہ پر، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی
کوئٹہ : وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس” پر جاری بیان میں صوبے میں تعلیمی ترقی کے لیے حکومتی اقدامات اور اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالی ہے۔
یوتھ ویژن نیوز : (محمد رفیق سے) بلوچستان حکومت نے تعلیمی ترقی کے میدان میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے صوبے کے 3200 سے زائد سرکاری اسکولوں کو دوبارہ فعال کر دیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں تقریباً 82 ہزار طلبہ و طالبات ایک بار پھر تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں اس پیشرفت کو صوبے کے روشن مستقبل کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔
تعلیم کے شعبے میں انقلابی قدم
وزیر اعلیٰ کے مطابق حکومت بلوچستان تعلیم کے شعبے میں بنیادی اصلاحات پر تیزی سے عمل درآمد کر رہی ہے تاکہ کوئی بھی بچہ اسکول سے باہر نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارا ہدف صوبے کے تمام اسکولوں کو مکمل فعال بنانا اور ہر بچے کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔”
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کی تعلیمی ترقی حکومت کے ویژن 2025 کا اہم حصہ ہے، جس کے تحت ہر ضلع میں اسکولوں کی بحالی، اساتذہ کی بھرتی، اور بنیادی تعلیمی ڈھانچے کی مضبوطی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
اسکولوں کی بحالی کا عمل
تعلیمی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ کئی برسوں سے سینکڑوں اسکول غیر فعال تھے، جن کی وجہ سے ہزاروں بچے تعلیم سے محروم تھے۔ تاہم، موجودہ حکومت نے ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت ان اسکولوں کو نہ صرف دوبارہ فعال کیا بلکہ ان میں تدریسی عمل کو بھی بحال کیا ہے۔
محکمہ تعلیم بلوچستان کے مطابق فعال کیے گئے اسکولوں میں اساتذہ کی تعیناتی، بنیادی سہولیات جیسے پانی، بجلی، واش رومز اور فرنیچر کی فراہمی کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اساتذہ کی بھرتی اور تربیت
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ صوبے میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کی بھرتی اور تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ حکومت نے میرٹ پر بھرتی کا عمل شفاف بنانے کے لیے جدید ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرایا ہے، تاکہ اہل اور باصلاحیت اساتذہ تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دے سکیں۔
مزید برآں، اسکولوں میں بچیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے خصوصی مہم بھی شروع کی گئی ہے تاکہ بلوچستان میں لڑکیوں کے تعلیمی تناسب میں اضافہ کیا جا سکے۔
ایجوکیشن فار آل ویژن
میر سرفراز بگٹی نے اپنے پیغام میں کہا کہ "بلوچستان کا مستقبل تعلیم سے جڑا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ صوبے کا ہر بچہ پڑھ لکھ کر اپنے خاندان اور معاشرے کی تقدیر بدل سکے۔”
انہوں نے کہا کہ "ایجوکیشن فار آل” (سب کے لیے تعلیم) حکومت بلوچستان کا بنیادی ویژن ہے، جس کے تحت ہر ضلع میں سو فیصد انرولمنٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس ضمن میں مقامی کمیونٹیز اور والدین کو بھی شریک کیا جا رہا ہے تاکہ بچوں کے اسکول آنے کی شرح میں اضافہ کیا جا سکے۔
بلوچستان کی تعلیم میں نیا دور
تعلیمی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں اسکولوں کی بحالی ایک اہم سنگ میل ہے جس سے نہ صرف شرح خواندگی میں اضافہ ہوگا بلکہ سماجی ترقی اور امن و استحکام کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔
یہ اقدام حکومت کی جانب سے تعلیمی نظام میں دیرپا اصلاحات کے عزم کو ظاہر کرتا ہے، جس کے ذریعے بلوچستان اب ملک کے دیگر صوبوں کے ہم پلہ ہونے کی راہ پر گامزن ہے۔
عوامی ردعمل
بلوچستان کے عوام نے بھی اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ قدم صوبے میں تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھے گا۔ والدین کا کہنا ہے کہ اسکولوں کے فعال ہونے سے ان کے بچوں کو گھر کے قریب تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا اور بچوں کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہو گا۔
وزیر اعلیٰ نے عزم ظاہر کیا کہ “تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جو بلوچستان کو ترقی، خوشحالی اور امن کے سفر پر گامزن کر سکتا ہے۔ ہماری حکومت تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔”