امریکی سپریم کورٹ نےصدر ٹرمپ کے ایمرجنسی ٹیرف غیر قانونی قرار دے دیے

واشنگٹن میں امریکی سپریم کورٹ کی عمارت کا بیرونی منظر

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے ایمرجنسی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قومی ایمرجنسی کے قانون کے تحت عائد کیے گئے محصولات کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی تھی۔ برطانوی خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ صدر نے ٹیرف عائد کرتے وقت آئینی حدود سے تجاوز کیا اور کانگریس کے اختیارات میں مداخلت کی۔

تحریری فیصلے میں چیف جسٹس John Roberts نے کہا کہ بین الاقوامی ایمرجنسی اقتصادی اختیارات ایکٹ (IEEPA) صدر کو وسیع تجارتی ٹیرف عائد کرنے کا غیر محدود اختیار فراہم نہیں کرتا۔ عدالت کے مطابق اس نوعیت کے فیصلے، جن کے بڑے اقتصادی اور سیاسی اثرات ہوں، “میجر کوئسچنز” اصول کے تحت آتے ہیں اور ان کے لیے قانون ساز ادارے کی واضح اجازت درکار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ کے ایمرجنسی ٹیرف کیوں غیر قانونی قرار دیے گئے؟

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیرف پالیسی کے ذریعے وائٹ ہاؤس نے اختیارات کا ایسا استعمال کیا جو آئینی توازن کے منافی تھا۔ فیصلے کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے متاثرہ کاروباری اداروں اور متعدد ریاستوں کو ممکنہ طور پر اربوں ڈالر کے ریفنڈ کا حق مل سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ 12 امریکی ریاستوں اور کاروباری حلقوں کی جانب سے دائر مقدمات کی بنیاد پر سامنے آیا۔ تین ججوں، Clarence Thomas، Samuel Alito اور Brett Kavanaugh نے اختلافی نوٹ تحریر کیا، جبکہ اکثریتی فیصلے میں Neil Gorsuch، Amy Coney Barrett سمیت دیگر ججز شامل تھے۔

ڈیموکریٹک سینیٹ لیڈر Chuck Schumer نے فیصلے کو امریکی صارفین کے لیے فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی ٹیرف سے خاندانوں اور کاروباروں پر مالی دباؤ پڑا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف آئینی اختیارات کی حدبندی واضح کرتا ہے بلکہ امریکی تجارتی پالیسی اور عالمی معیشت پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں