امریکہ، ایران مذاکرات: جے ڈی وینس اسلام آباد روانہ، ٹرمپ کی ہدایات ساتھ
یوتھ ویژن نیوز :(ویب ڈسک) واشنگٹن سے پاکستان کے لیے روانگی سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واضح ہدایات کے ساتھ اسلام آباد جا رہے ہیں، جہاں ہفتے کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کا پہلا دور متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ مذاکرات جنگ بندی کو دیرپا امن میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں، جبکہ پاکستان اس عمل میں میزبان اور سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔
مذاکرات سے قبل امریکی مؤقف کیا ہے؟
ایئر فورس ٹو میں سوار ہونے سے قبل جے ڈی وینس نے صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کہا کہ امریکہ مذاکرات کے لیے پُرامید ہے اور اگر ایران خیرسگالی کا مظاہرہ کرتا ہے تو واشنگٹن “کھلے دل سے آگے بڑھنے” کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے یا دھوکہ دینے کی کوشش کی تو امریکہ کی جانب سے مثبت ردعمل کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
اسلام آباد میں کون کون شریک ہوگا؟
وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ پہلے ہی تصدیق کر چکی ہیں کہ امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد بھی اعلیٰ سطح پر اسلام آباد پہنچ رہا ہے، جس سے ان مذاکرات کی سفارتی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
پاکستان کا کردار کیوں اہم ہے؟
اسلام آباد میں یہ مذاکرات ہونا پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان برسوں بعد براہِ راست یا بالواسطہ اعلیٰ سطحی رابطہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوشش تصور کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں استحکام، توانائی کی منڈیوں اور عالمی سلامتی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔