”جنگ جلد ختم ہوگی“ ٹرمپ کے بیان سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 9فیصد تک بڑی کمی
یوتھ ویژن نیوز : (محمد عباس سے) امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ جلد ختم ہونے کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں9 فیصد تک نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک اہم بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جہاں خام تیل کی قیمت تقریباً نو فیصد تک گر گئی۔ فلوریڈا میں ریپبلکن پارٹی کے کانگریسی ارکان سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی اور کئی حوالوں سے امریکا پہلے ہی کامیابی حاصل کر چکا ہے تاہم مکمل کامیابی ابھی باقی ہے۔
ان کے اس بیان کے فوری بعد عالمی توانائی منڈیوں میں ردعمل سامنے آیا اور تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی ریکارڈ کی گئی۔ منگل کی صبح ایشیائی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز پر برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد کمی کے بعد بانوے اعشاریہ پچاس ڈالر فی بیرل تک آ گئی جبکہ امریکا میں تجارت ہونے والا خام تیل تقریباً نو فیصد کمی کے بعد اٹھاسی اعشاریہ ساٹھ ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔ تاہم اس کمی کے باوجود قیمتیں اب بھی اس سطح سے تقریباً تیس فیصد زیادہ ہیں جو ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کارروائی شروع ہونے کے وقت دیکھی گئی تھیں۔
آبنائے ہرمز بند ہوئی تو موت اور آگ برسے گی، امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کو دھمکی
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کے بیان نے عالمی توانائی منڈیوں میں وقتی اعتماد پیدا کیا جس کے باعث قیمتوں میں فوری کمی آئی۔ دوسری جانب ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو ایک بار پھر متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹ کو جلد ختم کیا جائے ورنہ ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو توانائی فراہم کی جاتی ہے۔
ادھر ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد مثبت رجحان دیکھنے میں آیا۔ جاپان کے نکی دو سو پچیس انڈیکس میں تقریباً دو اعشاریہ آٹھ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ جنوبی کوریا کی کوسپی ایکسچینج میں پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس سے قبل تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ایشیائی منڈیوں کو شدید دباؤ کا سامنا تھا کیونکہ اس خطے کے کئی ممالک خلیجی ریاستوں سے بڑی مقدار میں تیل درآمد کرتے ہیں جس کے باعث قیمتوں میں اضافہ براہ راست ان کی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔