ٹرمپ کا بڑا ٹیک اقدام، بڑی کمپنیوں کے سربراہان صدارتی ٹیکنالوجی کونسل میں شامل

ڈونلڈ ٹرمپ ٹیکنالوجی کونسل کے اعلان کے موقع پر، بڑی ٹیک کمپنیوں کے سربراہان کی نمائندگی کا منظر

یوتھ ویژن نیوز : (خصؤصی رپورٹ برائے عفان گوہر سے) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پالیسی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں کے سربراہان کو صدارتی سائنس و ٹیکنالوجی مشاورتی کونسل میں شامل کر لیا ہے، جسے عالمی سطح پر ٹیک پالیسی سازی میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹیک جائنٹس کی نمائندگی اور اہم نام

وائٹ ہاؤس کے مطابق اس کونسل میں میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ، اوریکل کے ایگزیکٹو چیئرمین لیری ایلیسن اور اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ سمیت دیگر نمایاں شخصیات کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ ابتدائی 13 ارکان میں گوگل کے شریک بانی سرگئی برن اور ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائسز کی چیف ایگزیکٹو لیزا سو بھی شامل ہیں، جو حکومت کو مصنوعی ذہانت اور دیگر اہم ٹیکنالوجی معاملات پر مشورے فراہم کریں گے۔

مصنوعی ذہانت امریکی ترجیح قرار

صدر ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں مصنوعی ذہانت کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے اسے چین کے ساتھ بڑھتی عالمی مسابقت کا مرکزی میدان قرار دیا ہے، اور اسی تناظر میں انہوں نے وفاقی اداروں کو اے آئی ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کا مقصد ضوابط میں نرمی اور نجی شعبے کی جدت کو فروغ دینا ہے۔

پالیسی سازی میں کونسل کا کردار

یہ کونسل عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکا کی حکمت عملی مرتب کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی، جبکہ اس کی مشترکہ صدارت وائٹ ہاؤس کے اے آئی اور کرپٹو مشیر ڈیوڈ سیکس اور ٹیکنالوجی ایڈوائزر مائیکل کریٹسیوس کریں گے، جو پالیسی سازی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے سے اہم فیصلوں میں رہنمائی فراہم کریں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، جیسا کہ BBC News Urdu اور Dunya News میں بھی رپورٹ کیا جاتا رہا ہے، اس اقدام کو ٹرمپ انتظامیہ اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف پالیسی سازی میں بہتری آئے گی بلکہ ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکا کی پوزیشن مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔

امریکی حکومت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے سرمایہ کاری بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے، جہاں ٹیک کمپنیاں آئندہ برسوں میں بڑے مالی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں، ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی امریکا کو عالمی ٹیکنالوجی دوڑ میں برتری دلانے کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں