تین سال میں بہت سے مسائل سامنے آئے لیکن مایوس نہیں ہوئے، وزیر اعظم

اسلام آباد:(ثاقب ابراہیم غوری سے ) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گزشتہ 3 سالوں میں بہت سے مسائل سامنے آئے لیکن ہم مایوس نہیں ہوئے۔

وزیر اعظم عمران خان نے 14ویں انٹرنیشنل چیمبرز کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایکسپو سینٹر پر کام کر رہے ہیں اور رنگ روڈ کا منصوبہ آگے بڑھ چکا ہوتا لیکن جو بن رہا تھا اس میں کرپشن تھی۔ کرپشن کی وجہ سے ہی رنگ روڈ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو فائدہ دینے کے لیے رنگ روڈ منصوبے کی الائنمنٹ بدلی گئی۔ رنگ روڈ کے منصوبے میں جو تبدیلی کی گئی تھی اسے ہم نے ٹھیک کر دیا ہے۔ ماضی میں انڈسٹریل زون ڈکلیئر کیے گئے لیکن بجلی، پانی وغیرہ کی منصوبہ بندی نہیں تھی۔

عمران خان نے کہا کہ کوشش ہے مدینہ کی ریاست لوگوں کے دلوں میں آجائے۔ 622 سے 632 کے درمیان بڑا انقلاب آیا تھا اور مدینہ کی ریاست دنیا کی تاریخ کا سب سے بہترین ماڈل تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ساری جنگ کرپشن کے خلاف ہے جبکہ پاکستان میں قانون کی بالادستی قائم کرنے میں وقت لگتا ہے کیونکہ ملک میں پولیٹیکل مافیا بیٹھے ہوئے ہیں جو سسٹم کو ٹھیک نہیں ہونے دیتے۔ یہاں مافیا بنے ہوئے ہیں جو قانون کے نیچے نہیں آنا چاہتے تاہم یہ پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے اور یہ جنگ ہم سب نے لڑنی ہے۔

وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ زمینیں لیز کر کے سستے داموں انڈسٹری کو دی جائیں گی۔ کورونا کے دوران ہم نے اپنے لوگوں اور معیشت کو بچایا جبکہ کورونا کے دوران بہت مشکل فیصلے کرنے پڑے۔ ہم نے جو کورونا کے دوران فیصلے کیے آج برطانیہ وہ فیصلے کر رہا ہے لیکن اگر لاک ڈاون لگا دیتا تو ملک کے حالات خراب ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت پورے ملک میں مہنگائی ہے اور سب مہنگائی کی وجہ سے ہی تکلیف میں ہیں لیکن مہنگائی اس وقت پوری دنیا میں ہے۔ پاکستان میں پٹرول کی قیمت بھارت اور بنگلہ دیش سے بھی کم ہے۔

عمران خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کوئلہ، گیس اور پام آئل کی قیمت کہاں پہنچ گئی ہے لیکن ابھی پاکستان دیگر ممالک سے سستا ہے۔ ڈالر افغانستان جانے کی وجہ سے روپے پر دباؤ پڑا لیکن اس کے باوجود ہماری ایکسپورٹس میں تاریخی اضافہ ہوا اور ہمارے ٹیکس ریونیو میں بھی اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ 6 ہزار ارب روپے سے زائد ٹیکس اکٹھا کیا ہے اور اس وقت پاکستان کی برآمدات تاریخی سطح پر ہیں جبکہ ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ ترسیلات زر ہوئیں۔ نااہل حکومت نے بےروزگاری سے بچایا، کورونا سے بچایا اور معیشت کو بچایا۔ آئی ٹی کی ایکسپورٹس میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے اور تعمیراتی سیکٹر بھی اس وقت آگے بڑھ رہا ہے۔

کسانوں سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زراعت میں 11 سو ارب کسانوں نے کمائے۔ ہم پیاز اور ٹماٹر فروخت کر کے خوشحال نہیں ہوسکتے جبکہ ماضی میں ایکسپورٹس میں اضافے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایکسپورٹس اور ٹیکس پاکستان کے مستقبل کے لیے بہت ضروری ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ کہتے ہیں ہماری حکومت نااہل ہے اور اسی حکومت نے ملک کو بحران سے نکالا۔ ہماری ٹیکس وصولیاں 6 ہزار ارب سے زائد ہیں۔ پاکستانی دنیا میں سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں کیونکہ ماضی میں لوگ ایف بی آر پر اعتماد ہی نہیں کرتے تھے۔ ہمارے ملک میں ٹیکس کلچر فروغ نہیں پا سکا جس کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں عوام کے ٹیکس کا پیسہ ان پر خرچ نہیں ہوتا تھا بلکہ شاہانہ خرچوں پر لگتا تھا تاہم ہماری پوری کوشش ہے کہ ٹیکس کا پیسہ عوام کی بہتری پر خرچ ہو۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں کسی نے یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے لیے کوشش ہی نہیں کی لیکن اب سندھ کے سوا تمام صوبوں میں ہر خاندان کے پاس ہیلتھ انشورنس ہے جس کے ذریعے 10 لاکھ روپے تک مفت علاج کرایا جاسکتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت بزنس کمیونٹی کو ہر طرح کی سہولت دے رہی ہے جبکہ ماضی میں سیاحت پر کبھی کسی نے توجہ ہی نہیں دی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com