2021: عدالتوں نے کون سےاہم فیصلے کئے؟


تحریر : تنزیل طاہر

سپریم کورٹ کا خواتین کی وراثت
سے متعلق تحریری فیصلہ
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواتین کی وراثت سے متعلق فیصلہ تحریر کیا۔عدالت کا تحریر ی فیصلے میں کہنا تھا کہ مردوں کی جانب سے عورتوں کو وراثت کے شرعی حق سے محروم رکھنا قابل نفرت اورمکروہ عمل ہے۔خواتین کو شرعی وراثت سے محروم کرنا اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ فراڈ اور دیگر حربوں سے خواتین کو شرعی وراثت سے محروم رکھنا عام ہے۔خواتین کے لیے وراثت سے محرومی تکلیف کا باعث بنتی ہے۔عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں ہردوسرا مرد وارث خاتون کووراثت کے حق سے محروم کرتا ہے۔

ای وی ایم ،16 ہزار ملازمین کی کی بحالی اور خواتین کی وراثت سے متعلق اہم فیصلے ہوئے
ہمارے ملک کی معزز عدلتوں میں گزشتہ سال بھی سیکڑوں اہم مقدمات زیر سماعت رہے۔سیاسی اور سماجی نوعیت کے بڑے مقدمات کی گونج قومی میڈیا پہ بھی سنائی دیتی رہی۔
سال گزشتہ میں ہماری عدالتوں نے متعدد اہم فیصلے کئے۔آ ئیں اس حوالے سے ایک جائزہ لیتے ہیں۔
سولہ ہزار ملازمین کی بحالی
پاکستان کی سپریم کورٹ نے برطرف ملازمین کی بحالی سے متعلق کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے 16000 ملازمین کی برطرفی کے خلاف نظرِ ثانی اپیلیں خارج کرتے ہوئے انہیں
بحال کرنے کا حکم دیا ۔
فیصلے میں کہا گیا کہ وفاق سمیت تمام ملازمین کی نظرِ ثانی کی درخواستیں خارج کردی گئی ہیں اور یکم نومبر 1996 سے لے کر 12 اکتوبر 1999 تک گریڈ ایک سے سات تک کے برطرف ہونے والے ملازمین کو بحال کیا جائے۔تاہم عدالت نے فیصلے میں کہا کہ بد عنوانی، مِس کنڈکٹ اور کرپشن پر نکالے گئے ملازمین عدالتی فیصلے سے مستفید نہیں ہوسکیں گے۔
اسی طرح صرف ان ملازمین کو بحال کیا جائے جن کے لیے ٹیسٹ یا انٹرویو دینا ضروری نہیں تھا۔ جبکہ گریڈ 8 سے 16 تک کے جن ملازمین کے لیے ٹیسٹ درکار تھا اُنھیں اب ٹیسٹ دینا ہوگا۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے یہ فیصلہ دیا اور چار ایک کے تناسب سے دائر کردہ اپیلیں خارج کردی گئیں،جسٹس منصور علی شاہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ملازمین کی بحالی کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 184 کی شِق تین کے دائرہ اختیار کو استعمال کرتے ہوئے دیا گیا ہے۔
پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو ختم کرنے کا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کالعدم قرار
سپریم کورٹ آ ف پاکستان نے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کی بحالی کیس کا فیصلہ جاری کیا۔ 18 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس گلزار احمد نے تحریر کیا ۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز اور شہری اسد علی خان نے بلدیاتی اداروں کی بحالی کے لیے درخواستیں دائر کی تھیں۔ سپریم کورٹ نے 25 مارچ کو کیس کا مختصر فیصلہ سنایا تھا۔
سپریم کورٹ نے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کی فوری بحالی اور مدت پوری کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ کا سیکشن 3 آئین کے آرٹیکل 140 اے کی خلاف ورزی اور غیر آئینی ہے، آرٹیکل 140 کے تحت قانون بنایا جاسکتا ہے لیکن اداروں کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ عوام کو ان کے منتخب نمائندوں سے دور نہیں رکھا جاسکتا، اور صرف صوبائی حکومت کی خواہش پر بلدیاتی ادارے تحلیل نہیں ہوسکتے۔ آرٹیکل 140 کے تحت قانون بنایا جاسکتا ہے لیکن اداروں کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس پر فیصلہ جاری کیا گیا
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کے متعلق دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ نے فیصلہ جاری کیا۔ 224 صفحات پر مشتمل فیصلہ فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ۔فیصلے میں صدارتی ریفرنس نمبر ایک 2019 کو غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دیا گیا ہے تاہم اس میں لکھا گیا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ قانونی حلقوں میں خاصے معزز سمجھے جاتے ہیں۔ ان پر الزام لگایا گیا ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلے میں لکھا کہ اس داغ کو دھونے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ ایف بی آر میں اپنی جائیداد سے متعلق تمام دستاویزات جمع کرا دیں۔عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ شہزاد اکبر کی وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کے طور پر تقرری بھی غیرقانونی نہیں ہے۔جسٹس فیصل عرب اور جسٹس یحییٰ آفریدی میں الگ نوٹ تحریر کیا ۔
تحریری فیصلے میں اپنے اختلافی نوٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو غیر آئینی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کرنے میں ناکام رہے اس لیے ریفرنس دائر کرنے کا تمام عمل غیر قانونی اور غیر آئینی قرار پایا ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ایک حاضر سروس جج کیخلاف انکوائری کرنا کونسل کا کام ہے نہ کہ کسی اور کا۔ کوئی بھی جج قانون سے بالاتر نہیں۔
سعد رضوی کی رہائی
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے 2 رکنی بینچ نے ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی کے فیصلہ پر عمل درآمد روکتے ہوئے معاملہ واپس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دیا۔12 اکتوبر کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں تحریک لبیک ( ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی کے فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت ہوئی۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے جج جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل 2 رکنی خصوصی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز میں پنجاب حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ جلاؤ گھیراؤ کے افسوسناک واقعے میں 3 پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد جان کی بازی ہارے۔ ہائی کورٹ کے نظر ثانی بورڈ نے سعد رضوی کی نظر بندی میں توسیع نہیں کی۔جس پر جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا انسداد دہشت گری دفعات کے تحت نظر بندی کا کوئی گزٹ نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔ اس پر پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جی گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے۔
اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کے پاس 90 روز کے بعد نظر بندی کی توسیع کا اختیار نہیں جس پر جسٹس مظاہر نے ریمارکس دیئے کہ شاید دونوں فریقین کی طرف سے کیس کو درست طریقے سے ڈیل نہیں کیا گیا۔ جو ماضی میں واقعات ہوئے آپ اسے تو مانتے ہیں کہ ایسا واقعہ ہوا۔عدالتی ریمارکس پر درخواست گزار کے وکیل برہان معظم ملک نے کہا کہ جب ہنگامہ ہوا تو سعد رضوی اس سے قبل ہی جیل میں تھے۔ سعد رضوی بغیر کسی وجہ کے چھ ماہ سے جیل میں قید تھے۔عدالت کا کہنا تھا کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی، ہم کیس لاہور ہائی کورٹ کو بھجوا دیتے ہیں۔ اس موقع پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے 2 رکنی بینچ نے سعد رضوی کی رہائی کے فیصلہ پر عمل درآمد روکتے ہوئے کیس دوبارہ لاہور ہائی کورٹ کو بھیج دیا۔بعدازاں نومبر میںپنجاب حکومت سے ایک معاہدے کے تحت سعد رضوی رہا کر دیے گئے۔
فیصل وائوڈا نااہلی کیس کا فیصلہ
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے 13صفحات پرمشتمل فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ فیصل وائوڈا کا بیان حلفی بادی النظر میں جھوٹا ہے، انہوں نے الیکشن کمیشن میں بیان حلفی جمع کرایا،عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ جواب داخل نہ کرانے پرالیکشن کمیشن سے کاغذات نامزدگی سے متعلق ریکارڈ طلب کیا گیا، فیصل واوڈاکے وکیل نے3مارچ کی سماعت میں استعفیٰ پیش کیا اورکہاکہ درخواست غیر موثر ہوچکی ہے، فیصلے میں کہا گیا کہ فیصل وائوڈا نے کبھی ایک اورکبھی دوسری وجہ سے معاملے کو طول دیا اور انہوں نے جواب داخل نہ کراکے کیس میں تاخیر کی، 29جنوری 2020سے 3مارچ 2021تک فیصل وائوڈا نے نااہلی درخواست پرکوئی جواب داخل نہیں کیا، انہوں نے 11جون کودہری شہریت نہ رکھنے کابیان حلفی جمع کرایا جب کہ انہیں امریکی شہریت ترک کرنے کاسرٹیفکیٹ 25جون کوجاری ہوا،عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن معاملے کی تحقیقات کرکے مناسب حکم جاری کرسکتا ہے۔
شہباز شریف کی ضمانت سے متعلق فل بینچ کا فیصلہ
جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس شہباز رضوی اور جسٹس عالیہ نیلم پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے 27 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عوامی نمائندے پر کرپشن کے الزامات سے سیاسی نقصان پہنچتا ہے جو شکست کی قسم ہے، پبلک آفس ہولڈر کو سو فیصد مسٹر کلین ہونا چاہیے۔عدالتِ عالیہ کے فیصلے میں کہا گیا کہ پراسیکیوشن سے اخلاقیات کے اعلیٰ معیار کے مظاہرے کی توقع ہوتی ہے، عوامی عہدے پر کرپٹ آجائے تو جمہوری نظام سے عوامی اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق فرد کی آزادی کے بنیادی اصولوں کو مدِنظر رکھنا ہماری ذمے داری ہے، آزادی کے بنیادی اصولوں کی بنا پر ضمانت منظور یا مسترد کی جاتی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ضمانت بعد از گرفتاری میں آزادی کے اصولوں پر آنکھیں بند نہیں رکھ سکتے، شہباز شریف کیس مزید انکوائری کا متقاضی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کا نکاح نامے
میں بڑی تبدیلیوں کا حکم
لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس مرزا وقاص رئوف کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے واصف علی وغیرہ کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کیا، عدالت کے 19 صفحات پر مشتمل فیصلے کو عدالتی نظیر قرار دیا گیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت نکاح رجسٹرار کے لائسنس کیلئے کم سے کم تعلیم کا معیار مقرر کرے، نکاح رجسٹرار کی تربیت کیلئے انتظامات کیے جائیں۔ فریقین حق مہر کے علاوہ کچھ لکھنا چاہیں تو اسے حق مہر میں شامل کرنے کی بجائے الگ لکھیں۔عدالت نے نکاح نامے میں اشیاء کی تفصیل کے کالم 16 کو حق مہر کے کالم 13 کا حصہ قرار دیتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نکاح نامے میں حق مہر کے کالم میں ترمیم کا حکم دیا۔
پشاور ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک بندش
سے متعلق حکم نامہ جاری کیا
پشاور ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک بندش سے متعلق حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت غیر اخلاقی مواد سنسر ہونے تک ٹک ٹاک کو کھولنے کی اجازت نہیں تھی۔ہائی کورٹ کے حکم نامے کے مطابق نوجوان نسل ٹک ٹاک کا استعمال ایک نشے کی حیثیت سے کررہی ہے، ٹک ٹاک پر بہت سی ویڈیوز فحاشی، غیر اخلاقی اورروایات کے برعکس ہوتی ہیں۔حکم نامے کے مطابق ٹک ٹاک پر ویڈیوز کو جانچنے کے لیے کوئی طریقہ کار نہیں ۔حکم نامہ کے مطابق ڈی جی پی ٹی اے نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ ٹک ٹاک کا آفس سنگاپور میں ہے یہاں اس کا کوئی آفس نہیں، یہاں سے ویڈیوز کو سنسر کرنا ، فلٹر کرنا یا ہٹانا ہمارے بس میں نہیں، ہم نے متعلقہ ہیڈ کوارٹر سے بار بار رابطہ کیا لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوسکے، اس کو سنسر کرنا مشکل ہے، اس لیے واحد حل اس پر پابندی لگانا یا بند کرنا ہے۔عدالتی حکم نامے کے مطابق بعض نوجوانوں نے ٹک ٹاک ویڈیوز بناتے وقت خودکشی بھی کی ۔ غیر اسلامی و غیر اخلاقی مواد سنسرکرنے کا طریقہ کار وضع ہونے تک ٹک ٹاک بند کیا جائے۔دریں اثنا اکیس نومبر کو کچھ یقین دہانی کے بعد پی ٹی اے نے ٹک ٹاک پر عائد پابندی ختم کر دی۔
آغا سراج درانی و دیگر کی درخواست
ضمانت پر فیصلہ
سندھ ہائی کورٹ نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی و دیگر کی درخواست ضمانت کا تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالت نے آغا سراج درانی سمیت 11 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی ۔ 16 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس اقبال کلہوڑو نے تحریر کیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ نیب کا الزام ہے کہ آغا سراج درانی نے غیر قانونی آمدنی سے بچوں کے نام پراپرٹی خریدی ۔فیصلے میں کہا گیا کہ آغا سراج درانی کے اہلخانہ کبھی عوامی عہدے پر نہیں رہے، عدالت کی نظر میں کیس آغا سراج درانی کے خلاف ہے ان کے بچوں کے خلاف نہیں۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آغا سراج درانی کے آمدن اور اثاثوں میں فرق دستاویزات سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔نیب کا کہنا تھا کہ آغا سراج درانی کی آمدنی اور اثاثوں میں ایک ارب 61 کروڑ روپے کا فرق ہے، آغا سراج درانی کی 2018 میں اثاثوں کی مالیت 18 کروڑ روپے تھی۔
پیٹرول بحران پر تحریری فیصلہ
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے پیٹرول بحران پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے وفاقی حکومت کو مستقبل میں پیٹرول جیسے بحرانوں سے نمٹنے کیلئے11 ہدایات جاری کیں۔عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ وفاقی حکومت کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں کمیٹی بنا کر اوگرا کو تحلیل کرنے کا جائزہ لے، وفاقی حکومت کی کمیٹی اگر سفارش کرے کہ اوگرا کو برقرار رکھا جائے تو فوری طور پر قوائد کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ وفاقی حکومت فیصلے پر عمل درآمد کی رپورٹ تین ماہ کے اندر ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کو جمع کروائے، صوبوں کے چیف سیکرٹریز بحرانوں سے مؤثر انداز میں نمٹنے کیلئے ضلعی انتظامیہ کو مضبوط کریں، وفاقی حکومت غیر قانونی طور پر فائدہ حاصل کرنے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے ریکوری کیلئے کمیٹی تشکیل دے، کمیٹی تمام متعلقہ حکام کا مؤقف سنے اور ریکوری کے فیصلے پر پہنچنے کی صورت میں پورا میکنزم بنایا جائے،وفاقی حکومت تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا آڈٹ کرنے کیلئے بھی اقدامات کرے،آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے آڈٹ کی روشنی میں اگر ضرورت ہو تو موجودہ قواعد و ضوابط جانچنے اور ترمیم کیلئے بھی کمیٹی بنائی جائے، وفاق پیٹرول بحران کے ذمہ داروں کیخلاف ہر صورت کارروائی کرے،وفاقی حکومت مستقبل میں کسی بھی ایسے بحران سے بچنے کیلئے حکمت عملی یقینی بنائے، وفاقی حکومت مصنوعی پیٹرول بحران سے متعلق کمیشن کی رپورٹ فوری طور پر جاری کرے،پیٹرول بحران انکوائری کمیشن کی رپورٹ صرف فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ ہے، اگر کوئی فریق چاہے تو پیٹرول کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں کارروائی کرسکتا ہے۔وفاقی حکومت پیٹرول بحران کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے کے انتظامات کرے،ریکارڈ سے ثابت ہو گیا کہ پیٹرول بحران کی پیش بینی کے باوجود برائی کے خاتمے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ وفاقی حکومت اور اداروں کے عدالت میں پیش کئے گئے جوابات بالکل غیر حقیقت پسندانہ تھے۔
تجوری ہائٹس اور الباری ٹاور کے انہدام
پر تحریری فیصلے
سپریم کورٹ نے تجوری ہائٹس کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ رضا ربانی نے بتایا تجوری ہائٹس کا اسٹرکچر گرا دیا گیا، مکمل ملبہ اٹھانے کے لیے 20 دن کی مہلت درکار ہے، عدالت نے تجوری ہائٹس بلڈر کو 20 دن میں ملبہ اٹھانے کی مہلت دے دی۔تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ کمشنر کراچی تجوری ہائٹس سے ملبہ اٹھانے کے عمل کو یقینی بنائیں، آئندہ حکم تک تجوری ہائٹس اراضی کمشنر کراچی کی تحویل میں رہے گی۔سپریم کورٹ نے الباری ٹاور کیس سے متعلق بھی تحریری فیصلہ جاری کیا۔ بہادر آباد میں واقع الباری ٹاور کیس کے تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ نے آئندہ حکم تک بلڈر کو جائیداد منتقلی سے روک دیا ۔عدالت عظمیٰ نے سیکریٹری وزرات ہاؤسنگ اینڈ ورکس اراضی کو تمام ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ الباری ٹاور کے وکیل رشید اے رضوی نے تیاری کی مہلت طلب کی، سپریم کورٹ نے ایک ماہ کے اندر الباری ٹاور اراضی کی ملکیت سے متعلق دستاویزات بھی پیش کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے کمشنر کراچی کو تجوری ہائٹس اور نسلہ ٹاور کی مسماری سے متعلق اگلی سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے نسلہ ٹاور ، تجوری ہائیٹس اور الباری ٹاور کی 26 نومبر کی سماعتوں کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔نسلہ ٹاور کیس پر سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ نسلہ ٹاور کو گرانے کے لیے کمشنر کراچی 2 سو مزدوروں کی جگہ 4 سو مزدور لگائیں۔ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ کمشنر کراچی نے بتایا، دو سو افراد نسلہ ٹاور گرانے پر لگائے گئے۔تحریری فیصلہ کے مطابق کمشنر کراچی اقبال میمن نسلہ ٹاور کو گرانے کی کارروائی ایک ہفتے میں یقینی بنائیں، نسلہ ٹاور گرانے کے عمل کو محفوظ بھی بنایا جائے۔
تجوری ہائٹس کیس پر سپریم کورٹ نے 26 نومبر کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ فیصلے کے مطابق وکیل تجوری ہائٹس رضا ربانی نے تجوری ہائٹس کو گرانے اور ملبہ اٹھانے کے لیے بیس دن کی مہلت مانگی تھی۔عدالت نے تجوری ہائٹس بلڈر کو بیس دن میں ملبہ اٹھانے کی مہلت دیتے ہوئے حکم دیا کہ کمشنر کراچی تجوری ہائٹس سے ملبہ اٹھانے کے عمل کو یقینی بنائیں۔
نور مقدم قتل کیس ،دو ملزمان کی درخواست
ضمانت پر فیصلہ
نور مقدم قتل کیس میں نامزد دو ملزمان کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواست کے کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ہوئی۔ ظاہر جعفر کے گھر کے مالی جان محمد اور خانساماں جمیل کی جانب سے دائر درخواست پر عدالت نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے ضمانت کی استدعا کو مسترد کردیا۔ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا، جس میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے ضمانت بعد ازگرفتاری کی درخواستیں دائرکی تھیں۔ عدالت نے تھراپی ورک کے مالک کی جانب سے مرکزی ملزم کے والدین کے خلاف 22 اے مقدمے کی درخواست دائر کی گئی، جسے عدالت نے خارج کردیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں تفتیشی افسر کی جانب سے چالان جمع کرایا گیا جس میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ ظاہر جعفر نے نورمقدم کو قتل کرنے کے بعد والدین سے رابطہ کیا جس پر والدکو پرسکون رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے لاش ٹھکانے لگانے کی یقین دہانی کرائی۔
چینی کی قیمت مقرر کرنے کے نوٹیفکیشن کے خلاف شوگر ملز کی طرف سے دائر مختلف درخواستوں پر تحریری فیصلہ
جسٹس شاہد جمیل نے دوصفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے چینی کی قیمتیں مقرر کرنے کے حوالے سے بنائے گئے رولز عدالت میں پیش کئے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں یقین دہانی کروائی کہ چینی کی قیمتیں بنائے گئے رولز کے مطابق مقرر کردی جائیگی۔عدالت نے رولز کے مطابق شوگر ملز کا موقف سن کر چینی کی قیمت مقرر کرنے کی ہدایت کی۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے ایپلٹ اتھارٹی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔عدالت نے شوگر ملز کو عدالتی حکم کے مطابق گارنٹی چیک ڈپٹی رجسٹرار کو جمع کروانے کی ہدایت کی۔درخواست گزاروں کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی رجسٹرار چیک وصول نہیں کررہے۔عدالت نے ڈپٹی رجسٹرار کو چیک وصول کرنے کی4 ہدایت کی۔
گستاخی کیس میں تین ملزمان
کو سزائے موت
پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے مقدمے کا فیصلہ سنا تے ہوئے تین ملزمان کو سزائے موت سنا دی۔توہین عدالت کے الزام پر اس عدالت نے ایک اور ملزم کو دس سال کی قید کی سزا سنائی ۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے فاضل جج راجہ جواد عباس حسن نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ زیرحراست تین ملزمان عبدالوحید، رانا نعمان رفاقت اور ناصر احمد پر الزامات درست ثابت ہوئے ہیں۔عدالت نے مذکورہ ملزمان کو سزائے موت اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ جبکہ توہین مذہب میں زیر حراست ملزم پروفیسر انوار احمد کو دس سال قید کی سزا سنائی اور ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ عدالت کی طرف سے مذکورہ مقدمے میں مفرور دیگر چار ملزمان کے ناقابل ضمانت دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے ۔
پی پی ایس سی امتحان کے خواجہ سر ااُمیدوارا
کی درخواست پر فیصلہ
جسٹس فیصل زمان نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ۔ جسٹس فیصل زمان کا تحریری فیصلے میں کہنا تھا کہ درخواست گزار کے ساتھ ناروا سلوک پر افسوس ہوا، قانون بن چکا ہے لیکن معاشرہ خواجہ سراؤں کو تسلیم نہیں کر رہا، ایک خواجہ سرا کو اپنی شناخت ظاہر کرنے کے لیے ہمت کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواجہ سرا کو تعلیم کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایک خواجہ سرا کا تعلیم حاصل کرنا دوسروں کے لیے مشعل راہ ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ درخواست گزار نے لیکچرارشپ کے لیے اپلائی کیا تھا۔ خواجہ سرا کی درخواست تضحیک آمیز رویے کے ساتھ مسترد کردی گئی۔ درخواست مسترد کرنا آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے۔ حکومتی محکمے نے قانونی دباؤ پر خواجہ سراکا حق تسلیم کیا۔ اس فیصلے کو عدالتی نظیر کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔
مکہ ٹیرس کے بجلی، گیس اورپانی کنکشن
منقطع کرنے کاحکم
سندھ ہائی کورٹ نے مکہ ٹیرس کے بجلی، گیس، پانی کے کنکشن کاٹنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ غیر قانونی تعمیرات کو گرا کر 12 جنوری تک عمل درآمد رپورٹ پیش کی جائے۔مکہ ٹیرس خالی نہ کرنے پرسندھ ہائیکورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے ایس بی سی اے کو یوٹیلٹی سروس فراہم کرنے والے اداروں سے رابطہ کرنے کا حکم بھی دیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ مکہ ٹیرس سے متعلق عدالت 10 نومبرکوواضح حکم دے چکی لیکن اس کے باجود عدالتی فیصلے پرعملدرآمد نہیں کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ 12 میں سے 8 مکینوں نے ابھی تک فلیٹ خالی نہیں کیے ۔ اب تک 12 میں سے 8 مکینوں نے پورشن خالی نہیں کیے۔عدالت نے حکم دیا کہ ضرورت پڑے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کی جائے۔عدالت نے غیر قانونی تعمیرات گراکر 12 جنوری تک پیشرفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

کیا کھچھ ہوا

خواتین کی وراثت سے متعلق تحریری فیصلہ
پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے متعلق فیصلہ
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس پر تفصیلی فیصلہ
سعد رضوی کی رہائی
پی ٹی آئی رہنما فیصل وائوڈا کی نااہلی کے کیس کا تفصیلی فیصلہ
الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے آئندہ عام انتخابا ت پر فیصلہ
شہباز شریف کی ضمانت سے متعلق فیصلہ
نکاح نامے میں بڑی تبدیلیوں کا حکم
ٹک ٹاک بندش سے متعلق حکم نامہ
آغا سراج درانی و دیگر کی درخواست ضمانت
پیٹرول بحران پر تحریری فیصلہ
روس کی تیارکردہ کورونا ویکسین پر فیصلہ
تجوری ہائٹس اور الباری ٹاور کے انہدام پر تحریری فیصلہ
نور مقدم قتل کیس میں نامزد دو ملزمان کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ
چینی کی قیمت مقرر کرنے کے نوٹیفکیشن پر تحریری فیصلہ
توہین رسالت میں تین ملزمان کو سزائے موت
پی پی ایس سی امتحان کے امیدوار خواجہ سرا کی درخواست پر فیصلہ
مکہ ٹیرس کی بجلی، گیس اورپانی کنکشن منقطع کرنے کاحکم

اسلام آباد الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے آئندہ
عام انتخابات کرانے کے خلاف درخواست پر فیصلہ
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے خلاف درخواست نمٹاتے ہوئے فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال کوئی خلائی یا اجنبی کام نہیں ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا نظام دنیا کے کئی ملکوں میں موجود ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹنگ کے حوالے سے ابتدائی طور پر پارلیمنٹ سے قانون سازی ضروری ہے، پارلیمنٹ کا فیصلہ عوام کے مفاد میں ہوگا۔ فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ دھاندلی سے پاک شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے خلاف درخواست قبل از وقت اور خدشات پر مبنی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com