اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیر اہتمام دسویں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺکانفرنس کا انِقعاد وہیل چیئر ایشیا کپ: سری لنکن ٹیم کی فتح حکومت کا نیب ترمیمی بل کیس کے فیصلے پر نظرثانی اور اپیل کرنے کا فیصلہ واٹس ایپ کا ایک نیا AI پر مبنی فیچر سامنے آگیا ۔ جناح اسپتال میں 34 سالہ شخص کی پہلی کامیاب روبوٹک سرجری پی ایس او اور پی آئی اے کے درمیان اہم مذاکراتی پیش رفت۔ تحریِک انصاف کی اہم شخصیات سیاست چھوڑ گئ- قومی بچت کا سرٹیفکیٹ CDNS کا ٹاسک مکمل ۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں پر آج سماعت ہو گی ۔ نائیجیریا ایک بے قابو خناق کی وبا کا سامنا کر رہا ہے۔ انڈونیشیا میں پہلی ’بلٹ ٹرین‘ نے سروس شروع کر دی ہے۔ وزیر اعظم نے لیفٹیننٹ جنرل منیرافسر کوبطورچیئرمین نادرا تقرر کرنے منظوری دے دی  ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں وزارت داخلہ کے قریب خودکش حملہ- سونے کی قیمت میں 36 ہزار روپے تک گر گئی۔ عارف علوی کا اہم بیان بانی پی ٹی آئی صرف بااختیار لوگوں سے بات چیت چاہتے ہیں بلوچستان واشک میں کوئٹہ جانے والی بس کھائی میں گرنے سے 28 افراد جاں بحق 22 زخمی حکومت نے بجٹ 2024-25 میں امیروں کے لیے ٹیکس معافی واپس لینے کی تجویز پر غور کرنا شروع کردیا طوفانی بارشوں کے بعد کان کے تباہ ہونے سے 12 بھارتی ہلاک ہو گئے نیوکلیئر پاور کے حوالے سے پاکستان کی 26 سالہ یادگاری تقریب۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں آئندہ بجٹ پر انڈسٹری اور اکیڈمیا ڈائیلاگ پیشانی کو جھوٹی و خطاء کار کیوں کہا گیا؟ بہاولپور میں باپ کے ہاتھوں کمسن بچیاں قتل خانہ کعبہ کا سونے کا دروازہ ۔ رحمت کا پرنالا اور حجر اسود پر چاندی کا خول چڑھانے کے اعزاز بھی بہاولپور کے حصے میں آیا خانہ کعبہ کے دروازے اور حجر اسود کا خول تیار کرنے والی فیکٹری کے پاکستانی مالک خالق حقیقی سے جاملے

جسٹس قاضی فائز عیسی نے رولز بنائےجانے تک ازخود نوٹس کےتمام کیسز ملتوی کرنے کاحکم دیدیا

 سپریم کورٹ آف پاکستان میں ججز کے درمیان اختلافات اور تقسیم بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے اور اب سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین کی طرف سے ایک فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ازخود نوٹس مقدمات مقرر کرنے اور بینچ کی تشکیل کے لیے رولز موجود نہیں ہیں لہذا رولز بنائے جانے تک ازخود نوٹس کے آرٹیکل 184(3) کے تحت تمام کیسز کو ملتوی کردیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے از خود نوٹس کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ کا 12 صفحات کا فیصلہ جاری کردیا گیا جس میں کیس کا فیصلہ دو ایک کے تناسب سے جاری کیا گیا۔خصوصی بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین، جسٹس شاہد وحید شامل تھے۔جسٹس شاہد وحید نے فیصلہ سے اختلاف کیاہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری کے تمام کیسز کو ملتوی کردیا جائے۔سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ازخود نوٹس اور آئینی اہمیت کے مقدمات پر سماعت مؤخر کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ آئین اور قانون چیف جسٹس کو اسپیشل بینچ تشکیل دینے کی اجازت نہیں دیتے۔ آرٹیکل 184 تین کے تحت دائر درخواستوں کے حوالے سے قوانین موجود ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے تحریر کردہ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ سوموٹو مقدمات مقرر کرنے اور بنچز کی تشکیل کے لیے اس وقت رولز موجود نہیں۔ رولز کی تشکیل تک اہم آئینی اور ازخود مقدمات پر سماعت مؤخر کی جائے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کو خصوصی بینچ بنانے کا اختیار نہیں ہے۔ چیف جسٹس کے پاس اختیار نہیں کہ بینچ کی تشکیل کے بعد کسی جج کو بینچ سے الگ کریں۔

جسٹس فائز نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ چیف جسٹس اپنی دانش کو آئین کی حکمت کی جگہ نہیں دے سکتے۔ آئین نے چیف جسٹس کو یک طرفہ اور مرضی کا اختیار نہیں دیا۔ سپریم کورٹ کےتمام ججزکو اجتماعی طور پر تعین کا کام چیف جسٹس انجام نہیں دے سکتے۔فیصلے میں کہا گیا کہ اسیشل بینچ میں مختلف بینچز سے ایک، ایک جج کو شامل کیا گیااور عدالتی وقت ختم ہونے کے وقت کیس سماعت کے لیے مقرر کیا گیا۔

تحریری فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ پیمرا کی جانب سے ججز پر تنقید پر پابندی آئین اور اسلام کیخلاف ہے۔

2ججز کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان کے عوام اراکین پارلیمنٹ کے انتخاب کے وقت ان کا احتساب کرتے ہیں۔ اراکین پارلیمنٹ الیکشن میں عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں۔ قوانین کے تحت بیورو کریسی حکومت کو جوابدہ ہوتی ہے۔ عدلیہ اس طرح کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہے۔ایک جج سپریم جوڈیشل کونسل کو جوابدہ ہو سکتا ہے لیکن جوڈیشری نہیں۔ ججز دوسرے لوگوں کی سزا یا جزا کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ججز کو احتساب سے دور رکھنا اخلاقی، قانونی، مذہبی لحاظ سے غلط ہے۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ دوران سماعت عدالت کی توجہ پیمرا کی جانب سے ججز پر تنقید نشر کرنے کی پابندی پر دلائی گئی۔ پیمرا نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دے کر پابندی عائد کی۔ عدالتی فیصلہ پیمرا کو ایسا حکم نامہ جاری کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ پیمرا نے کبھی ضلعی عدلیہ کے ججز پر تنقید کے خلاف پابندی عائد نہیں کی۔ دوسروں کو قابل احتساب بنانے والے ججز کا احتساب نہ ہونا آئین اور شریعت کیخلاف ہے۔ عوام کا اعتماد اداروں کو خود جیتنا ہوتا ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس شاہد وحید نے فیصلے سے اختلاف کیا اور اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ جن معاملات پر فیصلہ دیا گیا وہ ہمارے سامنے ہی نہیں تھے۔اضافی نمبرکیس کیا تھا؟؟یہ کیس کراچی میں سامنے آیا تھا جہاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے یونیورسٹیوں کے داخلہ امتحانات میں حافظ قرآن امیدواروں کو اضافی نمبر دیے جانے پر سوال اٹھایا تھا۔

جنوری 2022 میں سپریم کورٹ میں کراچی کی ایک میڈیکل یونیورسٹی میں داخلوں کے متعلق ایک پٹیشن کی سماعت ہو رہی تھی ۔ اس دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھ لیا کہ حافظ قرآن  کو داخلہ امتحانات میں اضافی نمبر کیوں دیے جاتے ہیں؟

یہ پٹیشن بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کوئٹہ کے ایک طالب علم کی طرف سے ایک یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملنے پر دائر کی گئی تھی۔اس طالب علم کے میرٹ سے کچھ نمبر کم تھے جس پر اسے داخلہ دینےسے انکار کردیا گیا تھا۔ طالب علم کے وکیل نے عدالت عظمیٰ میں کہا کہ میرا موکل حافظ قرآن ہے اور اگر یونیورسٹی کی طرف سے اسے حافظ قرآن ہونے کے 20 اضافی نمبر دیے جاتے تو وہ داخلہ کا اہل ہوسکتا تھا۔اس کیس میں عدالت نے اس معاملہ کو ازخود نوٹس میں تبدیل کیا تھا اور اس حوالے سے خصوصی بینچ تشکیل دیا تھا۔جسٹس فائز عیسیٰ کی کیس کی سماعت:

رواں ماہ 15 مارچ کو اس کیس کی سماعت اسلام آباد میں ہوئی جہاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ازخود نوٹس کیس خصوصی بینچ میں سننے سے انکار کردیا تھا۔

جسٹس فائز نے ریمارکس دیے اگر حافظ قرآن ہونے کی بنیاد پر اضافی نمبر دینے ہیں تو پارلیمان سے قانون سازی کرائیں۔

دوران سماعت جسٹس فائز عیسیٰ نے ججوں کے کنڈکٹ سے متعلق خبر نشر نہ کرنے کے پیمرا خط پر تنقید کی تھی اور کہاتھا کہ تاثر یہ جاتا ہے کہ شاید عدالت نے لوگوں کا گلا گھونٹ دیا ہے، کوئی میڈیا کی آزادی کیسے دبا سکتا ہے؟

50% LikesVS
50% Dislikes
WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com