کردار

تحریر : (مسکان شاہد)
انسان اس کائنات کی وہ واحد مخلوق ہے جس کو اللہ نے کردار کی دولت سے نوازاہے اور اسی کردار کے حسن سے اس کائنات میں رنگینی ہے جبکہ دنیامیں باقی جتنی بھی مخلوقات ہیں وہ سب ”کردار“سے خالی ہیں،وہ صرف اپنی بنی بنائی جبلت پر چلتی ہیں۔وہاں تربیت کاکوئی تصور نہیں،جیسے ”درندگی“ایک جبلت ہے جو کہ بعض جانوروں میں پائی جاتی ہے۔ آ پ کوئی بھیڑیا پالیں اوراس کے ساتھ بچوں جتنا لاڈ پیار کریں مگر جس دن وہ بھوکا ہوگا وہ آپ کے بچے کو کھاجائے گا۔آپ اس درندگی کی شکایت نہیں کرسکتے، کیونکہ یہ اس کی جبلت ہے۔اسی طرح کتے میں بھی یہ جبلت ہے مگر اس میں تربیت کا مادہ اور وفاداری بھی ہے۔اس کو اللہ نے یہ شعور دیا ہے کہ وہ اپنے مالک کے بچے کو نہیں کھاتالیکن بھیڑئیے اور شیر کے پاس یہ کنٹرول نہیں ہے،وہ اپنی جبلت (درندگی) سے مجبور ہیں۔


انسان وہ مخلوق ہے جس کے اندر جبلت اور تربیت دونوں طرح کی صفات موجو دہیں۔بعض اوقات انسان کی تربیت اس قدر مضبوط ہوتی ہے کہ وہ جبلت پر حاوی ہوجاتی ہے۔جیسا کہ جنگِ یرموک میں جب شدید زخمی اور پیاس کی حالت میں ایک صحابی کے پاس پانی کا پیالہ آیا،مگر خود پینے کی بجائے انہوں نے دوسرے زخمی صحابی کو دے دیا۔پیاس میں پانی پینا انسان کی جبلت ہے اور یہاں بھی جبلت کہتی ہے کہ پانی پینا چاہیے مگرانہوں ے تربیت پر عمل کرکے ایثار و قربانی کی عظیم مثال پیش کی۔اسی طرح جبلت کہتی ہے کہ بھوک لگے تو کھانا کھالینا چاہیے، اگر مہمان آجائیں تو دیا بجھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن دوسری طرف ”تربیت“ہے جو یہ کہتی ہے کہ مہمان کو کھلادو اگرچہ خود بھوکے رہو۔ہمارے ہاں ہند وپاک میں کردارکا لفظ غلط مفہوم کے ساتھ استعمال کیا جاتاہے۔یعنی کردار کا جو اصل معنی ہے اس کے مطابق استعمال نہیں ہوتا۔ہمارے ہاں تین چارچیزوں کے ساتھ کردار کو جوڑا جاتاہے جیسے ایک شخص کسی کو مشورہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ”یہاں رشتہ مت کرنا!یہ لڑکا بدکردار ہے۔“ جب پوچھا جائے کہ کیسے؟تو جواب ملتا ہے ”وہ جوا کھیلتا ہے۔“ یا کہا جاتا ہے کہ ”شراب پیتا ہے۔‘‘یا ایسا بھی بولا جاتاہے کہ ”اس کی کوئی غیر ازدواجی تعلقات ہیں۔“ یہ وہ عمومی مثالیں ہیں جو ہمارے ہاں ”بدکردار“ ہونے کی علامت تصور کی جاتی ہیں۔اس حد تک تو کردار کی تعریف ٹھیک استعمال ہوتی ہے مگر غلط فہمی یہ ہے کہ اس کے علاوہ جو دوسری بدخیانتی والے عادات ہیں ان کو بدکرداری نہیں شمار کیا جاتا۔جبکہ اپنا کام درست طریقے سے نہ کرنا،نوکری کے ٹائم کو پورا استعمال نہ کرنا، وعدہ خلافی یا بغیر اجازت کے کوئی چیز استعمال کرنا،یہ تمام عادات بھی بدکرداری کے زمرے میں آتی ہیں۔ آپ کو کئی لوگ ملیں گے جن میں اس طرح کی دوسو برائیاں ہیں۔جیسے سگے بھائی کو اس کا حق نہ دینا،پیسے وصول کرکے خریدار تک چیزنہ پہنچانا،آج آپ انٹرنیٹ پر کوئی جوڑا آرڈر کریں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ جو آپ نے منتخب کیا تھا اور جو آپ کے پاس گھر آیا ہے اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس طرح دھوکے بازیاں اور جھوٹ بہت عام ہے۔ایسے لوگوں کی سوچ صرف پیسہ کمانے کی ہوتی ہے چاہے اس کے لیے جھوٹ ہی کیوں نہ بولنا پڑے۔یہ لوگ ایک جگہ دھوکہ دہی سے کچھ رقم کمالیتے ہیں پھر اس کاروبار کو چھوڑکردوسری جگہ نیا ڈرامہ شروع کرلیتے ہیں۔
اگر ہم مغربی اقوام پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ غلط اور صحیح سے قطع نظر، ان کے ہاں کردار کی تعریف یہاں سے بالکل مختلف ہے۔کچھ چیزیں ان میں دینِ اسلام کی ہیں جیسے وقت کی پابندی، سچ بولنا، وعدے کو پورا کرنا وغیرہ جبکہ بعض چیزیں ایسی ہیں جن کو ہم انسانیت کے خلاف سمجھتے ہیں مگر وہ ان کے ہاں عام سی بات ہے۔جیسے ایک قبیلہ ہے جن کے ہاں یہ دستور ہے کہ جب ان کے بزرگ مرجاتے ہیں تو وہ ان کودفنانے کی بجائے پکاکر کھالیتے ہیں ان کے لیے یہ ایک روحانی عمل ہے۔ان کے بقول بجائے اس کے کہ ہمارے مردے کو کیڑے کھائیں،اس کو ہم ہی کیوں نہ کھالیں۔جبکہ ہم اس سوچ کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔اسی طرح ایک فرقہ اور ہے جن کے ہاں جب کوئی مرجاتا ہے توہ وہ اس کو چیلوں کے آگے ڈال دیتے ہیں۔ ان کے ہاں چیل ایک مقدس جانور ہے۔یہ ان کا خاندانی رسم ہے اور ان کو مذہبی سربراہ کی طرف سے یہ باقاعدہ حکم ہوتا ہے کہ چیل کااحترام کرنا ہے،اور وہ جہاں بھی نظر آجائے اس کے آگے کچھ نہ کچھ ڈالنا ہے۔یہ تمام عادات اگر چہ ہمیں غلط اور نامناسب لگتی ہیں مگر ان کے ہاں اس چیز پر کوئی قدغن نہیں لگاتا اور اس غیر انسانی عادات پر کوئی بھی کسی کو بدکردار نہیں کہتا۔
معاشرتی اور مختلف فرقوں کے اعتبار سے کردار کی تعریف جان لینے کے بعد یہ بات سمجھ لیجئے کہ کردار وہ نہیں ہے جو سماجی یا معاشرتی طور پرہمارے ہاں رائج ہے۔دوسری بات یہ کہ کردار وہ بھی نہیں جس کا تقررانسان کریں جیسے کوئی شخص کہے کہ ”میرے مطابق کردارکا معیار یہ ہے اوراگر کوئی عمل اس کے مطابق ہے تو ٹھیک،وگرنہ بدکردار ی ہے۔“تو یہ بات غلط ہے۔کیونکہ انسانوں کی سوچ اور ان کے بنائے ہوئے قاعدے محدود ہوتے ہیں۔اس بات کو ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔میں نے بلوچستان کے کئی سارے سفر کیے ہیں۔وہاں پر تین، چار شادیوں کا رواج عام ہے اور اس پر کوئی معاشرتی یا سماجی روک ٹوک نہیں ہے اور نہ ہی اس کو بر اسمجھا جاتاہے۔ جبکہ آپ پنجاب میں دوسری شادی کی بات کرکے دیکھیں،آپ کوہزار جگہوں سے ”بدکردار“ کا لقب مل جائے گااور یہ سوچ لوگوں میں اس قدر سرایت کرچکی ہے کہ ایک دفعہ میں نے ایک شخص سے کسی دوسرے صاحب کے بارے میں پوچھا کہ وہ کیسا انسان ہے؟اس نے جواب دیا:”وہ بڑا بدکردارہے۔“میں نے پوچھا ”کیسے؟“ تو وہ بولا:”اس کو شادیوں کا بڑاشوق ہے۔“اس سے اندازہ لگالیں کہ ہماری سوچ اور ڈکشنری کس قدر خراب ہے۔کہ نکاح جو کہ ایک حلال اور پسندیدہ عمل ہے اس کے کرنے والے کے کردار پر شک کیا جاتاہے۔جبکہ چھوٹی چھوٹی خیانتوں کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔
اسلئے سماج میں کردار کی تعریف وہ نہیں جولوگوں نے مقرر کی ہے بلکہ کردار وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے۔عقل سے اوپرچیز کا نام وحی ہے اور کردار بھی اسی کو سمجھا جائے گا جو وحی کے علم کے مطابق ہو۔اب اگر کسی شخص کے لیے وحی،عقل سے اوپر نہیں ہے تو وہ ہمیشہ خسارے میں ہو گا۔ جوشخص اپنی بات کو نیچے اور اللہ کی بات کو اونچا نہیں رکھ سکتا،وہ ناکام رہے گا۔ کردار کی جو تعریف وحی کے علم کے مطابق ہے وہی تمام لوگوں کے لیے ہے۔ہم معاشرتی یا سماجی تعریف کے طورکی بنیاد پرکردار کو مخصوص نہیں کرسکتے،کیونکہ انسانوں کی معاشرت میں بہت اختلاف ہے جس کی بناء پر اگر ہم ایک تعریف کو لیتے ہیں تو دوسری جگہ وہ غلط تصور کی جاتی ہے۔ملک پاکستان میں کتنے صوبے، ضلعیں،تحصیلیں، علاقے اور گاؤں ہیں اور ہر ایک گاؤں،علاقے اور تحصیل کا رسم ورواج،زبان اور اقدار مختلف ہیں۔یہاں ہر ساٹھ کلومیٹر پر ایک تہذیب بدل جاتی ہے۔ایک سو کلومیٹر پر سبزی کا ذائقہ بدل جاتاہے اور 120کلومیٹر پر جینے مرنے کی رسمیں تک بدل جاتی ہیں۔جب ایک ہی ملک میں اس قدرتنوع(ورائٹی) ہے تو ہم معاشرتی طور پرکردار کی تعریف نہیں لے سکتے۔ اس مشکل کو حل کے لیے ہمیں قرآن و حدیث کی طرف رجوع کرنا پڑے گا،قرآن و حدیث میں باکردار لوگوں کی یہ صفات بیان کی گئی ہیں:
(1)انصاف کرتے ہیں۔(2):”حق دار کو حق دیتے ہیں۔“(3):”امانت میں خیانت نہیں کرتے۔“(4):”وہ اپنے ذاتی کی بجائے اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔“(5):”وہ تقویٰ والے ہیں۔“(6): ”باکردار وہ ہے جس میں تزکیہ ہے۔“ تزکیہ کا مطلب ہے اپنے اندر کی منفیت کو ختم کرنا، یعنی اپنے سے غیر ضروری چیزوں کو پاک کرتاہے۔(7):”طمع ولالچ سے آزاد ہوتا ہے۔“ غرض یہ کہ اگر ہم کردار کی تعریف ایک لائن میں جاننا چاہتے ہیں تو کردار وہ ہے جو حضور(ص) کا کردار ہے۔ دنیا کی معلوم تاریخ میں حضور ﷺ کی ذات گرامی وہ ہستی ہیں جن کے کردار کوہر ایک نے مانا ہے۔ قرآن بھی کہتا ہے کہ ”ان کی ذات تمہارے لیے نمونہ ہے۔“ انسانوں میں سب سے اونچا،،قابلِ اعتماداورپیروی کی قابل شخصیت حضور (ص) کی ذات ہے۔جب اسلامی تعلیمات نے واضح الفاظ کے ساتھ کردار کی تعریف کردی ہے تو اب سوال یہ ہے کہ یہ کردار ہمارے معاشرے میں کیوں نہیں ہے؟جواب یہ ہے کہ کردار کی تبلیغ سے کردار پیدا نہیں ہوتابلکہ عمل سے ہوتاہے۔ہمارے ہاں نصیحتیں تو بہت زیادہ ہورہی ہیں مگر عملی طور پر ہم خالی ہیں۔اگرصرف وعظ و نصیحت سے کردار پیدا ہونا ہوتاتو پاکستان میں اب تک سب سے زیادہ ہوچکا ہوتا۔ مگر ایسا نہیں ہے۔اس لیے بحیثیت مسلمان ہمارا یہ فرض بنتاہے کہ اسلامی تعلیمات اور معاشرتی اقدار کو اپناکر ایک باکردار فرد ہونے کا ثبوت دیں ہم اگر اس کو انفرادی ذمہ داری سمجھ کر نبھائیں تو پھر کہیں بھی کوئی بددیانتی نہ ہوگی، کہیں کوئی ملاوٹ نہ ہوگی،نہ کسی کو تکلیف دی جائے گی،نہ کہیں چوری ہوگی،نہ قانون کی خلاف ورزی ہوگی اور نہ ہی کسی کا حق دبایا جائے گااور پھر یہ معاشرہ،اسلامی روح سے مزین ایک خوش حال مثالی معاشرہ ہوگا اورتب دنیا کی امامت کا کام ہم سے لیا جائے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com