آج کا نوجوان

تحریر : طلعہ زید

مزا ہے عہد جوانی میں سر پٹکنے کا،
لہو میں پھر یہ روانی رہے، رہے نہ رہے.

استاد محترم شیخ القرآن والحدیث مولانا مفتی محمد آیاز صاحب کے رمضان کا دورہ تفسیر القرآن شروع تھا،

اس سال کچھ مجبوریوں کی وجہ سے بندہ ناچیز درس قرآن میں شرکت کرنے سے محروم رہا،

لیکن سوشل میڈیا پر مفتی صاحب کے درس قرآن کو Live سننا نہ بھولا، اسے الحمداللہ جاری وساری رکھا،

مفتی صاحب سورت کھف میں اپنی طرز گفتار سے تشریح فرمارہے تھے،
اور وہ بھی بطرز امام انقلاب علامہ عبیداللّٰہ سندھی رحمہ اللہ ،

مفتی صاحب جب اس آیت پر پہنچے،

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ ۭ اِنَّهُمْ فِتْيَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنٰهُمْ هُدًى،

ہم تمہارے سامنے اُن نوجوانوں کا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں،
یہ کچھ نوجوان تھے، جو اپنے پروردگار پر اِیمان لائے تھے، اور ہم نے اُن کو ہدایت میں خوب ترقی دی تھی،

استاد محترم نے اس آیت کی تفسیر کچھ یوں بیان فرمائی، کہ یہ نوجوان تھے،
یہ نوجوان تھے۔۔
انھم فتیة۔۔۔۔۔۔۔۔

اب ذرا وضاحت کریں کہ فتیۃ (نوجوان) کسے کہتے ہیں،

چونکہ یہ واضح ہے کہ ان کے غار میں قیام کی مدت کے متعلق دو جماعتوں کے مختلف قول تھے، اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو ان کے متعلق کچھ نہ کچھ علم تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم آپ کو ان کا قصہ حق کے ساتھ بیان فرماتے ہیں،

پھر ان کے متعلق فرمایا کہ وہ چند نوجوان تھے، جو از خود ایمان لے آئے تھے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں کسی واسطہ کے بغیر ایمان ڈلا دیا تھا، اس آیت میں ان کے لئے فتیة کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں :

فتی کا معنی ہے : تازہ نوجوان لڑکا یا لڑکی، فتیا اور فتویٰ کا معنی ہے کسی مشکل سوال کا جواب،
(المفردات ج ٢ ص 682)،

علامہ ابوعبد اللہ مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

اہل زبان نے کہا ہے کہ فتوت کی بلندی ایمان ہے، اور جنید بغدادی نے کہا ہے کہ بھلائی کو خرچ کرنا اور برائی سے اپنے آپ کو روکنا اور شکایت کو ترک کرنا فتوت ہے، یعنی مردانگی ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ حرام چیزوں کو ترک کرنا اور نیکی میں جلدی کرنا فتوت ہے،
(الجامع الاحکام القرآن ج 10 ص 327)،

تو قرآن نے جسے نوجوان کہا،
ان نوجوانوں کا کمال کیا تھا،

امنو بربھم وزدنھم ھدی۔۔۔۔۔

اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے، اور ہم نے ان کو ھدایت میں خوب ترقی دی تھی، یعنی مزید ہدایت یافتہ بنایا تھا،

پھر استاد محترم سے یہ بات سننے کو ملی،
کہ یہ نوجوان تھے،
جو غیر اللّٰہ کے نظام کے مقابلے میں شہر کو چھوڑ کر غار میں پناہ لی،

اللّٰہ تعالیٰ کو ان کا یہ عمل اتنا پسند آیا کہ خود قرآن کریم میں تعریف فرمایا،

یہ آیت جب میں نے سنا تو میرے اندر ایک جذبہ اجاگر ہوا،

اور یقینا جب ان آیات کو کوئی بھی مومن نوجوان سنے گا،
تو وہ بھی جذبہ ایمانی سے سرشار ہوگا،

ان چند نوجوانوں نے اپنے زمانے میں جو کردار ادا کیا،
وہ تمام نوجوانوں کےلئے مشعل راہ ہے،

یقینا ہر دور میں مومنین نوجوان موجود ہوتے ہے،

ایک واقعہ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرنا چاہتا ہوں،
جو کہ قرآن کریم میں موجود ہے،

قرآن کریم نے اسی طرح موسی ؑ پر ایمان لانے والے چند نوجوانوں کا تذکرہ کیا ہے،
موسیؑ کو قوم نے ہر طرح اور ہر طرف سے جھٹلایا،

لیکن وہ چند نوجوان ہی تھے، جو کھٹن حالات میں بھی موسیؑ کی نبوت پر ایمان لائے،

اللّٰہ تعالی کا ارشاد ہے کہ موسیؑ کو اسی قوم میں فرعون کے ڈر سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا،

یہ تھے نوجوان،

آپ کو ایک اور مزے کی بات بتاتا چلوں،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعوت حق کا آغاز کیا، تو ابتدا میں نوجوانوں نے آپ کی آواز پر لبیک کہا،

جوانی کی عمر اللّٰہ تعالی کی طرف سے ایک بڑی نعمت ہوتی ہے، ایک تحفہ وہدیہ ہوتی ہے،

اسی وجہ سے قیامت کے دن جوانی کے بارے پوچھا جائے گا،

عبداللّٰہ بن مسعودؓ سے روایت ہے، کہ اللّٰہ کے رسولؐ نے فرمایا،

قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے،

یہاں تک کہ ان سے پانچ باتوں بارے سوال پوچھا جائے،

ان پانچ باتوں میں مہم بات یہی ہے کہ جوانی کہاں صرف کی،

مال کمانے کا تعلق بھی اسی عمر سے شروع ہوتا ہے،
حصول علم کا تعلق بھی اسی عمر سے شروع ہوتا ہے،

نوجوانی کی عمر صلاحیتوں کو بیدار کرنے اور اس میں نکھار پیدا کرنے کی ہوتی ہے،

عمر کے اسی مرحلہ میں صحابہ کرامؓ نے بڑے بڑے کارنامے سر انجام دئے تھے،

یہی وہ عمر ہے جسمیں خالید بن ولیدؓ نے بارگاہ نبوت سے سیف اللّٰہ کا لقب حاصل کیا،

دور شباب میں ہی علیؓ،
معصب بن عمیر، عمارؓ بن یاسر، ابن زبیر ، ابن العاصؓ نے اللّٰہ کے رسول سے شانہ بشانہ عہد وپیمان باندھا،

اسی عمر میں ابن تیمیہ رح، شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی رح، امام غزالی رح جیسے مجددین علوم کی گہرائیوں میں اترے،

اسی دور شباب میں صلاح الدین ایوبی رح، طارق بن زیاد رح اور محمد بن قاسم رح نے اسلامی تاریخ کو اپنے ناموں سے منور کیا،

مولانا ابوالکلام آزاد نے صحافت کا میدان نوجوانی میں اختیار کیا،

تو خلاصہ کلام یہ ہوا کہ نوجوانی دراصل میدان عمل ہے،

لیکن ناظرین کرام آج کا نوجوان
جنہیں ڈاکٹر علامہ اقبال رح نے شاھین کا خطاب دیا تھا،

آج اسکا حال آپ کے سامنے واضح ہے،

دور حاضر میں امت مسلمہ کے نوجوان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے، کہ احکامات الہی سے دوری اختیار کیا ہوا ہے،

قرآن مجید کو ایک رسمی کتاب سمجھتا ہے،

اس کتاب کے متعلق اسکا تصور یہ ہے کہ اسکے ساتھ اگر تعلق قائم کرلیا بھی جائے،
تو محض زیادہ سے زیادہ تلاوت،

آج کا نوجوان اس حقیقت سے دور بھاگتا ہے، کہ یہ کتاب دور حاضر کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتا ہے،

درحقیقت قرآن مجید وہ کتاب ہے جو درس انقلاب ہے،

یہ نہ صرف عصر حاضر کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،
بلکہ تمام مسائل کا حل بھی فراہم کرتا ہے،

میرے نوجوانوں کی تباہی کی دوسری بڑی وجہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ہے،

چاہیئے تو یہ تھا کہ اس کو اللّٰہ کی دین کے لئے استعمال کرتے، ان کی دفاع کے لئے پیش پیش کرتے،
لیکن بجائے حقیقی استعمال کے اس میڈیا نے ہمیں اپنے پنجے میں جکڑ لیاہے،

یہ یاد رہے کہ انٹرنیٹ اور موبائل عصر حاضر کی اہم ضرورت بن چکی ہے،

تعلیمی و تحقیقی کاموں اور رابطہ کے لیے اس کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے،

معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی اور اخلاقی اقداروں کی تباہی بھی اسی کی مرہون منت ہے،
نوجوانوں میں اس کے بے تحاشا بڑھتے ہوئے رجحانات نے ان کی جنسی خواہشات کو برانگیختہ کر دیا ہے،
انٹرنیٹ پر ان گنت حیا سوز سائٹس ہیں،
جن تک ہر نوجوان بہ آسانی رسائی حاصل کرسکتا ہے،
گھر سے لے کر کالج تک اور کالج سے لے کر بازار تک بے حیائی پر مبنی ماحول نے نوجوانوں کے اخلاق کا دیوالیہ نکال دیا ہے، اور اسی کی بدولت آج کا نوجوان خوف، تناؤ، ذہنی اور نفسیاتی امراض کا شکار ہوچکا ہے،
امت مسلمہ کے اس گراں قدر سرمائے کو اطمینانِ قلب، تطہیر ذہن، حیا پسندی، پاک دامنی اور حسن اخلاق سے متصف کرانا وقت کا ایک تجدیدی کام ہے،

گزارش ہے اہل دانش و علماء حق سے کہ اسلام کی اساسیات اور اس کے نظام و حقائق اور رسالت محمدیؐ کا وہ اعتماد واپس لایا جائے، جس کا رشتہ آج کے نوجوانوں سے چھوٹ چکا ہے،

آج کا سب سے بڑا جہاد اور عبادت اسی فکری اضطراب اور نفسیاتی الجھنوں کا علاج کرنا ہے،
جن میں آج کا تعلیم یافتہ نوجوان مبتلا ہے،
میرے نوجوان بھائی آج فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک کی دنیا میں مصروف ہیں،

اور تو چھوڑیے انہیں اپنے نماز کا بھی نہیں پتہ،
انہیں اپنے عظیم الشان کتاب کا نہیں پتہ،
کہ اللّٰہ تعالی اس عظیم کتاب میں مجھ سے کیسے مخاطب ہے، اور کیا فرمانا چاہتا ہے، اور اس کے نازل ہونے کے مقاصد کیا ہیں،

آج کا نوجوان پب جی کھیلے،
یا فیس بک ٹک ٹاک وغیرہ،
یہ اسے پسند ہے بمقابلہ کتاب اللہ،
اللّٰہ کی کتاب کو سمجھنا انہیں فارغ لوگوں کا کام لگتا ہے، یا صرف غم و تکلیف میں تلاوت کے لئے اچھا لگتا ہے،

کرکٹ جیسے لہو ولعب میں گھنٹوں ضائع کرنا، اور میچ کے بعد کالج، راستوں یا کسی بھی جگہ میں کرکٹ کا تذکرہ کرنا قابل فخر کارنامہ سمجھاجاتا ہے،

لیکن کبھی بھی ایسے نوجوانوں کی طرف سے قرآن کریم کی ایک آیت زبان پر جاری نہیں ہوتی،
اپنی قیمتی توانائی سیاسی پارٹیوں، یا لہو و لعب میں صرف کرتا رہتا ہے،

خدارا ابھی بھی ہمارے پاس وقت ہے،
آئیے اس اندھیر نگری سے نوجوانوں کو نکالنے کی کوشش کریں،

اس ضمن میں ایک انمول بات پیش کرنا چاہتا ہوں،
جو کہ شیخ عبیداللّٰہ سندھی رح فرمایا کرتے تھے،

خصوصا علماء کیلئے ایک قابل غور بات ہے،

" کہ میں ایک تو یہ علماء سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ وہ اب دارالعلوم کے نام پر گزران العلوم نہ بنائے، بلکہ ایک ضروری کام یہ کریں کہ جہاں حکومت کوئی یونیورسٹی بنائے ، کالج بنائے وہی تم لوگ طلباء کی رہائش کیلیے ہاسٹل بناؤ ، مدرسہ ہو یا ہاسٹل ہوں، اور اس میں بس ایک عدد مسجد ہوں، اس ہاسٹل میں طلباء کو مفت رہائش دی جائے ، لیکن کھانے کے پیسے ان سے لی جائے،

بس ان سے یہ شرط لی جائے کہ بیٹا ، جب تک اس ہاسٹل میں رہوگے، تو نماز باجماعت پڑھوگے، جب تم کالج میں جاؤ، یا کہیں بھی جاو ہم تمہیں کچھ نہ کہیں گے،
تم جانو اور تمہارا خدا جانے،
اور صبح کی نماز کے بعد تین آیات درس قرآن، اور عشاء کے بعد تین احادیث کا درس دیا جائے،
پھر یہی لوگ کل حکومت کے عہدوں پر پہنچیں گے،

یہ مولوی تو نہیں بنیں گے، لیکن مولوی بے زار بھی نہیں ہونگے،
ان کو مولویوں سے نفرت نہیں ہوگی،

امام انقلاب کا اس سے بہترین، پرمغز، جاندار نصیحت آپ کو کہیں پر نہیں ملے گا،

اللّٰہ تعالی ہم سب کو کامل مومن اور باعمل نوجوان بنادے،

اپنی تحریر کا اختتام شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال رح کے اس شعر پر کرتا ہوں،

مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے،
وہ کیا تھا؟ زورِ حیدرؓ، فقر بوذرؓ، صدق سلمانیؓ.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com