مائنڈکو مائنڈ دیں!

(قلم کلامی: قاسم علی شاہ)
انسانی مائنڈ (دماغ) کی مثال بندر کی طرح ہے۔ ایک جگہ پر رُکتا نہیں بلکہ اِدھر اُدھر پھدکتا رہتا ہے جس کو کنٹرول کرنا انسان کے لیے بہت ضروری ہے، کیونکہ انسان اگر اس کو کنٹرول نہ کرے تو پھریہ انسان کو کنٹرول کرتا ہے اور جب ایک انسان کا مائنڈ اس پر غالب آجاتا ہے تو پھر ایسے نتائج واقع ہوتے ہیں جن کو انسان پسند نہیں کرتا۔ ایک انسان اپنا ہاتھ ہلانا چاہتا ہے تو وہ اپنے مائنڈ کو سگنل بھیجتا ہے اور مائنڈ اس کے سگنلز لے کر اس کے مطابق ہاتھ ہلا دیتا ہے۔ یہ صورت وہ ہے جس میں انسان نے اپنے مائنڈ کو کنٹرول کیا ہوا ہے اور ایک صورت یہ ہے کہ انسان اچانک دھماکے کی آواز سنتا ہے اور یکدم اس جگہ سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اب یہاں پر اس انسان نے اٹھنے کے لیے اپنے مائنڈ کو سگنل نہیں دیے بلکہ یہ بات اس کے مائنڈ میں بیٹھی ہوئی تھی کہ جیسے ہی کوئی دھماکا سنو تو وہاں سے نکل بھاگو۔ یہاں اس کو اس کے مائنڈ نے کنٹرول کیا۔ اسی طرح کسی ایک فرد کو دوسرے سے جب نفرت ہوتی ہے تو وہ اپنے اقوال اور افعال سے اس کا اظہار کرتا ہے، یہ بھی مائنڈ کر رہا ہوتا ہے۔ مائنڈ کا انسان کو کنٹرول کرنا مثبت کاموں کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن اگر یہ منفی کاموں میں ہو تو بڑی خطرناک بات ہے۔
ٍایک ریسر چ کے مطابق انسان کی زبان جو چیزیں نہیں بولتی وہ اس کا جسم بولنے لگ جاتا ہے ،جس کو ’’بدن بولی‘‘ کہا جاتا ہے ۔کسی بھی حساس کیس میں اگر ایک شخص کی انویسٹی گیشن ہورہی ہو تو ایک افسر دور بیٹھ کر اس کی جسمانی حرکا ت وسکنات نوٹ کررہا ہوتا ہے ،جبکہ اس کے ساتھ دو تین کیمرے بھی لگے ہوتے ہیں. یہ سب ا س لیے ہوتا ہے کہ اگر اس کی جسمانی حرکات معمول سے ہٹتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب وہ شعوری طورپر خود کو کنٹرول نہیں کررہا بلکہ اس کا مائنڈ اس کی باڈی لینگویج کو کنٹرول کررہا ہے اورمائنڈ چونکہ جھوٹ نہیں بولتا یوں اس کا جھوٹ پکڑ لیاجا تا ہے۔
مائنڈ کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟
(1)ون ایجنڈا
سب سے پہلے اس بات کا تعین ضروری ہے کہ آپ اپنے مائنڈ سے کیاکام لینا چاہتے ہیں ۔یہ بات یاد رکھیں کہ انسانی دماغ کے پاس جب کوئی واضح مقصد ہوتا ہے تب ہی وہ شاندار نتائج دیتا ہے۔دنیا کا ہر کنفیوژڈ انسان بہترین دماغ ہونے کے باوجود بھی بہترین نتائج نہیں دے سکتا۔مائنڈ کو کام کرنے کے لیے وضاحت(Clarity)، وژن اورOne agenda چاہیے ۔دنیا میں جتنے بھی مشہور اور کامیاب لوگ گزرے ہیں انہوں نے اپنے مائنڈ کو مائنڈ دیا تھا ۔ان کے سامنے واضح اور متعین مقصد تھا جس کی بدولت وہ رفتہ رفتہ اپنی منزل کے قریب ہونے لگے۔انسان اپنے تحت الشعور سے تب ہی کوئی کام لے سکتا ہے جب وہ اس کوایک واضح مقصد دے دے،پھر اگرچہ ساری دنیا کہہ دے کہ یہ کام ٹھیک نہیں ،یہ بے مقصد ہے وغیرہ وغیرہ ،لیکن اس شخص کو ان باتوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ،وہ اپنے مقصد میں تن من دھن سے لگا ہوتا ہے ۔
آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ انسان کے ’’مائنڈ‘‘ کے پاس کوئی ’’مائنڈ‘‘ نہیں ہوتا۔اس کو مائنڈ دینا پڑتا ہے تب ہی یہ کام کرتا ہے اور اگراس کو کھلا چھوڑدیا جائے تو پھر انسان گمراہ یا کنفیوژن کا شکار ہوسکتا ہے ۔ جیسا کہ ایک کاؤنسلر کے پاس ایک جوان آیا کہ میری کیریر پلاننگ کردیں۔اس نے پوچھا ’’تم کیا بننا چاہتے ہو؟‘‘جواب میں وہ بولا :’’سر میرا دل کرتا ہے کہ میں انجینئر بن جائوں۔‘‘کاؤنسلر نے کہا: ’’تو ٹھیک ہے بن جائو۔‘‘جوان بولا: ’’نہیں سر ! امی کہتی ہے ڈاکٹر بن جاؤ۔‘‘اس نے پھر کہا:’’تو ٹھیک ہے وہ بن جاؤ۔‘‘جوان پھر بولا:’’ نہیں سر! دادا جی کا خواب تھا کہ میں پائلٹ بن جاؤں۔‘‘جب کاؤنسلر نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر پائلٹ بن جاؤ تووہ بولا:’’نہیں سر! جہاز بہت تیزی سے اونچا اڑتا ہے، میرا دِل بہت گھبراتا ہے۔‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اکثر جوانوں کے پاس مقصدِ زندگی نہیں اور وہ کنفیوژن کا شکار ہیں۔
One agenda
پر عمل کرتے ہوئے انسان کامیابی ضرور پاتا ہے اور جب وہ کسی فیلڈ میں کمال بن جائے تو اس فیلڈ کے سارے باکمال لوگ اس کے دوست بن جاتے ہیں، جبکہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہر فیلڈ میں ادھورے ہیں ۔ کسی بھی مقصد کو حاصل کرلینے کا اولین طریقہ یہ ہے کہ اپنے مائنڈ کو ایک مقصد دے دیں،پھر باہر کی دنیا میں کچھ بھی ہوجائے ،آپ کا ذہن اپنے کام میں لگا رہے گا۔مسئلہ تب بنتا ہے جب تعلیم کچھ کہہ رہی ہوتی ہے ، والد صاحب کچھ کہتے ہیں اور آج کے نوجوان نے اپنی خودشناسی نہیں کی ہوتی ، تو پھر وہ بھٹک رہا ہوتاہے ۔اس کے اندر سے آواز بھی آرہی ہوتی ہے کہ تم جو کررہے ہو وہ ٹھیک نہیں ،مگر اس نے اندر کی آواز کو سلادیا ہوتا ہے ۔وہ ٹرینڈ اور رواج کے پیچھے چلتاہے اور پھر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ کسی قابل نہیں رہتا۔
انسان بے شک مناسب طرزِ زندگی اپنائے مگر اپنا عزم و ارادہ بلند رکھے ۔زمین پر چلنے میں کوئی حرج نہیں ہے ،بس نگاہ آسمان پر ہونی چاہیے ۔تب مقصد کے ساتھ یگانگت پیدا ہوتی ہے لیکن جس انسان کی دعا ہی ہر وقت بدلتی رہتی ہو تو پھر وہ پوری کیسی ہوگی۔کنفیوژن کا یہ عالم ہے کہ ہم ایک وقت میں انجینئر بننے کے لیے دعا مانگ رہے ہوتے ہیں ۔کچھ عر صے بعد ڈاکٹر بننے کی ، کچھ عرصے بعد ملازمت کی ،پھر شادی کی اور اس کے بعد نہ جانے کیا کیا ۔ہمارارب کی رحمت پر مکمل بھروسا ہے اور اس بات کابھی یقین ہے کہ وہ ہم سے ستر ماؤں جتنا پیار کرتا ہے لیکن جب بندہ ہی مستقل مزاج نہ ہو تو پھراس کے ساتھ معاملہ اس کے اپنے رویے کی بنیاد پر ہی ہوگا ۔
یاد رکھیں !انسان کی دعاوں میں اثر تب آتا ہے جب ان میں مستقل مزاجی اور لگن ہو۔کائنات انسان کو جواب تب دیتی ہے جب اس کے پاس One Thing ہو ۔قرآن میں سورۃ النجم کی آیت یہی کہتی ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لیے وہ سعی کرتا ہے۔یہاں کوشش نہیں کہا گیاکیونکہ کوشش چھوٹا لفظ ہے جبکہ اس کے برعکس ’’سعی‘‘ کا معنی ہے:
’’اپنا آپ کسی ایک کام میں لگادینا ‘‘
اور ایسا انسان ہی کسی مقام پر پہنچتا ہے۔اس سے یہ بات بھی ثابت ہوجاتی ہے کہ جو مسلمان ہوگا وہ محنتی اورذمہ دار ہوگا۔
(2)خود کلامی:
ا س کو ہم خود تلقینی بھی کہہ سکتے ہیں ۔ ہر انسان ہر وقت کچھ نہ کچھ خود کلامی اپنے ساتھ کررہا ہوتاہے اور یہ باتیں انسان کے ذہن میں چل رہی ہوتی ہیں ۔ ایمرسن کا جملہ ہے کہ
’’ انسان وہی بنتا ہے جو پورا دِن وہ سوچتا رہتا ہے ۔‘‘
جیسا ہی انسان اپنے آپ کو سمجھاتا ہے اور اپنے ذہن کو ایک واضح گول دیتا ہے تو وہ اس کی طرف بڑھنا شروع ہوجاتا ہے ۔انسان شعوری اور لاشعوری طورپر اپنے ساتھ جو خودکلامی کرتا ہے وہ بہت اہم ہوتی ہے ۔اسی کے بارے میں ٹونی روبنس کہتا ہے کہ
’’ جتنی معیار کی باتیں آپ اپنے ساتھ کرتے ہیں ،اتنے ہی معیار کا مستقبل آپ کا منتظر ہوتا ہے۔‘‘
اب ہر انسان کو سوچنا چاہیے کہ میں جو اپنے ساتھ خودکلامی کرتاہوں ،وہ کیسی ہوتی ہے اور آیا اس میں حُسنِ خیال ہوتا ہے کہ نہیں ۔ہمارے اکثر خیالات ’’حُسنِ خیال‘‘ سے خالی ہوتے ہیں۔انسان کو ہمیشہ ایسے خیالات اور خودکلامی کرنی چاہیے جو اس کے عزم کو مزید تقویت دے،جیسے یہ خیال کہ
’’میں کرسکتا ہوں۔‘‘
جس انسان میں بھی یہ خودکلامی ہوگی وہ کسی مشکل کام سے نہیں گھبرائے گا۔اسی طرح دوسر ا خیال ہے ’’وقت ختم ہورہا ہے۔‘‘یعنی وقت کے ختم ہوجانے کا احساس، جس کوبھی یہ احساس ہو وہ اپنا وقت کبھی ضائع نہیں کرے گا.
(3)تحت شعور کا ایندھن:جذبات
ہرایک مشینری کے لیے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے جس کی بدولت وہ چلتی ہے ،ایسا ہی تحت شعور کو چلانے کے لیے بھی ایندھن کی ضرورت ہے اور اس کا ایندھن جذبات ہیں ۔ انسان وہی کام کرسکتا جس کے لیے وہ جذباتی حد تک سوچے۔جب بھی انسان اپنے اہداف کوجذبات کے ساتھ ملالیتا ہے تو اس کا تحت شعور (Sub-concsious) کام کرنا شروع کردیتا ہے.
(4)تصور نگاری:
تصور نگاری کا مطلب ہے کہ انسان کے جو اہداف ہیں ،ان کے بارے میں ایسا سوچنا گویا وہ زندگی میں واقع ہوچکے ہیں ۔اگر انسان کے تصور کی دنیا میں وہ واقعہ ہوتا رہتا ہے تو ایک دن وہ ضروروقوع پذیر ہوجائے گا۔اس پر امریکہ میں باقاعدہ ایک ریسرچ ہوئی اور باکسنگ کے کھلاڑیوں کی آنکھیں بند کرواکر پریکٹس کروائی گئی. انہوں نے دیکھا کہ جن لوگوں کی ذہنی مشق جتنی بہترتھی وہ جسمانی فٹنس والے کھلاڑی سے زیادہ کامیاب تھے۔تصور نگاری کا مطلب یہ ہے کہ انسان رہے تو سب انسانوں میں لیکن اس کا ہدف کہیں اور ہو اور وہ وہاں پہنچ چکا ہو۔
(5)اپنے عزائم کی دہرائی:
انسان اپنے عزائم کو بار بار اپنے دل و دماغ میں دہرا تا رہے،جس کو ہم مشق بھی کہہ سکتے ہیں۔باہر کی دنیامیں جو چاہے چل رہا ہو مگر اندر کی دنیا میں وہ ہو جوانسان چاہتا ہے،جبکہ عموماً ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوتا،ہمارے اندر کی بڑی موٹی موٹی تاریں باہر کے حالات سے جڑی ہوتی ہیں۔بہت سارے لوگ ایسے ہیں جن کا ریموٹ کنٹرول بیرونی دنیا کے ہاتھ میں ہوتا ہے ،جبکہ انسان کے لیے ضروری ہے کہ اگر چہ اس کی طبیعت ایک کام کرنے کو نہ بھی چاہے ،پھر بھی وہ اپنے آپ کو کنٹرول کرنا جانتا ہو اور ہر طرح کے حالات میں خود کو ایڈجسٹ کرلیتا ہو۔ جو بھی انسان اپنے موڈ پر چلتا ہے تو وہ ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے کیونکہ انسان کے موڈ کی 16اقسام ہیں،تو اب کس کس موڈ کی بات مانی جائے؟
(6)قانون کشش:
ہر وہ انسان جو اس قانون کے مطابق زندگی گزارتا ہے وہ اپنی زندگی میں خوش رہتا ہے اور اپنی خواہش و مقصد کو پاسکتا ہے۔
(7)Mirror technique
اس تکنیک میں انسان آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے مائنڈ کو آرڈر دیتا ہے اور اس کی بدولت اپنے مائنڈ پر کنٹرول حاصل کرلیتا ہے۔
(8)مقاصد کو لکھ کر رکھنا:
ہر کامیاب انسان ہمیشہ اپنے مقاصد اور اہداف کو لکھ کر رکھتا ہے اور بار بار ان کو دیکھتا ہے ،بلکہ اپنے درودیوار پر بھی ان کو چسپاں کرتا ہے تا کہ بار بار ان پر نظر پڑے اور مائنڈ کو یاددہانی ہو کہ اس مقصد کو حاصل کرنا ہے ۔اس طریقے سے بھی انسان اپنے مائنڈ کوکنٹرول کرکے اس خاص مقصد کے لیے اس کو تیار کرسکتا ہے۔
یادرکھیں !مائنڈ کنٹرول کرنے کا مطلب ہے ضبطِ نفس،جب یہ کنٹرول ہوجائے توپھر انسان اپنے جذبات ،خواہشات اور ہر طرح کی کیفیات کو کنٹرول کرلیتا ہے اور یہ یقینا مشکل کام ہے۔ دنیا فتح کرنے کے بعد سکندرِ اعظم یہ سوچ کر ایک بزرگ کے پاس چلا گیا کہ وہ اس کی بہادری پر شاباش دے گا لیکن بزرگ نے کہا :تم نے جو کیا وہ کوئی بڑا کام نہیں ۔سکندراعظم بولا:آپ کیسے درویش ہیں؟میں نے ساری دنیا فتح کی ہے اور آپ بول رہے ہیں کہ میں نے آسان کام کیا ہے۔بزرگ نے کہا :ایک کام اس سے بھی مشکل ہے اگر وہ کر لو تو۔سکندر اعظم نے پوچھا :کون ساکام ؟ بزرگ بولا:
’’ اپنے آپ کو کنٹرول کرنا ،اپنے نفس کو نکیل ڈالنا۔‘‘
درحقیقت عظیم پہلوان وہی ہوتا ہے جو اپنے آپ کو کنٹرول کرنا جانتا ہو۔زندگی میں ہمیشہ وہی فصل بوئیں جس کا پھل آپ کاٹنا چاہتے ہیں۔ہم بوتے کچھ ہیں او ر آرزو کسی اورچیزکی کرتے ہیں۔کامیابی کی فصل کاٹنے کے لیے ضروری ہے کہ کامیابی کی فصل بھی بوئی جائے اور کامیابی کے لیے بنیادی شرط یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آپ چاہتے کیا ہیں؟ اور یہ تب ہوسکے گا جب آپ اپنے مائنڈ کو کوئی مائنڈ دیں گے

نوٹ یہ تحریر سوشل میڈیا کے پلٹ فارم سے لی گئی ہے تاکہ قاری حضرات ان کے سکرین تک مہیا ہو سکے اس سے ادراے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com