موسمیاتی تبدیلیاں اور ہماری ذمہ داریاں

تحریر:
انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب
(وائس چانسلر،اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور)

کائنات کی تاریخ پڑھنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کرہ ارض اور نظام شمسی کی تاریخ اربوں سالوں پر محیط ہے۔تخلیق کائنات کے عظیم دھماکے Big Bang کے مطالعے سے سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات 13.8ارب سال پرانی ہے اور زمین اور نظام شمسی کی تاریخ تقریبا 4.8 ارب سالوں کی ہے، اس دوران بہت مرتبہ بے شمار موسمیاتی تبدیلیاں (Climate Change)رونما ہوئیں جن کی وجہ سے بڑے پیمانے پر زمین سے حیات کا خاتمہ بھی ہوا۔یہ نظام پچھلے کئی ہزار سال سے ایک خاص ترتیب سے چل رہا ہے جو انسان کی 10سے 20ہزار سالہ تاریخ اور تبدیلی کا ارتقا ہے۔

سترہویں صدی میں جو صنعتی انقلاب برپا ہوا،اس کے بعد بڑے پیمانے پر توانائی کے استعمال کے لئے حیاتیاتی ایندھن (Fossil Fuels)استعمال ہونا شرو ع ہوئے۔ توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سب سے پہلے بڑے پیمانے پر کوئلہ زمین سے نکالا گیا، اس کے بعد قدرتی گیس اور تیل بھی نکالا گیا۔توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے زمین میں موجود فوسلز سے حاصل شدہ حیاتیاتی ایندھن کا استعمال تیز ہوتا گیا۔ تیزی سے حیاتیاتی ایندھن استعمال ہوئے تو فضا میں کاربن ڈائی اکسائیڈ کا تناسب بڑھ گیاجس کی وجہ سے کرہئ ارض کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوا۔

دیگر گیسز جیسے میتھین اور امونیاکی بھی صنعتی پیداوار شروع ہوئی۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر گھریلو جانوروں کی تعداد میں بھی بہت تیزی سے اضافہ ہوااور فضا کے قدرتی توازن میں تبدیلی ہونا شروع ہوئی۔ انسانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی ضروریات کے لئے قدرتی وسائل کے بہت زیادہ استعمال سے موسم میں تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوئیں۔آج انسانوں کی اکثریت اور سائنسدانوں کی تمام کمیونٹی اس بات پر متفق ہے کہ موجودہ موسمیاتی تبدیلیاں انسان کے اپنے اعمال کی وجہ سے وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔

قدرتی موسمیاتی تبدیلی کا جو سائیکل ہے وہ لاکھوں اور کروڑوں سالوں میں پورا ہوتا ہے اور اس کا بہت حد تک زمین کے مقناطیسی میدان(Magnetic Field) پر بھی انحصار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کرہئ ارض پر جو زندگی دی ہے یہ بہت ساری ایسی چیزوں پر انحصار کرتی ہے جن میں کچھ کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا بھی چاہو تو گن نہیں سکتے۔

بے شک انسان ظلم بھی کرتا ہے اور ناشکرا بھی ہے“اور جو مقناطیسی میدان ہے اگر نہ ہو تو کائنات میں جو ستارے بن رہے ہیں،ختم ہو رہے ہیں اس سے کائناتی تابکاری پیدا ہو رہی ہے اوریہ سرگرمی اربوں نوری سال کے دور سے ہو رہی ہے۔ اگر یہ کائناتی تابکاری زمین پر آ جائے تو زمین پر اچانک بادلوں کی پوری تہہ بن جائے گی اور کرہئ ارض منجمدہو جائے گی اور دنیا ایک نئے برفانی دور میں چلی جائے گی جس میں مخلوق کی زندگی نیست ونابود ہو جائے گی۔

اللہ تعالیٰ نے ہماری حفاظت کے لئے انتظامات کئے ہوئے ہیں جس کے باعث ہم اس زمین پر زندہ سلامت رہ رہے ہیں۔ اب اگر ہماری سرگرمیوں کی وجہ سے قدرتی توازن اور تناسب میں خرابی آرہی ہے جس کو قرآن پاک میں بھی کہا گیا ہے ”زمین اور پانی میں ایک فساد سا برپا ہو گیا ہے اُن چیزوں کی وجہ سے جو انسان کر رہے ہیں“ جب کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے تو وہ ایک ذمہ دار نائب کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا میں آیا ہے۔

اللہ نے جو نظام قدرت ہمیں دیا ہے اسے ہمیں ہو بہو آگے پہنچانا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس ذمہ داری کو پہچانیں اور ان لوگوں میں شمار نہ ہوں جو جہالت کی وجہ سے دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کا انکار کرنے والے ہوں۔ جیسا کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بھی مشہور ہے اور دیگر بہت سے لوگ جو کہ کہتے ہیں یہ ممکن نہیں ہے کہ انسان ایسا کچھ کر ہی نہیں سکتا کہ اتنے بڑے سسٹم میں خلل اور تباہی ہو۔ بہرحال پچھلے چالیس سالوں کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بہاول پور ڈویژن میں جو اوسطاً درجہ حرارت ہے وہ ایک درجہ بڑھ چکا ہے تو اس کے بڑھنے کی وجہ سے موسم بہار موسم خزاں اور موسم سرما میں تقریباً 33دن کی کمی آئی ہے اور گرمیوں کے 33 دن بڑھ گئے ہیں۔

مستقبل قریب میں ایک ڈگری درجہ حرارت بڑھنے سے خطرہ ہے کہ اگر ہم نے موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں کوئی ایکشن نہ لیا تو ہمارے خطے کا درجہ حرارت 1.5درجہ مزید بڑھ سکتا ہے جس کی وجہ سے گرمیوں کے دنوں میں مزید 30سے 40 دنوں کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ جو پہلے اضافہ ہو چکا ہے اس کی وجہ سے گندم کی فصل ایک مہینہ پہلے تیار ہو رہی ہے اوراس کی کوالٹی خراب اور اس کی پیداوار میں بھی کمی ہو رہی ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے خوراک کی پیداوار میں کمی آسکتی ہے جو انسان اور جانوروں دونوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ گرمیاں بڑھنے اورسردیوں میں کمی کی وجہ سے ہماری فصلوں اور خوراک پر بہت برا اثر پڑے گا اور ہماری فوڈ سیکورٹی کا مسئلہ گھمبیر ہو جائے گا۔

بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے ایسی موسمیاتی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں جن کے باعث شدید سیلاب بھی آرہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کے موسموں میں اچانک دو تبدیلیاں ہوئیں کہ ایک تو موسم بہار نہ آیا، اچانک ہم سردیوں سے گرمیوں کی طرف چلے گئے اور بہار کے چندہفتے بھی ہمیں نہ ملے۔ دوسرا یہ کہ بارشوں کا سلسلہ طویل ہوا اور ریکارڈ بارشیں ہوئیں۔ ان موسمیاتی تبدیلیوں کے اصل ذمہ دار امیر صنعتی ممالک ہیں جو زیادہ تر زمین کے شمال(North) میں موجود ہیں۔

امریکہ اور یورپ کے ممالک ترقی یافتہ بھی ہیں اور سب سے زیادہ حیاتیاتی ایندھن بھی استعمال کرتے ہیں اور ہمارے ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سب سے زیادہ منفی اثرات جنوب(South) کے اُن ممالک پر پڑ رہے ہیں جو خود تو سب سے کم آلودگی پھیلا رہے ہیں مگر متاثر سب سے زیادہ ہو رہے ہیں، اِن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ضرورت اس بات کہ ہے کہ،کلائمیٹ ڈپلومیسی سے پوری دنیا میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔


موسمیاتی تبدیلیاں ایسا مسئلہ ہے جو ایک انفرادی کوشش یا چھوٹا گروپ حل نہیں کر سکتا لیکن تمام انسانوں کی مشترکہ کاوشوں سے اس حوالے سے مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔کرہ ارض میں زندگی کا وجود خطرے میں ہے اور بنی نوع انسان بطور ذمہ دار نائب اور خلیفۃ اللہ کے طور پر ایک حکمت عملی سے موسمیاتی تبدیلی کے عظیم مسئلے کو حل کر سکتا ہے۔جو ممالک کم متاثر ہو رہے ہیں اس کی ایک وجہ ان کے پاس قدرتی طور پر جنگلات کا بڑا ذخیرہ ہے اور وہ ممالک جن کے پاس جنگلات نہیں ہیں،زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

ایسے ممالک میں جنگلات لگانا ہوں گے کیونکہ درخت ہی علاقائی موسم کو تبدیل کرتے ہیں اور بادلوں کے بننے میں مددگار ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ درخت آکسیجن بحال کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں۔بارش کی وجہ سے خشک سالی ختم ہوتی ہے اورقدرتی توازن بحال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر توانائی کے جدیدذرائع جیسے شمسی توانائی (Solar Energy)کی طرف جانا ہوگا اور حیاتیاتی ایندھن پر اپنا انحصار کم کرنا ہوگا۔

اس حوالے سے ہمارے وزیر اعظم جناب شہباز شریف ترکیہ اور دیگر ممالک کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ دس ہزار میگا واٹ سولرسسٹم اگلے چند سالوں میں لگایا جا سکے تاکہ ہم بڑے پیمانے پر ایندھن کی ضروریات شمسی توانائی سے حاصل کریں۔وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے حالیہ انٹرنیشنل کانفرنس میں واشگاف الفاظ میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھایا اور کلائمیٹ ڈپلومیسی پر زور دیا تاکہ ترقی یافتہ ممالک ملکر کرہ ارض کے اس مسئلے کو حل کر یں۔


کلائمیٹ ڈپلومیسی سے کلائمیٹ چینج میں ہمارا کلیدی کردار ہو سکتا ہے۔ دنیا کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ہم اس مسئلے کو حل کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں لیکن تبدیلی اور بہتری کا آغاز ہمیشہ اپنے گھر سے ہوتا ہے۔اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورنے عالمی تناظر میں مقامی مسائل کے حل کے اصول پر اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اپنے گھر سے اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی نئی بنیادی اقدار رواداری، ایمانداری، ماحول دوست، جدت پسندی، فہم وفراست اورملک و قوم کے لئے فائدہ مند ہونا پر ترتیب دی ہیں۔

گرین کیمپس مہم کے تحت یونیورسٹی کیمپسز کو ماحول دوست بنانا اور پانی، خوراک اور دیگر استعمال ہونے والی ایشیاء کے استعمال کو کم سے کم کرنا اور ضیاع کو روکنا اس مہم کا حصہ ہے اور یونیورسٹی فیکلٹی ممبران کی بڑی ٹیم اس پر عملدرآمد کے لیے کوشاں رہتی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف ایگرو انڈسٹری اینڈ اینوائرمنٹ قائم کیا گیا ہے تاکہ زراعت اور زراعت پر مبنی صنعت کو ترقی دیتے ہوئے ماحول دوست اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پاکستان کی پہلی یونیورسٹی ہے جہاں انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے کلائمیٹ چینج کا قیام عمل میں آیا جس میں 80سے زائد جامعات اور ادارے منسلک ہیں۔ گورنر پنجاب انجینئر محمد بلیغ الرحمن نے اپنی سرپرستی میں اس کنسورشیم کی افادیت اور اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے پنجاب کی جامعات کا کلیدی کنسورشیم بنا دیا اور اب اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور موسمیاتی تبدیلیوں اور پائیدار ماحول اور بقاء کے لیے پنجاب بھر میں جامعات کی رہنمائی کر رہی ہے۔ چولستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزٹ سٹڈیز کے سائنسدان چولستان کی مقامی نباتات اور ان کی بقاء کے لیے کوشاں ہیں تاکہ اس خطے کو محفوظ اور پائیدار بنایا جائے۔

یونیورسٹی میں 2.5میگا واٹ کے سولر پلانٹ کے ذریعے قابل تجدید توانائی کو فروغ دیا گیا ہے جس میں جلد ہی 1میگا واٹ کا اضافہ کیا جائے گا۔ بہاول پور کے ایئر کوالٹی انڈکس کے مشاہدے اور نگرانی کے لیے ساؤتھ پنجاب سیکریٹریٹ کے تعاون سے ایک تحقیق جاری ہے۔

چولستان میں بارشوں میں اضافے کے نظام کے ذریعے خصوصی ایگر واکنامک زون کے منصوبے پر حکومت پنجاب کے ساتھ کا م جاری ہے جس سے 6 ملین ایکٹر رقبہ زیر کاشت آئے گا اور ملک کی زرعی معیشت میں 10ارب ڈالر سالانہ کا اضافہ ہو گا۔ اسی طرح یونیورسٹی میں بی ایس سطح پر ایگریکلچر اینڈ اینوئرمنٹ کا لازمی کورس متعارف کرایا گیا ہے تاکہ طلباء وطالبات کو اس اہم چیلنج سے آگاہ کیا جا سکے اور ایم ایس اور پی ایچ ڈی سطح پرموسمیاتی تبدیلیوں پر تحقیق کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com