پاکستان اورترکیہ کے درمیان تعلقات اوراشتراک کارجارحیت نہیں بلکہ دفاع کیلئے ہے،شہباز شریف

یوتھ ویژن نیوز (ثاقب غوری سے ):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ امن و استحکام کیلئے باہمی تعلقات اور تعان کو مزید مضبوط کر رہے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور اشتراک کار جارحیت نہیں بلکہ دفاع کیلئے ہے،

پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات منفرد نوعیت کے ہیں جنہیں کوئی بھی کمزور نہیں کر سکتا، دونوں برادر ممالک مل کر ترقی اور خوشحالی کی منزل کی طرف جا سکتے ہیں، پاکستان اور ترکیہ مل کر ماحول دوست اقدامات اور مضر گیسوں کے اخراج میں کمی، ونڈ، سولر اور پانی، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت دیگر شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو استنبول شپ یارڈ پر پاک بحریہ کے لیے چار ملجم کارویٹ جہازوں میں سے تیسرے جہاز پی ایس خیبر کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک بار پھر اپنے دوسرے گھر ترکیہ کا دورہ کرنے پر انہیں خوشی ہوئی ہے، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی تعلقات اور بھائی چارہ کے تناظرمیں یہ عظیم دن ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج کی تقریب دیکھ کر انہیں 1920 کے حالات یاد آتے ہیں جب ہمارے ترک بہن بھائی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے اور برصغیر کے مسلمان اپنے ترک بہن بھائیوں کیلئے آزادی کی اس عظیم جدوجہد کیلئے تحریک خلافت شروع کر رہے تھے، برصغیرکے ماؤں اور بہنوں نے اپنی چوڑیاں، دکانداروں، کسانوں اور طلباء نے چندہ اکھٹا کرکے اپنے ترک بھائیوں کی عظیم جنگ کیلئے مدد فراہم کی، ہمارے آباؤ اجداد جانتے تھے کہ جو بھی کوششں وہ کر رہے ہیں، ترک قوم نہ صرف وہ یاد رکھے گی بلکہ ترکیہ پاکستان کے ساتھ مشکل وقت میں بھی کھڑا رہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ ہمیشہ سیلاب، زلزلہ اور آفت کے وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے، ترکیہ پاکستان کو ریسکیو کرنے میں نہیں ہچکچایا، برصغیر کے مسلمانوں نے ترکیہ کے عوام کیلئے جو کچھ کیا وہ آج ترکیہ کے سکولوں، یونیورسٹیوں اور کالجز میں نصاب کا حصہ ہے۔ وزیراعظم نے ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کی دانش مندانہ قیادت کو سراہا اور کہا کہ ان کے وژن اور قیادت نے ترکیہ کو جدید معاشرہ بنایا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رجب طیب ایردوان کے سماجی بہبود کے منصوبوں کی وجہ سے ترکیہ کے دور افتادہ علاقوں میں بھی لوگوں کو صحت، تعلیم، روزگار اور زراعت کی سہولیات اور صنعتی ترقی کے ثمرات مل رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم پاکستان نیوی کیلئے ملجم کارویٹ جہازوں میں سے تیسرے جہاز پی این ایس خیبر کے افتتاحی تقریب میں شریک ہیں، پاکستان اور ترکیہ امن و استحکام کیلئے اپنے تعلقات کو مضبوط کر رہے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور اشتراک کار جارحیت نہیں بلکہ دفاع کیلئے ہے، امن سے رہنے کیلئے جنگ کیلئے تیار ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ میں دونوں ممالک کے نیول آفیسرز اور ورکروں نے دونوں ممالک کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج دنیا کو تنازعات کا سامنا ہے، یوکرین کی جنگ نے عالمی برادری کیلئے خطرات پیدا کئے ہیں، یوکرین کی جنگ میں ترکیہ کے صدر نے جو دانش مندانہ حکمت عملی اپنائی وہ لائق تحسین ہے، اس جنگ کی وجہ سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو سنجیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، پٹرول، خوردنی تیل اور خوراک کا ہمارا درآمدی بل 25 ارب ڈالر سے زائد ہے، اسی تناظر میں ہم شمسی توانائی، ہوا اور پانی سے بجلی کی پیداوار جیسے منصوبوں پر توجہ دے رہے ہیں، یہ بات خوش آئند ہے کہ ترکیہ اس شعبہ میں استعداد رکھتا ہے، ترکیہ کے سرمایہ کار اس شعبہ میں پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، ترکیہ کے سرمایہ کار پہلے سے پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کو مل کر ماحول دوست اقدامات اور مضر گیسوں کے اخراج میں کمی کیلئے کام کرنا ہوگا اور اس ضمن میں دونوں ممالک کو ان شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ دونوں ممالک ونڈ، سولر اور پانی سے مالا مال ہیں، ان شعبہ جات میں دونوں برادر ممالک تعاون کر سکتے ہیں جس سے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید معنی خیز بنایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ دونوں عظیم ممالک ہیں، ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبہ جات میں وسیع تر استعدادکار موجود ہے، رجب طیب ایردوان کی قیات میں ان تعلقات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حال ہی میں جب پاکستان میں بدترین سیلاب آیا تو ترکیہ ایک بار پھر فرنٹ لائن پر رہا، اسی رات صدر رجب طیب ایردوان نے مجھے فون کیا اور کہا کہ ترکیہ پاکستان کیلئے کیا کر سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 13 ٹرینیں روانہ کیں، 15 فوجی طیاروں نے خوراک، خیمے اور ادوایات پہنچائیں، ترکیہ سے 6 ٹرک پاکستان آئے، سندھ میں رجب طیب ایردوان سٹی کا قیام عمل میں لایا گیا، صرف ایک بھائی اور خاندان کا ایک فرد ایسا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب 2010 میں پنجاب میں سیلاب آیا تو رجب طیب ایردوان نے اپنی اہلیہ اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ خود پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، نہ صرف ترکیہ کی حکومت بلکہ استنبول اور انقرہ کے شہریوں نے چندہ اکھٹا کیا، ترکیہ کے صدر کی اہلیہ نے اپنے ہار کا تحفہ دیا جو یہ بھائی چارہ کا ایک عظیم مظہر تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات منفرد نوعیت کے ہیں جنہیں کوئی بھی کمزور نہیں کر سکتا، دونوں برادر ممالک مل کر ترقی اور خوشحالی کی منزل کی طرف جا سکتے ہیں۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپنے گھر آمد پر وہ وزیراعظم پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک اہم منصوبہ کا افتتاح ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی بہن بھائی ہمیشہ ترکیہ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، ترکیہ کے عوام کے دلوں میں پاکستان اور پاکستانیوں کیلئے خصوصی مقام ہے، پاکستان میں آنے والے سیلاب کی تباہی نے ترکیہ کے عوام کو افسردہ کیا، ہم نے اپنی استطاعت کے مطابق اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کی امداد کی۔ رجب طیب ایردوان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف رہا ہے، ہمیں پاکستانی بہن بھائیوں کی مشکلات کا اچھی طرح سے علم ہے، ہم دہشت گردی کے خطرات کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعاون کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوطرفہ دفاعی تعاون دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا ستون ہے، پاکستان اور ترکیہ ہر قسم کی دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مل کر کام کریں گے، دہشت گردی کے خلاف ہماری زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے۔ استبول میں دہشت گردی کے حالیہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کو انصاف دینا ہماری ذمہ داری ہے، داعش کے خلاف ہم نے جنگ لڑی ہے، ہم دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف جنگ میں پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ اپنی سرحدوں تک مخصوص نہیں بلکہ اپنی سرحدوں سے باہر بھی اپنے بہن بھائیوں کی مدد کر رہا ہے، پاک بحریہ کیلئے ملجم منصوبہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2002 میں ترکیہ کے پاس 52 دفاعی پراجیکٹس تھے جو اب 700 سے زیادہ ہیں، اس وقت 5.5 ارب ڈالر کی دفاعی پیداور کا بجٹ تھا جو آج 75 ارب ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی، پاکستان اور ترکیہ ان چند ممالک میں شامل ہیں جو جنگی جہاز بنا سکتے ہیں، ہم اپنے پاکستان جیسے بھائیوں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر اپنی دفاعی صنعت کو ترقی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی پیداوار کی صنعت میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ حاصل ہوگا، کارویٹ ملجم اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ دفاعی پیداوار سمیت تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں، پاکستان نیوی کیلئے ملجم منصوبہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے، اس منصوبہ کو حقیقیت کا روپ دھارنے والے انجینئرز اور ماہرین کو مبارکباد دیتا ہوں۔ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل امجد خان نیازی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز اور فخرکی بات ہے کہ پاک نیوی کیلئے جدید ترین جہاز کا افتتاح ہو رہا ہے، یہ ایک اہم سنگ میل ہے جس پر وہ ترکیہ کے صدر اور وزیراعظم شہباز شریف کو مبارکباد دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کی موجودگی سے پاک ترکیہ قریبی تعلقات کی عکاسی ہو رہی ہے، پاکستان اور ترکیہ کے خصوصی تاریخی تعلقات ہیں جو وقت کی آزمائش پر پورے اترے ہیں، اس کی عکاسی دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون سے بھی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نیوی کیلئے چار ملجم کارویٹ جہازوں میں سے دو استنبول نیول شپ یارڈ اور دو کراچی میں بن رہے ہیں۔ پی این ایس بابر کا اگست 2022 میں استنبول میں افتتاح ہوا جبکہ مئی میں دوسرا جہاز کراچی میں مکمل ہوا جس کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم پاکستان اور ترکیہ کے وزیر دفاع نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ملجم پراجیکٹ نہ صرف جنگی جہاز ہے بلکہ یہ ٹیکنالوجی کی منتقلی کا اہم منصوبہ ہے جو جناح کلاس وار شپ کی اگلی جنریشن کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان پائیدار تعلقات کا ایک بہترین مظہر ہے۔ پاک بحریہ کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اہمیت کا حامل ہے، خطے میں اپنی سمندری حدود میں امن و استحکام ہمارے لئے اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ سے پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا جو بین الاقوامی تجارت اور معشیت کی ترقی کو بھی یقینی بنائے گا۔ دفاعی پیداور کے وزیر اسرار خان ترین نے اپنے خطاب میں کہا کہ دوسرے ملجم کلاس جہاز کا افتتاح خوش آئند ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان بھائی چارہ اور مضبوط دفاعی تعاون کی عکاسی ہو رہی ہے، یہ منصوبہ وقت کی ضرورت ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنائے گا۔ ترکیہ کی دفاعی صنعت نے صدر ایردوان کی قیادت میں دو عشروں میں ترقی کی ہے، ترکیہ کے دفاعی پیداوارکے کئی ادارے دنیا بھر میں معروف ہیں، آئیڈیاز میں 38 ترکیہ دفاعی کمپنیوں نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سلامتی کے چیلنجز کا سامنا ہے جس میں نیوی کی ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے، ہمیں یقین ہے کہ ملجم جہازوں کی شمولیت سے قومی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ عقیدہ اور تہذیبی طور پر یکساں ہیں، دونوں ممالک کشمیر اور قبرص پر ایک دوسرے کے موقف کے حامی ہیں، ہم کندھے سے کندھا ملا کر دہشت گردی سمیت تمام خطرات کے خلاف کھڑے ہیِں، ملجم ایڈوانس ٹیکنالوجی میں پیش رفت میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ قبل ازیں ترک صدر اور گورنر استنبول نے شپ یارڈ آمد پر وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ صدر ایردوان نے وزیراعظم کو تقریب کا بیج لگایا اور وزیراعظم کا ترک حکام سے تعارف کرایا۔ تقریب کے آغاز پر دونوں ممالک کے قومی ترانے کی دھنیں بھی بجائی گئیں۔ واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون پر مبنی ملجم منصوبہ پاکستان-ترکیہ سٹریٹجک پارٹنرشپ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے قبل پاک بحریہ کے لیے پہلے کارویٹ پی این ایس بابر کی لانچنگ تقریب اگست 2021 میں استنبول میں منعقد ہوئی جبکہ دوسرے جہاز بدر کا سنگ بنیاد مئی 2022 میں کراچی میں رکھا گیا۔ وفاقی وزراء مریم اورنگزیب، سیّد نوید قمر اور محمد اسرار ترین بھی اس موقع پر موجود تھے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com