چھاتی کے کینسر سے بچائو کے لیے بروقت تشخیص انتہائی ضروری ہے”ثمینہ علوی

یوتھ ویژن نیوز( ثاقب غوری سے ) چھاتی کے کینسر سے بچائو کے لیے بروقت تشخیص انتہائی ضروری ہے’صحت مند خواتین ہی صحت مند معاشرے کی ضامن ہیں ، حکومت خواتین کو خود کفیل بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے’ثمینہ علوی کا افتتاحی تقریب سے خطاب
خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا ہے کہ بریسٹ کینسرسے بچائو کے لیے آگاہی وبروقت تشخیص ضروری ہے’ صحت مند خواتین ہی صحت مند معاشرے کی ضامن ہیں ، حکومت خواتین کو خود کفیل بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے ‘بریسٹ کینسر پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک تشویشناک مسئلہ بنتا جا رہا ہے،

یہ بھی پڑھیں: دوستی سب سے کرنا چاہتے ہیں لیکن غلامی قبول نہیں، عمران خان

اس مہلک مرض بارے وسیع پیمانے پر لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے’ پاکستان میں چھاتی کے کینسر میں مبتلا خواتین کی تعداد دیگر ممالک کے مقابلے زیادہ ہے ، بریسٹ کینسر کی بڑھتی شرح کو روکنے کے لئے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے ،بروقت تشخیص اورعلاج سے اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کے روز لاہور جنرل اسپتال میں چھاتی اور اورین کینسر کے جینیاتی اسکریننگ سنٹر کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔

خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہاہے کہ بریسٹ کینسر پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک تشویشناک مسئلہ بنتا جا رہا ہے، اس مہلک مرض بارے وسیع پیمانے پر لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے’ پاکستان میں چھاتی کے کینسر میں مبتلا خواتین کی تعداد دیگر ممالک کے مقابلے زیادہ ہے ، بریسٹ کینسر کی بڑھتی شرح کو روکنے کے لئے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے ،بروقت تشخیص اورعلاج سے اس مرض سے بچا جا سکتا ہے، جنرل ہسپتال میں چھاتی کے کینسر کی اس جینیاتی اسکریننگ کی سہولت ملک کی خواتین کو معیاری اسکریننگ کی سہولیات کو یقینی بنانے میں معاون ہوگی جو چھاتی کے کینسر کی بروقت تشخیص کو قابل بناتی ہے’

یہ بھی پرھیں: میں اپنا ملک چھوڑ کر کہیں نہیں جارہا، بھلے نام ای سی ایل میں ڈال دیں

خواتین کواس بیماری کا جلد پتہ لگانے کے لئے ماہانہ بنیاد پر اپنا طبی معائنہ کروانا ضروری ہے ۔خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہاکہ معاشرے کا اہم حصہ ہونے کے ناطے صحت مند خواتین ہی ملکی ترقی میں اپنا کردا ر ادا کرسکتی ہیں ‘اس لیے خواتین چھاتی کے کینسر جیسی مہلک بیماری سے تحفظ حاصل کرنے کے لیے ہر ماہ باقاعدگی سے اپنا معائنہ کروائیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین میں بریسٹ کینسر سے اموات کی بنیادی وجہ اس موذی مرض کی برقت تشخیص نہ ہونا ہے کیونکہ ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہونے پر یہ مرض 98 فیصد تک قابل علاج ہے’ تاخیر سے تشخیص کی وجہ سے یہ بیماری خواتین کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہے اس لیے کسی بھی علامت کے ظاہر ہونے کی صورت میں معائنہ کروانا انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں خواتین کی اموات کی وجوہات میں سے ایک چھاتی کا کینسر ہے ،ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں یہ مرض بڑھ رہا ہے۔ثمینہ عارف علوی نے کہاکہ پاکستان میں ہر سال نوے ہزار خواتین میں چھاتی کے کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جس سے بہت سی خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں’جس کی بڑی وجہ چھاتی میں ہونے والی تبدیلیوں کو نظر انداز کرنا اور ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں تاخیرکرنا ہے’چھاتی کے کینسر کی بروقت تشخیص ضروری ہے،

یہ بھی پڑھیں: قائد اعظم کے بعد ملک کوعمران خان کی صورت میں ایک قومی لیڈر ملا ہے،علی امین گنڈاپور

ا بتدائی مرحلے میں بریسٹ کینسر کی تشخیص سے علاج آسان اور مکمل شفا ممکن ہے اس لیے اپنی چھاتی میں کسی بھی قسم کی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں فورا ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں کر نی چاہیے’خاتون اول نے کہاکہ 40 سال سے کم عمر خواتین باقاعدگی سے اپنا معائنہ خود کریں،40 سال سے زائد عمر کی خواتین کو باقاعدگی سے ہر سال میموگرافی کروانی چاہیے ‘خواتین مہینہ بھر میں صرف پانچ منٹ اپنے قیمتی وقت سے نکال کر اپنا معائنہ کروائیں تاکہ اس موذی مرض سے بچا جا سکے۔ثمینہ علوی نے کہاہم نے پچھلے چار سالوں سے چھاتی کے کینسر سے آگاہی مہم شروع کی ہے جس سے معاشرتی سطح پر خواتین میں اس بیماری سے بچائو میں شعو ر اجاگر کرنے میں مدد ملی ہے’ شوکت خانم ہسپتال کے چھاتی کے کینسر کے مریضوں کے اعداد و شمار کے مطابق پہلے اور دوسرے مرحلے میں ایک بڑی تعداد میں اسپتال آرہے ہیں جبکہ تیسرے اور چوتھے مرحلے کے مریض کم تعداد میں اسپتال آرہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس آگاہی مہم کے ذریعے خواتین میں شعور اجاگر ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: معاملات بہترکرنےمیں جوادارے موثرہیں ان سےگفتگوچل رہی ہے، صدرمملکت

انہوں نے مزید کہا کہ دور دراز کے علاقوں میں جہاں خواتین کی سوشل میڈیا تک رسائی نہیں ہے، خواتین کو ٹیلی فون ٹون میسج کے ذریعے آگاہی مل رہی ہے۔ اس سلسلے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو چھاتی کے کینسر کی وجوہات، علاج اور بچا ئو کے بارے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے میں میڈ یا کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔پاکستان میں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بریسٹ کینسر کی شرح زیادہ ہے’اللہ تعالی کا شکر ہے کہ مختلف این جی اوز کے ساتھ مل کر ہم نے اس موذی مرض سے بچائو کے لیے ملک بھر میں آگاہی مہم شروع کی جس کے مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیںاور اب لوگوں کو یہ احساس ہونا شروع ہو گیا ہے کہ چھاتی کا کینسر سماجی بدنامی نہیں بلکہ ایک مہلک بیماری ہے۔

ثمینہ عارف علوی نے مزید کہا کہ این جی اوز، فلاحی تنظیمیں، ڈاکٹرز، نرسیں، سول سوسائٹی، ہسپتال اور دیگر ادارے چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی سرگرمیوں میں تعاون کر رہے ہیں وہ خود بھی اس مہم کی قیادت کر رہی ہیں۔’انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں معاشرے کو حساس بنانے میں اپنا فعال کردار یقینی بنائیں اورچھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی صرف اکتوبر تک محدود نہ رہے بلکہ اس کیلئے سال بھر کوششیں کی جا نی چاہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیلی میل ہرجانہ کیس:شہبازشریف کو30 ہزارپاؤنڈ ادا کرنے کا حکم

انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ کنبے کے مرد حضرات کو کنبے کی خواتین کو اس مرض سے بچائو کے لیے بروقت اسپتال لے کر جانا چاہییاگر وہ چھاتی کے کینسر سے متعلق ڈاکٹرز سے کسی علامت کے بارے میںمشور کریں’بیماری کا بروقت پتہ لگانے سے نہ صرف اس تکلیف کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے جس میں مریض مبتلا ہو بلکہ اس سے بیماری کا علاج کروانے کے اخراجات بھی کم ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مختلف فورم پر اس بیماری پر قابو پانے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات بھی کئے جارہے ہیں جو کہ حوصلہ کن بات ہے‘ثمینہ علوی نے کہا کہ کراچی میں 13 پنجاب میں 8 ‘3 اسلام آباد میں اور 5 خیبر پختونخوا میںچھاتی کے کینسر کے ہسپتال مفت علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان ٹیلی مواصلات اتھارٹی اور دیگر محکموں نے چھاتی کے کینسر سے متعلق شعور پیدا کرنے میں بہت مدد کی’ موجودہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے ‘ ہیلپ لائنز ، موبائل ایپلی کیشنز وغیرہ سمیت تمام سوشل میڈیا ٹولز کو چھاتی کے کینسر سے آگاہی پھیلانے کے لئے استعمال کیا جانا چاہئے’ اس بیماری کے پھیلا پر قابو پانے اور اموات کی شرح کو کم کرنے کے لئے مزید اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے’سوشل میڈیا کے ذریعہ چھاتی کے کینسر سے بچائو کے متعلق آگاہی پھیل رہی ہے اور اس کے نتیجے میںاسپتالوںمیں مریضوں کی تعداد کم ہوئی ہے

یہ بھی پڑھیں: بہارہ کہو بائی پاس ای آئی اے رپورٹ :ایک تجزیہ

‘ نہ صرف ملک کے بڑے شہروں میں نہ صرف بیداری کی مہم چلائی جارہی ہے بلکہ اسکریننگ اور آگاہی سرگرمیاں وانا اور دیگر دور دراز علاقوں کے لوگوں کو بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔خاتون اول نے کہاکہ خواتین صحت مند ہوں گی تو نسل صحت مند ہو گی اور اگر نسل صحت مند ہو گی تب ہی ملک ترقی کرے گا۔اس موقع پر پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ / عامر الدین میڈیکل انسٹی ٹیوٹ لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر ‘پروفیسر ڈاکٹر عائشہ شوکت ، پروفیسر غزالہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ بعد ازاں پرنسپل پی جی ایم آئی / اے ایم ڈی آئی ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے خاتون اول کو شیلڈ پیش کی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com