سیلاب سے ریلوے کو پانچ سوارب کا نقصان ہوا،خواجہ سعد رفیق

یوتھ ویژن نیوز(قاری عاشق حسین سے )سیلاب سے ریلوے کو سوا پانچ سو ارب روپے کا نقصان ہوا ہے،ریلوے کے سیکرٹری سے مزدور تک سب نے سیلابی علاقوں میں کام کیا،
وفاقی برائے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ملک میں اس سال بارشوں سے صدی کا ریکارڈ ٹوٹا ہے،سیلاب سے ریلوے کو سوا پانچ سو ارب روپے کا نقصان ہوا ہے،ریلوے کے سیکرٹری سے مزدور تک سب نے سیلابی علاقوں میں کام کیا،ہم نے اپنے آپریشنز کو موجود وسائل سے دوبارہ چلایاہے،ریلوے جب واپس لی تو اس وقت خسارہ ساڑھے سینتالیس ارب روپے تھا،ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے بیس سے چھتیس ارب روپے تیل کی مد میں ادا کرنے پڑیں گے،ریلوے پر تیل کی مد میں سولہ ارب روپے اضافی بوجھ پڑے گا،ڈالر کی بڑھتی قیمت سے ادائیگیوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے،ریلوے کے نقصانات کا مقابلہ کریں گے اپنی آمدنی بڑھا ئیں گے، ریلویز کی زمینوں کو ڈیجیٹلائز کرگئے ہیں، سپریم کورٹ کے آرڈر کے تحت ریلوے لائن کور بزنس کیلئے مختص ہوگی تو اس سے ہمیں بڑا جھٹکا لگا ہے۔وہ منگل کے روز ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر سیکرٹری ریلوے سمیت دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ڈیزل کی قیمتیں ناقابل حد تک اوپر گئیں، پاکستان ریلوے کا آئل جو 21-22میں 20ارب تھا وہ 22-23 میں 36ارب ہو گیا،بارشوں سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور ریلوے کے نظام کو بھی نقصان پہنچا ،عملے کی محنت کے نتیجے میں آج ریلوے کا نظام دوبارہ بحال کر دیا گیا،روزانہ 23کروڑ روپے کا ریونیو کا نقصان ہوا ہے ،ایک راستہ ہے کہ ہم ہاتھ پھیلادیں لیکن ہم شعوری فیصلہ کیا ہے کہ جو نقصان ہوا ہے اس ازالے کے لئے ہم اپنی آمدن بڑھائیں گے۔وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ دو اعشاریہ سات ارب روپے پچھلے سال میں کمائے ہیں اگر سپریم کورٹ نے بزنس کرنے کی اجازت دیدی تو اسے سولہ سے سترہ ارب روپے تک پہنچا دیں گے،چیف جسٹس سے درخواست کروں گا کہ ریلوے کا کیس جلدی لگا کر سن لیں، دلائل پیش کریں گے،بزنس کی اجازت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ ریلوے کی خالی زمینوں کو مڈ ٹرم پر دینا ہوگا تاکہ منافع محکمہ کو آ سکے،شارٹ یا مڈ ٹرم کیلئے لیز کردیا جائے تو ریلوے کو منافع ہوگا ۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ چند ٹکوں کے عوض پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹیز کو پل بنانے کی اجازت دی جاتی تھی،اب وہ دس کروڑ روپے جمع کروا ئیں گے پھر اجازت دیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ فریٹ آپریشن میں ریلوے کے کرائے دوسری ٹرانسپورٹ سے کم ہیں،سوا لاکھ پنشنرز اور ریلوے ملازمین ہیں، پہیہ رواں رہے گا تو ان کے چولہے بھی جلیں گے،ٹرینوں کے کرایوں میں اضافہ کیا ہے کیونکہ اس کے بغیر گزارا نہیں ہے،ریلوے کمرشل پر توجہ دے تو پچاس کروڑ روپے کما سکتے ہیں ، تافتان سے کوئٹہ تک ریلوے آپریشنل ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں سکیورٹی کے مسائل ہیں وہاں افواج پاکستان کے افسران سے بات کی ہے چند ماہ میں ریلوے کو چلائیں گے۔خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ آپٹیک فائبر سے مختلف کمپنیاں ریلوے سے رابطہ کررہی ہیں تاکہ کرایہ لے کر انہیں تار ڈالنے کی اجازت دی جائے، آپٹک فائبر کمپنیاں زیادہ پیسے دیں گی تو انہیں ٹھیکہ دیدیں گے، ایم آئی ایس سسٹم پورا کرنے کی پہلے بھی کوشش کی، ای آر پی کا منصوبہ آیا اس پر بات چیت کرکے ایک کمپنی سے معاہدہ طے پا گیا ہے،ای آر پی سسٹم سے شفافیت ہوگی کمی کو پورا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے میں گریڈ 19 کے آفیسر طارق لطیف نے استعفی دیا تھا استعفی منظور نہیں کیاجائے گا، طارق لطیف بہت زیادہ غصہ والے ہیں انہیں سمجھایا ہے کہ لڑائی نہ کیا کریں، ضرورت پڑی تو استحقاق کمیٹی سے رابطہ کرکے معاملہ حل کرائیں گے،پارلیمنٹرین کے ساتھ افسران کی عزت بھی ضروری ہے ۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حقیقت کی زندگی میں رہنا چاہئے، خوابوں میں نہیں جینا چاہئے،تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں کیسے کرایہ کم کریں، تنخواہیں اور پنشنز کی ادائیگیاں کرنی ہیں اور بھی مسائل ہیں کیونکہ سیلاب نے ڈالر، آئل پرائس اور اچانک نقصانات سے حالات کشیدہ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دس کروڑ والی پالیسی طاقتور لوگوں سے مانگ رہے ہیں، اگر کسی پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹیز کو پل بنانا ہے پیسے دیں،اکانومی کلاس کے بجائے بزنس کلاس پر زیادہ زور ڈالنا ہے۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ریلوے کوتقریبا بیس سال ٹھیک کرنے میں لگیں گے،میرے پاس الہ دین کا چراغ نہیں ہے کہ فی الفور ریلوے کو ٹھیک کر دوں۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کے ایم ایل ون کا منصوبہ جب بنایا تو چھ سال میں مکمل ہونا چھ اعشاریہ دو بلین ڈالر خرچ آنا تھا اب وہ دس بلین ڈالر تک پہنچ گئی، ایم ایل ون کا دورانیہ کم کرنے کی کوشش کریں گے ایک راستہ چین کو راضی کرکے کام شروع کروائیں۔خواجہ سعد رفیق نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ وزیر اعظم کا دورہ چین ایم ایل ون کیلئے ہوگا، تیاری کررہے ہیں، کراچی سرکولر ریلوے چلانا بہت بڑی غلطی تھی،ریلوے کہاں میٹرو ٹرین چلاتی ہے، سندھ حکومت سرکولر ریلوے کا بوجھ اٹھانے کیلئے تیار ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ عمران خان کے دور میں سرکولر ڈیڈ بڑھ گیا ہے، تھرکول پر ریلوے وفاقی و سندھ حکومت کلوز ہوگئے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جام شورو پاور پلانٹ افغان کول کی ذمہ داری اٹھائیں گے،درخواست ہے کہ پاکستان کے اداروں کو تجربہ گاہ نہ بنایا جائے ،ملکی پالیسیوں کو سنجیدگی سے لیاجائے ایسا نہ ہو کہ پہلی حکومت کے لوگوں کو باہر پھینک دیں۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اداروں میں اکھاڑ پچھاڑ سے بچنا چاہئے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com