"اقوام متحدہ میں پاکستان کی آواز "

سید نہال ماجد

اقوام متحدہ میں پاکستان کو درپیش مسائل بیان کرنے کا جو موقع میسر آیا ہے وہ کسی نعمت سے کم نہیں. پاکستان کچھ عرصہ سے جن گوناگوں مسائل سے دوچار ہے اس بارے اقوام عالم کو بھی باور کرانا انتہائی ضروری تھا. اگر ان مسائل کو بتایا نہ جائے تو اقوام عالم ہمارے مسائل کی سنگینی سے بے خبر و بے نیاز ہوجائے لیکن یہ بہت اچھا ہوا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 77 واں اجلاس ہوا بلکہ اس میں پاکستان کے وزیر اعظم نے پورے ملک کی بھرپور نماءیندگی کی. پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں، مسئلہ کشمیر، بھارت سے تعلقات، افغانستان کی صورتحال اور دہشتگردی بارے کھل کر موقف بیان کیا.انھوں نے کہا کہ سیلاب جو پاکستان میں آیا ہے وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گا. میرا دل اور دماغ اس وقت بھی پاکستان میں ہے جو سیلاب سے متاثر ہے، کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ ہم کس مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، میں یہاں سب کو یہی بتانے آیا ہوں کہ پاکستان انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے، 40 دن اور 40 راتوں تک ایسا سیلاب آیا جسے دنیا نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا ، 650 عورتوں نے سیلاب میں بچوں کو جنم دیا، ابتدائی اندازے کے مطابق 4 ملین ایکڑ فصلیں تباہ ہوگئیں ، عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے ایسے اثرات پاکستان نے کبھی نہیں دیکھے، گلوبل وارمنگ نے پورے پورے خاندانوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا ہے۔گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پاکستان اس وقت دنیا کا گرم ترین ملک بن چکا ہے، جو پاکستان میں ہوا ہے وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گا، پاکستان کا گلوبل وارمنگ میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے دنیا سے موسمیاتی انصاف کی امید لگانا غلط نہ ہوگا. انھوں نے سیکرٹری جنرل یو این اور ان تمام عالمی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا جواس مشکل گھڑی میں ہمارےساتھ ہیں، پریشانی یہ ہےکہ جب کیمرے چلے جائیں گے تو ہم بحران سے نمٹنےکیلئے اکیلے رہ جائیں گے. اسکے ذمہ دار ہم نہیں ہیں، اس سیلاب کی وجہ سے 11 ملین لوگ سطح غربت سے نیچے چلے جائیں گے۔
جس حد تک ممکن ہےاپنےاخراجات سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے وقف کیےہیں، ہمارے پاس فنڈز اور ضروریات کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔
انھوں نے مسئلہ کشمیر بارے کہا کہ بھارت مسلم اکثریت والے کشمیر کو ہندواکثریت میں بدلنے کیلئے غیر قانونی تبدیلیاں کر رہا ہے. 20 ویں صدی کےمعاملات سےتوجہ ہٹا کر 21 ویں صدی کےمسائل پرتوجہ دینےکی ضرورت ہے ورنہ جنگیں لڑنے کیلئے زمین ہی باقی نہیں بچے گی۔جنوبی ایشیا میں امن کا انحصار مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے کے حل پر ہے، کشمیریوں کے خلاف بھارتی بربریت نے کشمیرکو دنیا کا سب سے بڑا فوجی علاقہ بنا دیا ہے، بھارت مسلم اکثریت والےکشمیر کو ہندو اکثریت میں بدلنے کیلئے غیر قانونی تبدیلیاں کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق رائےدہی کو یقینی بنانےتک مسئلہ کشمیرحل نہیں ہوگا، ہم پڑوسی ہیں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم امن کے ساتھ رہیں یا جنگ کر کے، جنگ کوئی آپشن نہیں، صرف پر امن مذاکرات ہی اس کا واحد حل ہے۔ بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن یہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ہرگز ممکن نہیں۔بھارت سمیت تمام ہمسائیہ ممالک سے پرامن تعلقات چاہتے ہیں، خطے میں مستحکم امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل انتہائی ضروری ہے، مقبوضہ کمشیر میں بھارت کے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات سے امن عمل متاثر ہوا، بھارت مقبوضہ کمشیر میں 5 اگست کے غیرقانونی اقدامات واپس لے، مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل عام کا سلسلہ جاری ہے ، پاکستان خطے میں امن کے عزم پر قائم ہے، بھارت کو سمجھنا ہوگا دونوں ممالک ایٹمی قوت ہیں جنگ اس کا آپشن نہیں۔ میں بھارت کے ساتھ بیٹھ کر مسئلہ کشمیر پر بات چیت کیلئے تیار ہوں تاکہ مشترکہ وسائل عوام کی بہتری کیلئے استعمال کرسکیں، مشترکہ وسائل ماحولیاتی مسائل کے حل کیلئے استعمال کیے جا سکیں ۔ ہم بھارت کے ساتھ طویل مدت کا امن چاہتے ہیں، بھارت سے طویل امن صرف مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی ممکن ہے۔سلامتی کونسل میں مزید 11 غیر مستقل ارکان شامل کرکے اس کے اختیارات بڑھانےکی ضرورت ہے، سلامتی کونسل میں مزید مستقل ارکان شامل کرنے سے توازن خراب ہوگا،بہتر نہیں ہوگا ۔اس وقت افغان حکومت کے ساتھ کشیدگی سے افغان عوام کو نقصان پہنچے گا. پاکستان ایسا افغانستان چاہتا ہے جو اپنے آپ کے ساتھ دنیاکیلئے بھی پرامن ہو، اس وقت افغان حکومت کے ساتھ کشیدگی سے افغان عوام کو نقصان پہنچے گا۔افغانستان کے مالی اثاثوں کو جاری کرنا افغان معیشت کی بحالی کیلئے انتہائی اہم ہے۔پاکستان ہر شکل اور صورت میں دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے. دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ہم سرحد پار دہشت گردی کو شکست دینے میں ڈٹے ہوئے ہیں، اسلاموفوبیا ایک عالمی رجحان ہے، نائن الیون کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف رویوں میں شدت آئی ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھتی جا رہی ہیں، اقوام متحدہ اسلاموفوبیا سے متعلق اپنائی گئی قرارداد پر عمل درآمد کو یقینی بنائے، ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کے خلاف مظالم بند کرے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی آیات کی تلاوت سے کیا۔ جمعہ کو وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے آغاز پر سورہ الزمر کی آیت 53 کی تلاوت کی جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ ʼʼکہہ دو اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ یقیناً وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہےʼʼ۔
اس دورے کے دوران شہباز شریف اور امریکی صدر جو بائیڈن کی مختصر ملاقات بھی ہوئی ہے۔ یہ ملاقات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس میں شرکت کرنے والے عالمی رہنماؤں کے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ کے موقع پر ہویء.وزیر مملکت خارجہ امور حنا ربانی کھر کے مطابق یہ مختصر بات چیت مثبت اور تعمیری تھی۔پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات ٹھوس بنیادوں پر استوار ہو رہے ہیں۔عالمی رہنمائوں نے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر ہمدردی اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا اور اب اس جذبےکو ٹھوس اقدامات میں تبدیل ہو نا چاہیے تاکہ پاکستان سیلاب سے بڑنے پیمانے پر تباہی کے بعد بحالی اور بہتر تعمیر کی طرف جا سکے. موسمیاتی تبدیلی کے نتیجہ میں غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سے نقصانات بارے بین الاقوامی برادری کو بھرپورطریقےسے آگاہ کیا گیا ہے. ملک میں سیلابوں و بارشوں کے باعث اتنی بڑی تباہی و بربادی میں عام انتخابات کا انعقاد بھی ممکن و مناسب نہیں اس تباہی سے ملک و قوم کو نکالنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن سب کو ملکر اپنا اہم کردار ادا کر نا چاہیے..اس نازک صورتحال میں کہ جب دو تہائی ملک سیلاب کے پانی میں ڈوب چکا ہے تو ایسے میں انتخابی سرگرمیوں کو جاری رکھنا انتہائی نامناسب ہوگا. ہم سب کو ایک اچھی قوم کے ناطے متاثرین سیلاب کی امدادی و بحالی کی سرگرمیوں میں شامل ہونا چاہیے کیونکہ عوام محفوظ ہوگی تو ملک بھی قائم رہے گا.جب مصیبت کے مارے عوام کی انتخابی سرگرمیوں میں شمولیت ہی نہیں ہوگی تو ان انتخابات کو کرانے کا اصل مقصد ہی فوت ہوجائے گا. اس لئیے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں یہی بہتر ہو گا کہ ملک میں عام انتخابات کو اپنے مقررہ وقت پر ہی ہونا چاہیے.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com