اقوام عالم کو پاکستان کساتھ کھڑا ہونا ہوگا

از۔۔ لبنی ہاشمی

سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں پاکستان کو عالمی برداری کے تعاون کی اشد ضرورت ہے ، یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس میں شرکت کو ایسے موقعہ سے تعبیر کیا جارہا ہے جو قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے کروڈوں پاکستانیوں کی مشکلات میں نمایاں کمی لاسکتا ہے ، کہا جاسکتا ہے کہ اس عالمی فورم پر وزیر اعظم پاکستان کی شرکت کئی لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے ،وزیر اعظم پاکستان کو باخوبی علم ہے کہ وہ ایسے وقت میں اقوام عالم کے سامنے پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے جارہے ہیں جب دنیا خود موسیماتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پاکستان کی مشکلات سے بڑی حد تک آگاہ ہے ، مطلب یہ کہ عالمی امداری ادارے ہی نہیں موسیماتی تبدیلی کے ماہرین بھی پاکستان کے طول وعرض میں میں سیلاب کی وسیع تباہ کارویوں کا برملا اعتراف کررہے ہیں ، مثلا حال ہی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستان کے دورےپر آئے اور اس تباہی کا مشاہدہ کیا جس نے کروڈوں پاکستانیوں کی دنیا اجاڈ کر رکھ دی ، ادھر وزیر اعظم پاکستان نے امریکہ پہنچتے ہی سوشل میڈیا کے زریعہ پیغام دیا کہ وہ دنیا کو سیلاب کی تباہ کارویوں کے نتیجے میں پاکستانی عوام کی ان مشکلات سے آگاہ کریں گے جس سے ہمارے کروڈوں عوام نبرد آزما ہیں، شبہازشریف کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ دنیا ہنگامی بنیادوں پر پاکستان پر توجہ مرکوز کرے ٓ”
اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے 23 ستمبر کو خطاب کریں گے ، اپنے خطاب میں شبہازشریف پاکستان کو درپیش اس چیلجز کو بیان کریں گے جس نے ملک کو تاریخی دوراہا پر لاکھڑا کیا وزیر اعظم کے وفد میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری ، وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر ،وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب کے علاوہ دیگر اعلی حکام شامل ہیں،اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ آج دنیا پاکستان کے موقف کو سننا چاہتی ہے ، اقوام عالم آگاہ ہے کہ عالمی برداری میں ہمیشہ مثبت کردار ادا کرنے والا پاکستان آج خود مشکل میں ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد ایشن ڈویلپمنٹ بنک نے اعلان کیا کہ وہ وسیع پیمانے پر آنے والے سیلاب سے متاثرہ پاکستانیوں کی آباد کاری اور بحالی کے کام میں پوری طرح پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے ، ایشن ڈویلپمنٹ بنک کا سماجی رابط کی ویب سائٹ پر کہنا تھا ک کہ سیلاب کی شکل میں پاکستان میں آنے والی قدرتی آفت سے متاثر ہونے والی خواتین اور بچوں کی نہ صرف بھرپور امداد کی جائے گی بلکہ اسلام آباد سے ایسے منصوبوں کی تکیمل میں بھی تعاون کیا جائے گا جو موسیماتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور بچنے میں معاون ثابت ہوں ، ایشن ڈویلپمنٹ بنک کے بعقول وہ جلد اس منصوبہ کی تفصیلات سے پاکستانی حکام کو آگاہ کرے جو سیلاب متاثرین کےلیے تیار کیا جارہا ہے ، "
مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے اس اہم دورے کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ افادیت سامنے آسکئے، مثلا شبہازشریف اقوام متحدہ کی جنزل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کے علاوہ گلوبل فوڈ سیکورٹی سمٹ میں بھی شریک ہوں گے جو افریقی یونین ، یورپی یونین اور امریکہ کے تعاون سے منعقد ہوگا، درحقیقت عالمی موسیماتی تبدیلی کے تناظر میں اس سمٹ کی اہمیت دوچند ہوچکی ، بتایا جارہا ہے کہ اس اہم اجلاس میں موسیماتی تبدیلی سے بچاو کے لیے ایسے قابل عمل منصوبوں پر غور ہوگا جو حقیقی معنوں میں موسیماتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کا حجم کرسکیں ، اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران ہی وزیر اعظم شبہازشریف کی اہم سربراہان مملکت سے ملاقات شیڈول ہے جس میں عالمی رہنماوں سے دوطرفہ امور کے علاوہ علاقائی اور عالمی مسائل کے حل پر ٹھوس بات چیت کی جائے گی ، وزیر اعظم پاکستان اقوام متحدہ کے صدر اور جنرل سیکرٹری سے بھی ملیں گے ، اقوام محتدہ کی جنرل اسمبلی کے سیشن کے دوران عالمی رہنما اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور امریکی صدر کی جانب سے دئیے جانے والے عشائیہ میں بھی شریک ہوں گے ، اس میں دوآرا نہیں کہ شبہازشریف سیلاب کی تباہ کارویوں کے پس منظر میں پاکستان کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کریں گے ، وہ استدال اور دلیل کساتھ اقوام عالم کو بتائیں گے کہ کیسے عالمی موسیماتی تبدیلیوں میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے باوجود وہ متاثرہ ہونے والے ملکوں میں سرفہرست ہے ، وزیر اعظم پاکستان دنیا کو اس تلخ حقیقت سے آگاہ کریں گے کہ دنیا میں آلودگی پھیلانے میں بھارت کا نمایاں حصہ ہے اس کے برعکس پاکستان کی صعنت کاری کی سطح کم ہے اسی وجہ سے کاربن اخراج کی سطح بھی کم ہے ، شبہازشریف عالمی برداری کی توجہ اس پر بھی دلائیں گے دنیا کو عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچاو کے لیے ایسے حکمت عملی پر عمل کرنے میں پاکستان کی مدد کرنا ہوگی جس کے علاقائی ہی نہیں عالمی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات ظاہر ہوں ، وزیر اعظم پاکستان مغربی دنیا کے اہم ملکوں سے درخواست کرسکتے ہیں کہ صنعتی ممالک پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی مشکلات میں نمایاں کمی کرنے کے لیے عملی اقدمات اٹھائیں ، اپنی ملاقاتوں میں شبہازشریف مختلف سربراہان مملکت کو بتائیں گے کہ آخر کیوں پاکستان میں 2010 کے سیلاب کے برعکس 2022 کا سیلاب زیادہ تباہ کن ثابت ہوا ،
ایشن بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں کیا جاچکا ہے جہاں درجہ حرارت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، اس کا ثبوت یہ کہ گذشتہ سالوں میں مختلف پاکستانی علاقوں میں پانچ سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت میں اضافہ ہوا جو گذشتہ پیچاس سالوں میں سب سے زیادہ ہے ، ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان دنیا کے ایسے مقام پر ہے جہاں دنیا کے دوبڑے موسمی نظاموں کے اثرات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں ، ایک نظام زیادہ درجہ حرارت اور خشک سالی جیسے مارچ میں گرمی کا سبب بن سکتا ہے جبکہ دوسرا مون سون کی بارشیں لے کر آتا ہے ، عالمی موسیماتی ماہرین پیشن گوئی کررہے ہیں کہ دنیا کے پاس عالمی حدت روکنے کے لیے محض گیارہ سال کا عرصہ رہ گیا ، حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ وارنگ پاکستان جیسے ممالک کے لیے مذید مسائل پیدا ہونے کی صورت میں دیکھی جارہی ہے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com