سیلاب متاثرین اور جامع حکومتی پالیسی

از۔۔ عبداللہ ملک
وزیراعظم پاکستان سیلاب متاثرین کو بحال کرنے کے لیے جس حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں قوی امکان ہے کہ اس کے جلد اور ٹھوس نتائج سامنےآئیں گے ،اگرچہ پی ڈی ایم حکومت اپنے محدود وسائل کے باوجود پاک فوج کے ساتھ مل کر سیلاب سے آنے والی تباہ کاریوں سے نمٹنے میں مصروف ہے مگر اس آفت سماوی کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ اس پر قابو پانا ہرگز آسان نہیں ، ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو درپیش آفت سے 10 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے ، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مختلف مسلم وغیرمسلم ممالک نے اپنے وعدے وفا کرتے ہوئے امداد بھیجوا بھی دی جو متاثرین میں تیزی کساتھ تقسیم کی جارہی ہے ، غیر ملکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے پاکستان کے لیے عالمی برداری کو اپیل کرنے پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے ، انٹوینو گوٹیرش کی اعلان کردہ 160 ملین ڈالر کی امداد کا 40 فیصد حصہ مختلف ملکوں کی جانب سے امدادی اشیا کی صورت میں پاکستان کو موصول ہوچکا ہے ، اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ عالمی بنک کی جانب سے 350 ملین ڈالر کی امداد بھی پاکستان کو مل چکی ، وفاقی حکومت سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کو ترجیح دے رہی ہے ، وزیر اعظم شبہازشریف ایک سے زائد بار کہہ چکے کہ جب تک متاثرہ خاندان ایک بار پھر اپنے گھروں میں آباد نہیں ہوجاتے وہ ہرگز چین سے نہیں بیھٹے گیں ، یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر 80 ارب روپے کی رقم مختص کی ، مذکورہ رقم سے ہر متاثرہ خاندان کو 25 ہزار روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے زریعہ دیئے جائیں گے ، دراصل یہ امداد سرکاری اداروں میں پہلے سے رجسڑڈ مستحقین کے بنک اکاونٹ میں براہ راست منتقل کی جارہی ہے ، حکام کے مطابق سیلاب متاثرین میں غیر ملکی امداد تقسیم کرنے کا عمل بھی ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے ، اہم یہ بھی ہے کہ غیر ملکی امداد این ڈی ایم اے کے زریعہ دی جارہی ہے ، این ڈی ایم اے یہ امداد صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے حوالے کرتا ہے جو اسے ضعلی انتظامیہ کے سپرد کرتی ہے جو بعد میں اسے قصبوں اور دیہاتوں میں پہچانے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے، امداد سرگرمیوں کو شفاف بنانے کے لیے متاثرہ افراد کی جان پڑتال بھی کی جاتی ہے ، بین الاقوامی این جی اوز کا سیلاب متاثرین کی مدد کرنےکا اپنا طریقہ ہے ، مثلا وہ امداد براہ راست حکومت کو دینے کی بجائے اپنے نمائندوں کے زریعہ متاثرین کی نشاندہی کرتے ہیں اور پھر حکومتی اجازت سے امداد تقسیم کی جاتی ہے ، اس وقت پاکستانی این جی اوز بھی بھرپور طریقہ سے سیلاب متاثرین کی مدد کر رہی ہیں،ایدھی ویلفیر اور جماعت اسلامی کی تنظیم الخدمت پوری جانشینی سے حکومتی سرگرمیوں میں ہاتھ بٹا رہی ہیں، سیلاب سے آنے والی آفت کے حجم اور اس کے اثرات کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں جہاں پانی کم ہورہا ہے وہاں وبائی امراض متاثرین کی مشکلات میں اضافہ کررہی ہیں، ایک نجی تنظیم کے مطابق سیلاب سے متاثر ہونے والے پچیاس لاکھ افراد کو مختلف بیماریوں لگنے کا خطرہ لاحق ہوچکا ہے ، عالمی ادارے یونسیف کے مطابق 30 لاکھ بچوں کو غذائی قلت یا سیلابی پانی سےپیدا ہونے والی بیماریاں متاثر کرسکتی ہیں، یونیسف نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے عالمی برداری سے 37 ملین ڈالر امداد کی اپیل کررکھی ہے ، یونیسف کا کہنا ہے کہ قدرتی آفت نے 16 ملین بچوں پر اثر ڈالا ہے جن میں سے 4۔3 کو فوری امداد کی ضرورت ہے، اعداد وشمار کے مطابق سیلاب کے نتیجے میں 18ہزار سکولوں کو مکمل یا جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے ، ادھر ڈبیلو ایچ او کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں قائم صحت کے مراکز میں سے 900 کو نقصان پہنچا ہے جس میں سے 180 مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں ، عالمی ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ قدرتی آفت کے نتیجے میں پانی کا 30 فیصد نظام متاثر ہوا ہے جس کے نتیجے میں لوگ کھلے آسمان کے نیچے رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں ،سیلاب زدہ علاقوں میں لوگ غیر معیاری پانی پی رہے ہیں، حکام کے مطابق سیلاب سے براہ راست متاثر ہونے والے افراد تو ایک طرف مگر جن علاقوں میں قدرتی آفت نہیں وہاں کے رہنے والےبھی متاثر ہورہے ہیں، مثلا آفت زدہ علاقوں میں پیاز، کپاس، گنے اور دیگر فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں جس سے دیگر علاقوں میں اشیائے خردونوش کے دام بڑھ چکے ہیں ، یقینا حکومت کی جانب سے غیر ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کے عمل کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے ، پاکستان کا عام شہری بجا طور پر اس پر فکر مند ہے کہ عمران خان کی شکل میں ایسی سیاسی شخصیت قومی منظر نامہ پر موجود ہے جو ان حالات میں بھی خالصتا اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے ، لاکھوں خاندانوں کی مشکلات سے قطع نظر سابق وزیراعظم حصول اقتدار کے کھیل میں جس طرح مصروف ہے اس سے ملک کے اندر ہی نہیں بیرون ملک پاکستانیوں کی اکثریت بھی پی ٹی آئی سے نالاں ہوچکی ، "کپتان ” اور اس کے حامیوں سے سوشل میڈیا پر یہ سوال پوچھا جارہا کہ آخر کیوں وہ حکومت کو غیر مستحکم کرکے سیلاب زدگان کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے درپے ہیں، ایک تاثر یہ ہے کہ وفاق ہی نہیں فوج اور دیگر اداروں کی جانب سے جاری امداری سرگرمیاں یوں متاثر ہورہی ہیں کہ سابق وزیر اعظم پہ درپہ مختلف شہروں میں جلسے جلوس جاری رکھے ہوئےہیں، اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ اگر عمران خان اور ان کی جماعت کے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی پوری توجہ کساتھ امدادی سرگرمیاں میں ساتھ دیتے تو متاثرین کی مشکلات میں کسی نہ کسی حد تک کمی آسکتی تھی ، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان تاریخ کی بدترین قدرتی آفت سے دوچار ہے جس میں اتفاق ویکجتی کی ضرورت ماضی کے برعکس کئی گنا بڑھ چکی ہے ،

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com