تلخیاں! جمع ہوتی امداد بٹتی نظر نہیں آرہی!


تحریر۔۔۔۔۔ علی احمد ڈھلوں
اس وقت عالمی برادری کے اعلانات کے مطابق سیلاب زدگان کی امداد کے اعداد و شمار اکٹھے کریں تو پانچ سو ارب روپے سے زائد کی نقد اور 2سوارب روپے کے سامان کی شکل میں امداد اکٹھی ہوچکی ہے، اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دورہ پاکستان کے بعد کئی ممالک سے امداد کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن کہیں اس کی تقسیم کا باقائدہ نظام دیکھنے کو نہیں مل رہا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی غیرملکی امداد خردبرد کر لی جائے گی،اور متاثرین چند روپے لے کر دوبارہ کچے مکان تعمیر کریں گے اور اُن کے پاس سر چھپانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ آگے چلنے سے پہلے آئیے اس حوالے سے نظر دوڑاتے ہیں کہ آفت گزرنے کے چند دن کے اندر اندر کس ملک نے کتنی کارکردگی دکھائی۔ 2008ءمیں چین کے صوبہ سیچوان میں 7.9ریکٹرسکیل کا زلزلہ آیا جس میں 70ہزار افراد مارے گئے،اور 6لاکھ گھر مکمل تباہ ہوگئے۔ لیکن چینی حکومت نے ایک ہفتے میں ان تمام بے گھرافراد کی عارضی رہائش کا بندوبست کیا اور اگلے ایک مہینے میں اُنہیں ناصرف گھر بنا کر دیے بلکہ اُنہیں فنانشل سپورٹ بھی کیا اور جن کے کاروبار متاثر ہوئے اُنہیں ٹیکس چھوٹ کے علاوہ مالی امداد اور بغیر سود کے قرضے بھی دیے۔ 2019-20میں آسٹریلیا کے جنگلات میں آگ لگی اور 46ملین ایکڑ رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ آگ کئی دن تک جاری رہی اور اس میں 400افراد لقمہ اجل بنے اور جنگلات کے کاروبار سے جڑے 90ہزار افراد بری طرح متاثر ہوئے۔ حکومت نے آگ بجھنے کے ایک ہفتے میں تمام متاثر افراد کا ڈیٹا جمع کیا، اُنہیں عارضی کیمپوں میں منتقل کیا اور 2ماہ کے اندر اندر اُنہیں دوبارہ سیٹل ہونے میں ہر قسم کی مدد فراہم کی۔ پھر2017ءمیں امریکا میں ”ماریہ“ نامی سخت طوفان آیا جس نے کئی ریاستوں کو لپیٹ میں لے لیا، لیکن سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست پورٹو ریکو تھی جہاں 100ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا، 4لاکھ گھر سرے سے ہی تباہ ہوگئے اور 10لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ امریکی حکومت نے پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی اور ایک ہفتے کے اندر اندر ٹرانسپورٹ اور بجلی بحال کرکے اُن گھروں کی تعمیر کا کام شروع کروادیا جنہیں طوفان نے لپیٹ میں لیا تھا۔ دوسرے مرحلے میں سکول، کالجز کو کھولا گیا جبکہ ایک مہینے کے اندر اندر نظام زندگی کو نارمل کرنے میں امریکی حکومت پیش پیش نظر آئی۔ اسی طرح 2004میں ریکٹر سکیل پر 9.1شدت کے زلزلے نے انڈیا کے سمندری علاقوں میں تباہی پھیلا دی، کئی ہزارگاﺅں پانی کی نذر ہوگئے، ڈھائی لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے گئے، بھارت کو اُس وقت 130ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ لیکن اُسے جتنی امداد ملی اُس پر آج تک کسی نے کوئی کمیشن نہیں بنایا، وہ تمام امداد عوام کو بحال کرنے میں لگی۔ یا ساحل سمندر کو بہتر بنانے میں خرچ کی گئی۔
لیکن اس کے برعکس پاکستان میں سیلاب کو آئے ہوئے ڈیڑھ دو ماہ ہوچکے ہیں، ابھی تک ماسوائے ”جعلی سیلاب زدگان“ پیداکرنے کے ہم نے کچھ نہیں کیا۔ظاہر ہے جب ایک منظم نظام موجود نہیں ہوگا تو موقع پرست لوگ آگے آئیں گے۔ لیکن قصہ مختصر یہ ہے کہ ابھی تک ساڑھے تین کروڑ افراد میں سے ساڑھے تین لاکھ افراد بھی بحال نہیں ہوسکے۔ہاں! کہیں کہیں نجی تنظیمیں سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے پیش پیش نظر آرہی ہیں مگر سرکاری سطح پر ابھی تک ڈیٹا بھی اکٹھا نہیں کیا جاسکا کہ متاثرین میں کتنے خاندان، کتنے افراد اور کون کون سے گاﺅں، قصبے یا شہر متاثر ہوئے ہیں۔ حالانکہ اس وقت شاہ لطیف کے سندھ کی بستیاں غرقاب ہیں۔ گوٹھ مٹ رہے ہیں۔ شہباز قلندر کی نگری کو منچھر کے پانی نے گھیر لیا ہے۔ سندھو ندی بپھری ہوئی ہے۔ زمین پر اللہ تعالیٰ کا نائب، مخلوقات میں سب سے اشرف سہما ہوا ہے۔ منتوں مرادوں سے پیدا ہونے والے بچے مچھروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کی اکیسویں صدی میں ایک ایٹمی طاقت کے تین صوبوں میں مائیں،بہنیں، سہاگنیں ،بزرگ ،بھائی حسرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اب کہیں ”جیے بھٹو“ ہے نہ ”بھیج پگارا“ ہے۔ ہر طرف پانی ہے۔ صفحہ ہستی سے مٹتے قصبے، سڑکوں پر پڑے بے یارو مددگار میرے عظیم ہم وطن۔ یہاں سے ایک ہی آواز آتی ہے۔ ”کوئی مدد کو نہیںآیا۔ ہمیں کچھ نہیں ملا۔“صرف کے پی کے میں صورتحال بہتر ہے، میں چارسدہ کے ایک ڈی سی سے اس حوالے سے بات کی تو انہوں نے کہا ہمارے پاس وافر مقدار میں سامان موجود ہے، آپ اسے سندھ لے جائیں!
کراچی،لاہور،حیدرآباد،پشاور،ملتان،کوئٹہ، سیالکوٹ اور نہ جانے کہاں کہاں ہمیںامدادی سامان سے بھرے اسٹال و کیمپ نظر آرہے ہیں۔ ایئرپورٹوں پر جہاز اتر رہے ہیں۔ اپنے اپنے ملکوں کے پرچموں کے نشان اوربڑے بڑے کنٹینر لئے۔ یہ نظارے دیکھ کر حوصلہ بڑھتا ہے کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔ چارہ گری ہورہی ہے لیکن جب سیلاب زدگان کے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔چاہے وہ جنوبی پنجاب ہو، بلوچستان،اندرون سندھ، خیبر پختونخوا۔ وہاں سے یہی صدائیں آتی ہیں۔”ابھی تک کوئی نہیں آیا۔“ قابلِ ستائش ہیں وہ اخباری، ٹی وی رپورٹر جو کتنی مشکلوں مصیبتوں سے ان دور دراز علاقوں میں پہنچ رہے ہیں۔ وہ خود بھی اپنے ان جفاکش ہم وطنوں کی بے چارگی، بے سرو سامانی دیکھ رہے ہیں۔ یہ رپورٹر، کیمرہ مین جب وہاں پہنچ سکتے ہیں۔ تو حکومتیں یا امدادی سامان بانٹنے والی فلاحی تنظیمیں وہاں تک کیوں نہیں پہنچ پارہی ہیں۔ان تنظیموں کی جانب سے روزانہ رپورٹیں کیوں جاری نہیں کی جاتیں؟یہ سوال ہر اس پاکستانی یا سمندر پار پاکستانی کے ذہن میں تڑپ رہا ہے کہ وہ جو نقد رقم عطیہ کررہا ہے۔ امدادی سامان دے رہا ہے۔ دوائیں پہنچارہا ہے۔ وہ اس کے حقدار ہم وطنوں تک کیوں نہیں پہنچ رہیں؟
ان علاقوں کے اسسٹنٹ کمشنرز، ڈی ایس پی، ایس ایچ او، مختار کار سب کہاں ہیں۔ ان کی طرف سے روزانہ رپورٹیں کیوں نشر نہیں کی جاتیں۔ یہ آگہی بھی ان کے فرائضِ منصبی کا حصّہ ہے۔ متاثرہ علاقوں کے قومی، صوبائی، اسمبلیوں کے ارکان اورسینیٹرز۔ وزرا کا بھی فرض ہے کہ وہ روزانہ اپنے اپنے شہر، قصبے اور گاﺅں کی صورت حال سے آگاہ کریں۔ سندھ جس نے جمہوریت کی جدو جہد میں ہمیشہ نوجوانوں نے جیلوں کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ پاکستان کے لئے اپنے گھر بار چھوڑ کر آنے والے بھی سندھ میں سب سے زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔ دریاﺅں کے آخر میں اور مملکت کے نشیب میںہونے کی وجہ سے ملک کا سارا پانی سندھ میں آکر کھڑا ہوگیا ہے۔پانی اپنے طور پر اتر رہا ہے۔ نہ اس کے نکالنے کے لئے بڑے پیمانے پر کوئی انتظامات ہورہے ہیں۔
کیا کوئی مان سکتا ہے کہ کوئی درد دل رکھنے والا شخص یا حکمران اتنی سفاکی کا مظاہرہ کرسکتا ہے؟ اس عرصے میں کتنے بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں ،کتنی مائیں، کتنی بہنیں کھڑے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوئی ہیں۔ کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ اس حقیقت کا اظہار کررہے ہیں کہ پانی نکلنے یا خشک ہونے میں مزید تین ماہ لگ سکتے ہیں۔ یعنی دسمبر آجائے گا۔ 14جون سے شروع ہونے والی یہ تباہی دسمبر تک جاری رہے گی۔ نئے مالی سال کا آدھا عرصہ اس بربادی میں گزر گیا ہے۔ یہ زمینیں ایک فصل سے محروم ہوجائیں گی۔سوال یہ ہے کہ یہ امداد ابھی خرچ نہیں ہوگی تو کب ہوگی؟ کیا سندھ کے حکمران ایسی آفات کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ چلیں چھوڑیں! رونے سے کیا فائدہ مگر پاکستان کی بدقسمتی دیکھیں کہ جب سیلاب آیا تو پاکستان پر اُنہی کی حکومت ہے جن کے سابقہ ریکارڈز سب کے سامنے ہیں۔ الغرض وفاقی حکومت میں شامل تیرہ سیاسی جماعتیں تاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہیں۔اس وقت حکم ان کا چل رہا ہے۔ سندھ اور بلوچستان جو سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ وہاں اسی اتحاد کی ر±کن جماعتوں پی پی پی اور باپ کی حکومتیں ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیںمل کر بھی غم خواری اور اچھے انتظام کا تاثر نہیں دے سکی ہیں۔ یہ لیڈر شپ کی، کارکنوں کی آزمائش ہے۔ وفاق کے پاس بھی اور عسکری قیادت کے پاس بھی اب دوست ممالک کی ترسیل کردہ امدادی رقوم ہیں۔ یہ امانتیں ہیں جو حقداروں تک پہنچنے کی منتظر ہیں۔ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان، کے پی کے، آزاد جموں و کشمیر۔ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کی حکومتیں ہیں۔ اس پارٹی کے سربراہ عمران خان کی بھی آزمائش ہورہی ہے کہ وہ سیلاب زدگان کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ ان کے پاس سمندر پار پاکستانیوں کی اربوں روپے کی امانتیں ہیں جو ٹیلی تھون کے ذریعے جمع کی گئیں۔ سچی بات یہ ہے کہ سمندر پار پاکستانی اپنی نیک کمائی میں سے خطیر رقم ایسی آفات میں پاکستان بھیجتے ہیں۔
بہرکیف میں پھر یہی کہوں گا کہ موجودہ حکومت ان علاقوں کے کاسمیٹکس دورے کرنے کے بجائے ایک ایسا سسٹم بنائے جس پر دنیا اعتبار کرے، ایک ایسی ویب سائیٹ یا ڈیٹا بیس ترتیب دے جو دنیا کے ساتھ شیئر کیا جاسکے کہ 3کروڑ افراد میں سے اتنے افراد کی بحالی ہو چکی ہے اور کتنے رہ گئے ہیں۔ پھر اس پورٹل پر بتایا جائے کہ غذائی بحران پیدا ہونے والا ہے، اُس کے لیے دنیا سے گندم چاول کی اپیل کی جائے، کیوں کہ آج کل میں ہی ان علاقوں میں ایک بڑا مسئلہ غذائی بحران پیدا ہونے والا ہے جس سے نمٹنے کے لئے ہمسایہ ممالک سے سبزیاں اور اناج منگوانے کی کاوشیں جاری ہیں جبکہ اندرون ملک وسیع رقبہ زیر آب آنے کے باعث نئی فصلوں کیلئے زمین کی مطلوب دستیابی بھی توجہ طلب ہے۔ اس منظر نامے میں گلوبل فلاحی ادارے عالمی برادری کے زیادہ موثر ،فوری اور سرگرم کردار کی ضرورت اجاگر کر رہے ہیں۔جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً دو کروڑ 10لاکھ ایکڑ اراضی زیرآب ہے اور ایک اندازے کے مطابق ملکی فوڈ باسکٹ یعنی چاول اور گیہوں جیسی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔ 7لاکھ 33ہزار سے زائد مویشیوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔ لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور حکومت ان علاقوں میں بڑے بڑے ریلیف کیمپ آفسز بنائے جہاں ان متاثرہ افراد کو رجسٹر ڈکیا جائے تاکہ امداد صحیح انداز میں صحیح لوگوں تک پہنچ سکے ورنہ یہ سب بھوک، عزت اور شرم سے مرجائیں گے!

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com