میرا وسیب ڈوب چکا ہے

تحریر:- صبغہ راؤ قاقیش

اس وقت، کوہ سلیمان پورا، تحصیل تونسہ ،ضلع ڈیرہ غازی خان٫ فاضل پور، ضلع راجن پور رحیم یار خان (چولستان اور روہی) کو شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا سامنا ہے ۔

بارشوں اور سیلاب کا یہ تیسرا سپل ہے۔ کوہ سلیمان میں تقریباً تمام مکانات بہہ گئے ہیں کوہ سلیمان چونکہ پہاڑی سلسلہ ہے وہاں جانے کے سارے راستے لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہیں اور انتظامیہ تین دن سے صرف فورٹ منرو کا راستہ کھولنے کی کوشش میں یے جو ابھی تک نہیں کھل سکا

تحصیل تونسہ 90 فیصد علاقے بارش کا پانی اور پہاڑوں سے انے والی ندی نالوں ، ردکوہیوں کی وجہ سے زیر آب آ گیا ہے صرف ایک کلومیٹر ریڈیس کا تونسہ شہر بچا ہوا ہے اس میں بھی ہائی الرٹ ہے اسی طرح ضلع ڈیرہ غازی میں یہی صورتحال ہے وہاں بھی پانی تقریباً شہر تک پہنچ چکا ہے فاضل پور مکمل ڈوب چکا ہے راجن پور تک بھی پانی پہنچ چکا ہے یہ سیلاب 2010 ,کے سیلاب سے تین گنا زیادہ تباہ کن ہے
پسماندہ جنوبی پنجاب میں بارش اور سیلابی ریلوں نے ہرطرف تباہی و بربادی پھیلادی ہے کپاس اور چاول کی فصل مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے ہزاروں افراد اور مال مویشی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے۔سیکڑوں نہیں ہزاروں مکانات زیر آب آ چکے ہیں اور لاکھوں افراد طوفانی سیلاب سے تن تنہا نبردآزما ہیں۔حکمران و سیاسی جماعتوں کو نورا کشتی سے فرصت نہیں کہ وہ اقتدار کی کرسی کو حاصل کرنے اور بچانے میں مصروف عمل ہیں جبکہ ڈیرہ غازی خان، تونسہ، راجن پور، کوٹ ادو، رحیم یار خان اور مظفرگڑھ کی عوام تن تنہا سسک رہی ہے ایک طرف سیلاب ہے اور دوسری طرف بارش کا پانی سینکڑوں گاؤں مٹی کا ڈھیر ہو چکے ہیں متواتر بارشوں سے کچے مکانات سب گر چکے ہیں اور سیلابی علاقوں میں تو پکے بھی گرے جاتے ہیں حالات یہ ہیں کہ میری وسیب کے لوگوں کے پاس چھت کے نام پر آسمان اور فرش کے نام پر کیچڑ اور دلدل زدہ گیلی زمین ہے میرا وسیب ڈوب چکا ہے بارش میں پورے پورے خاندان شاپر استعمال کرتے ہیں بارش سے بچنے کے لیے مکانات گر چکے روزگار ختم ہو چکے راشن جو موجود تھا وہ بھی ختم ہو چکا جو سیلاب بارش اور موسمی حالات سے بچ گیا وہ بھوک سے مر رہا ہے میری عوام کے پاس کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ ایوانوں میں آج بھی سیاسی بیان بازی جاری ہے پارٹی بازی سے ہٹ کر کوئی شخص میری وسیب پر بیان دینے کو تیار نہیں افسوس کی انتہا یہ ہے کہ میرے ڈوبے ہوئے وسیب کو میڈیا کوریج بھی حاصل نہیں ہمارے حالات ایسے ہیں کے جو لوگ آواز اٹھانے والے تھے وہ دن رات لاشیں اٹھا رہے ہیں جو لوگ سہارا دینے والے تھے وہ سہارا بے گورو کفن لاشوں کی صورت میں ہمیں مل رہے ہیں قلم کانپتا ہے وہ حالات لکھتے ہوئے بھی جو ہماری وسیب کے اس وقت ہوئے پڑے ہیں رحیم یارخان کی روہی اور چولستان کا علاقہ میدان بن چکا ہے تمام مکانات، بھانے ، جھگیاں جھونپڑیاں گر چکی ہیں راجن پور تونسہ ڈی جی خان مکمل سیلاب کی زد میں ہے خدارا میری وسیب کی حالت زار کو دیکھیں میری حکمرانوں سے اپیل ہے کہ وہ ایوانوں سے باہر نکل کر میری وسیب کی بے بسی کو دیکھیں آج آپ لوگ جو ایوانوں میں بیٹھیں ہیں آج سرکاری مراعات حاصل کیے ہوئے ہیں اس میں میری وسیب کے لوگوں کا بھی حق شامل ہے خدارا ان کو انکا حق ہی دیں انہیں اس وقت آپ لوگوں کے بیانات سے زیادہ امداد کی ضرورت ہے
کیونکہ یہ تو طوفان ہے گزر جائے گا جو جا چکے انہیں ہم نہیں بچا سکے مگر جو زندہ ہیں ہمیں انکے لیے بھی زندگی کے مواقع پیدا کرنے ہیں کیونکہ میری وسیب میں لاکھوں لوگوں کے گھر گر چکے ، روزگار ختم ہو چکے ، کئی بچے یتیم ہیں ، کئ عورتیں بیوہ ، کسی کا گھر اجڑ گیا کسی کا مال بہہ گیا ابھی تو ہم لاشیں سمیٹ رہیں ہیں زندہ تو ابھی سب بکھرے ہوئے ہیں انہیں بھی سمیٹنا ہے انکے روزگار ، انکے مال اسباب ، انکی چھت ، انکی خوراک ، انکے حالات کا بھی تو سوچنا ہے اس لیے میری دردمندانہ اپیل ہے پورے پاکستان سے مخیر حضرات سے نجی تنظیموں سے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سے خدارا میری وسیب کی بحالی اور بچاو کے لیے دیر پا اقدامات کریں ان حالات میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کی جائے اور نیشنل این ڈی ایم اے کے تحت میری وسیب کے تباہ شدہ علاقوں میں وسیب بحالی کے لیے لانگ ٹرم پراجیکٹس شروع کئے جائیں تاکہ ہم مردوں کے ساتھ جو زندہ بچ گئے انہیں بھی کندھا دیں سکے کیونکہ اس وقت پیچھے بچ جانے والوں کو آپ کے سہارے اور مدد کی اشد ضرورت ہے انسان کا انسانیت سے اعتبار اٹھا جاتا ہے خدارا میری وسیب کے اعتبار کو بچا لیں انکے اندر کے انسان کو بچا لیں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com