کربلا کی مائیں

تحریر ۔۔۔ محمد سرفراز ذوق

ایک سندھی کہاوت ہے کہ، "جب رب کائنات نے انسانیت کو اپنی بے پناہ محبت،رحم و کرم اور مہربانی کا پیکر ظاہری دکھانا چاہا تو اس نے ماں کا وجود تخلیق کرکے اس دنیا میں بھیجا”
یقینا انسان کے رشتوں میں باپ کے علاوہ ماں ہی وہ ہستی ہے جو ہر وقت اپنی اولاد کیلئے نہ صرف محبت،کرم،مہربانی اور سب سے بڑھکر حفاظت کا عملی پیکر ہوتی ہےبلکہ جو ہر وقت اپنی اولاد کی کامیابی،ترقی،عزت و سر بلندی کیلئے کوشاں اور مجسم دعا رہتی ہےاور اگر کبھی اولاد پر کوئی مشکل گھڑی پیش آجائے تو ہر صورت اپنی اولاد کو اس مشکل سے نکالنے اور بچانے کیلئے ہمت و کوشش کرتی ہے۔لیکن چشم فلک نے ایک ایسا وقت بھی دیکھا جب ایک نہیں بے شمار ماوں نے اپنے جوان بیٹوں کو اپنے ہاتھوں سے باقاعدہ سجا سنوار اور تیار کرکے ایک واضح آفتاد جو کہ انکے بیٹوں کی جان لینے کے سوا ٹلنے والی نہیں تھی اسکے سامنے اپنی جانوں کو ہر حال میں قربان کرنے کے وعدوں کے ساتھ روانہ کیا۔جی ہاں میں ذکر کر رہا ہوں کربلا میں موجود عالی وقار،بہادر اور بے حد حوصلہ مند ماوں کا جنہوں نے اپنے شہزادوں جیسے لعل قربانی کیلئے پیش کیے۔
سب سےپہلے ایک نہایت ہی خوبرو،حسین و جمیل جواں سے بات کرتی ایک نہایت باحوصلہ ماں نظر آتی ہے یہ ایک نصرانی قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں، اس ماں کے بالکل ساتھ ایک دلہن بنی نہایت خوبصورت جوان لڑکی بھی موجود ہے جو اس ماں کے کندھے سے جوان کو محبت اور حسرت کے ملے جلے تاثرات سے بس تکے جا رہی ہے اور ماں کی باتیں سن کر سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ماں اپنے بیٹے جناب وہب کلبی سے کہہ رہی ہے تمھارے والد نے تمھاری پیدائش کیلئے جس عظیم المرتبت شخصیت سے دعا کروائی تھی وہ جناب علی الرتضے تھے آج انکے صاحبزادے نے ہم پر کرم کرتے ہوئے ہمارے بھاگ جگا دیئے ہیں اور ہمیں اپنے ساتھیوں میں شامل کر لیا ہے ہمارا یہ فرض ہے کہ اس کڑے وقت میں وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے انکی تائید میں انکی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں ان پر قربان کر دیں، وہ بہادر ماں اپنے چند دن کے دولہا بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے تیار کر رہی ہے اور اسکے حسین چہرے کی بلائیں لیتے ہوئے بہادری سے لڑنے اور اپنی جان نواسہ رسول اور سردار جنت حسین علیہ اسلام پر قربان کرنے کا وعدہ لے رہی ہے۔اس خوبرو جوان نے نہایت بہادری ،جواں ہمتی اور شان سے لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کی۔
ہمیں وہیں ایک اور خیمہ میں ایک شہزادوں کے سے رنگ و ڈھنگ کے نہایت خوبصورت جوان سے بات کرتی ایک اور ماں نظر آرہی ہے جو اپنے دولہا بنے بیٹے سے مخاطب ہے میرے قاسم میرے شہزادے تم ہو بہو اپنے بابا جناب حسن علیہ اسلام کی شبہیہ ہو اور تمھارے بابا نے اپنے بھائی جناب حسین علیہ اسلام سے وعدہ کیا تھا کہ جب کبھی تم پر کڑا وقت آئے گا اور دشمن تمھاری جان کے درپے ہونگے تب اگر میں نا بھی ہوا تو میرے بیٹے تمھاری حفاظت کریں گے چایئے انہیں اپنی جان بھی قربان کرنی پڑے، تمھاری ابھی ابھی شادی ہوئی ہے تمھارے دولہا کے ارمان بھی ابھی پورے نہیں ہوئے لیکن میں اس وقت خوش ہونگی جب تم اپنے چچا جناب حسین علیہ اسلام کی حفاظت میں لڑتے ہوئے تیروں کو اپنے جسم پر لباس کی طرح اور تلواروں کے زخموں کو پھولوں کے ہار کی طرح بدن پر سجاو گے،تمھارے بابا نے اپنے وعدے کی تکمیل کے لئے ایک وصیت لکھ کر تعویز بنا کر تمھارے بازو سے باندھ دیا تھا جناب سیدہ فرواہ شھہزادہ قاسم کو جناب حسین کے سامنے لیکر جاتی ہیں اور وہ تعویز انہیں دیکر جناب قاسم کو میدان جنگ میں بھیجنے کی اجازت طلب کرتی ہیں، جناب حسین علیہ اسلام شھہزادہ قاسم کا منہہ چوم کر فرماتے ہیں تم میرے بھائی جناب حسن علیہ اسلام کی نشانی ہو اور انکی شبیہ ہو تمہیں دیکھ کر مجھے اپنا بھائی یاد آتا ہے میں تمھیں کیسے مرنے کیلئے بھیج دوں جناب سیدہ فرواہ جناب حسن علیہ اسلام کی وصیت دیکھا کر بار بار درخواست کرتی ہیں( مائیں تو ہلکہ سا سرد و گرم دیکھ کر اپنی اولاد کو اس سے بچا بچا کر رکھتی ہیں، یہ کیسی ماں ہے جو کئی سال پرانی وصیت اور وعدے کی تکمیل کیلئے اپنے جوان بیٹے کو یقینی موت کے منہہ میں بھیج رہی ہے)۔ وہ شہزادہ اس بہادری اور دلیری سے لڑا کہ یزید کی فوج پریشان و خوفزدہ ہوگئی اور پھر انھوں نے ملکر چاروں طرف سےانتہائی خطرناک حملہ کیا کہ شھہزادہ قاسم کے جسم کے ٹکڑے میدان میں جگہ جگہ بکھر گئے،جب حسین علیہ اسلام اس شہید کا جسد اٹھا نے گئے تو اپنی چادر میں لائے اور خیموں میں آکر فرمایا کہ باقی شہیدوں کے لاشے اٹھائے ہیں لیکن شھہزادہ قاسم کا لاشہ اٹھایا نہیں بلکہ میدان سے چنا ہے،
وہیں ایک خیمہ میں کیا منظر ہے کہ ایک نہایت پروقار اور مدبر خاتون جو کہ جناب زینب علیہا اسلام ہیں ایک نوجوان جس کے چہرے پر نقاب ہے اسکا نقاب ہٹا کر اس سے مخاطب ہیں کہ میرے لاڈلے ویسے تو تم میرے بھائی کی اولاد ہو لیکن میں نے تمہیں اپنے بیٹوں سے بڑھ کر پیار کیا اور انتہائی محبت سے پالا ھے،آج میں تمھیں اپنے بھائی حسین علیہ اسلام سے کیے وعدے کی تکمیل میں انہیں واپس سونپتی ہوں بے شک تم ہو بہو شبیہ رسول ہو اور تمہیں دیکھ کر اپنے نانا جناب محمد رسول اللہ کی یاد آتی ہے آج تم نے اپنے والد کی تائید کرتے ہوئے اور ان کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان بھی قربان کرنی پڑے تو پیچھے نہیں ہٹنا۔ تب چشم فلک نے کیا نظارہ دیکھا کہ یہ حسین و خوش شکل جوان اپنی پالنے والی ماں سے اپنی جان قربان کرنے کا اقرار کرکے ایک اور خیمے میں اپنی والدہ جناب سیدہ لیلی کے پاس جاتا ہے وہ اپنے بیٹے کے چہرے کو بوسہ دیکر کہتی ہیں او میرے دل کے باغ کے سب سے حسین و جمیل پھول تم شبیہ مصطفے ہو تم علی کے پوتے ہو آج بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جان اپنے بابا شہزادہ مصطفے پر قربان کر دینا۔
ایک اور خیمہ میں جناب زینب سلامہ علیہا اپنے دو کم سن بیٹوں عون اور محمد کو تیار کر رہی ہیں اور فرما رہی ہیں کہ تمہارے دادا جناب جعفر نہایت جری و بہادر تھے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے ایک جنگ میں وہ شدید زخمی ہوگئے اور انکے دونوں بازو بھی کٹ گئے لیکن وہ پھر بھی پیچھے نہ ہٹے اور اپنی جان قربان کر دی تمہارے نانا علی جیسا بہادر اس فلک نے نہیں دیکھا تم دونوں نے اپنے اجداد کی طرح بہادری اور وفاداری دیکھانی ہے کہ تمھارے دادا اور نانا کو تم پر ناز ہو۔
جناب مسلم بن اسوجہ جب شہید ہوگئے تو امام عالی مقام اور جناب حبیب ابن مظاہر انکے لاشے کو اٹھا کر خیموں میں لا رہے تھے تو خیموں سے ایک تیرہ چودہ سال کا کم سن جوان نکلا اور میدان کی طرف بڑھا جناب حسین علیہ اسلام نے اسے روکا اور پوچھا بیٹا تم کس کے صاحبزادے ہو اس کمسن جوان نے کہا میں ام خلف اور مسلم بن اسوجہ کا بیٹا خلف ہوں،امام عالی مقام نے مسلم بن اسوجہ کے لاشہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ تمھارے والد شہید ہوگئے ہیں تم اپنی والدہ کے پاس خیمے میں واپس جاو انہیں تمھاری ضرورت ہوگی، اس بچے نے کہا امام عالی مقام آپ میری تیاری نہیں دیکھ رہے میرے والد کی شہادت کے فورا بعد میری والدہ جناب ام خلف نے اپنے ہاتھوں سے مجھے تیار کیا اور لڑنے کیلئے بھجا ہے اور وہ بہادر ماں اور شجاع باپ کا فرزند بھی امام پر قربان ہوگیا۔
اب ہمیں کربلا سے دور مدینہ میں ایک ماں نظر آرہی ہے جو علی علیہ اسلام کی زوجہ ہیں نام بھی فاطمہ ہے لیکن شہزادی کونین فاطمہ زہرہ کے احترام میں خود کو فاطمہ کہلانے سے منع کیا ہوا ہے اور لوگ ان کے چار بیٹوں کی وجہ سے انہیں ام البنین کہہ کر پکارتے ہیں وہ بیماری کی وجہ سے ساتھ نہیں جا سکی اور مدینہ میں ہی رکی ہوئی تھیں، کئی مہینوں کے بعد اہلبیت کا لٹا پٹا قافلہ جب مدینہ پہنچا اور خبر مدینہ میں پھیلی کہ قافلے کے تقریبا تمام مرد شہید ہوگئے ہیں ایک خبر دینے والے نے بتایا کہ آپ کا بیٹا عثمان بھی شہید ہوگیا ہے آپ نے اس سے کہا کہ مجھے حسین علیہ سلام کی خبر دو، اتنے میں ایک اور شخص آیا اور بتایا کہ آپ کے دونوں صاحبزادے عبداللہ اور جعفر بھی شیہد ہوگئے ہیں لیکن وہ تب بھی اسے کہتی ہیں مجھے حسین علیہ سلام کی خبر دو تب ایک اور خبر دینے والا آتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کا بیٹا عباس علیہ اسلام بھی شہید ہوگیا آپ تب بھی فرماتی ہیں مجھےحسین علیہ سلام کی خبر دو انھیں بتایا جاتا ہے کہ وہ بھی شہید ہوگئے ام البنین کی چیخ نکل جاتی ہے اور آہ و بکا کرتے ہوئے پوچھتی ہیں کہ میرے بیٹے کب شہید ہوئے حسین علیہ اسلام سے پہلے یا بعد میں، بتانے والے کہتے ہیں کہ سب کے سب حسین علیہ اسلام سے پہلے شہید ہوئے آپ فورا سجدے میں گر جاتی ہیں اورروتے ہوئے شکر ادا کرتی ہیں کہ میرے بہادر بیٹوں نے مجھ سے کیا وعدہ پورا کیا اور میری لاج رکھ لی کہ امام عالی مقام کی جان کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان بھی قربان کرنی پڑی تو پیچھے نہیں ہٹھیں گے۔
کربلا میں جب غازی عباس کنارہ فرات پر شہید ہوگئے اور انکی شہادت کی خبر امام عالی مقام کو ملی تو آپ علیہ اسلام سب سے پہلے جناب زینب کے خیمے میں گئے اور روتے ہوئے بھائی کی شہادت کی خبر دی تو جناب زینب کی چیخ نکل گئی اور آہ و بکا کرتے ہوئے آپ نے وہ جملہ کہا جو تمام مومنین کے قلب میں نیزے کی طرخ تا قیامت چبتا رہے گا،آپ نے فرمایا کہ میرے بابا علی المرتضی نے سچ کہا تھا آپ علیہ اسلام نے میرے بازوں چوم کر کہا تھا کہ بیٹی تیرے بازو رسیوں سے باندھے جائیں گے اور میں سوچتی تھی کہ کس میں ہمت ہے کہ میرے عباس کے ہوتے ہوئے میری طرف ہاتھ بھی بڑھائے اور میرے بازووں کو رسیوں سے جکڑ سکے اب مجھے یقین ہوگیا کہ میرے بازو رسیوں میں جکڑے جائیں گے اور دشمنوں کے ہاتھ کاٹنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
ہمارا سلام عقیدت ہے ان باحوصلہ ،بہادر اور غیرت مند ماوں، بہنوں اور بیٹیوں کو جنہوں نے اپنے شہزادوں جیسے لعل سرکار نبی پاک کےاصل دین کو سلامت و قائم رکھنے کیلئے جرات و استقامت سے قربان ہونے کیلئے پیش کیے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com