آزادانہ تجارت کے معاہدے سے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ ملے گا، انڈونیشیا کے سفیر ایڈم ملوارمان

اسلام آباد (ثاقب ابراہیم غوری سے):پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر ایڈم ملوارمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے سے دونوں ملکوں کے مابین تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ ملے گا، ۔

”ایوتھ ویژن” سے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ترجیحی تجارت کا معاہدہ پہلے سے موجود ہے جس نے دوطرفہ تجارت میں اضافہ کے امکانات پیدا کئے ہیں،

اس معاہدہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا ہے بالخصوص صنعت اور زراعت کے شعبہ میں دوطرفہ تجارت بڑھی ہے۔ انڈونیشیا کے سفیر نے کہا کہ ان کے ملک نے حالیہ دنوں میں ترجیحی تجارت کے معاہدے پر نظرثانی کے دوران پاکستان کی 20 تجارتی اشیائ کیلئے ٹیرف کی شرح کم کی ہے،

آسیان ٹریڈ ان گڈز ایگریمنٹ کے تحت انڈونیشیا نے پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات میں فروغ پر بات چیت بھی کی ہے، ہمیں امید ہے کہ آسیان ٹریڈ ان گڈز ایگریمنٹ کو اگلے سال تک حتمی شکل دیدی جائے گی، اس معاہدہ کیلئے 1993 سے کوششیں کی جا رہی ہیں،

یہ معاہدہ آسیان پلس ون ایف ٹی اے اور علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری (آر سی ای پی) کی امنگوں کا آئینہ دار ہے۔ انڈونیشیا کے سفیر نے کہا کہ آسیان ایک مضبوط تجارتی بلاک ہے، مستقبل میں یہ بلاک اقوام عالم کے ساتھ تجارتی و اقتصادی تعلقات قائم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات قائم ہیں، پاکستان اور آسیان ممالک کی مشترکہ منڈی 87 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے تاہم ان کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم محض 7.5 ارب ڈالر ہے،

پاکستان آسیان کی 3 ٹریلین تجارتی مارکیٹ سے بھرپور طریقہ سے استفادہ کر سکتا ہے اس مقصد کیلئے مستقبل میں پاکستان کو منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ انڈونیشیا کے سفیر نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیہ اہمیت کا حامل ہے جس کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط کو فروغ دیا جا سکتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ مغربی چین کے ساتھ گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے بھی روابط استوار کئے جا سکتے ہیں،

یہ بندرگاہ اہمیت کی حامل ہے، آسیان ممالک نے چین، جاپان اور کوریا کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے کئے ہیں، یہ ممالک چین کے ساتھ سالانہ 600 ارب ڈالر، جاپان کے ساتھ 200 ارب ڈالر، جنوبی کوریا کے ساتھ 150 ارب ڈالر اور امریکہ کے ساتھ 300 ارب ڈالر کی تجارت کر رہے ہیں، اس طرح دوطرفہ تجارت کا حجم 1.25 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔

آسیان ممالک اور پاکستان ایک دوسرے کے ایف ٹی اے شراکت داروں اور جی ایس پی پلس ون کے پارٹنرز سے تھرڈ پارٹی کی حیثیت سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں، اس سے دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ حاصل ہو گا۔

انڈونیشیا کے سفیر نے کہا کہ گوادر کی بندرگاہ مستقبل میں اہمیت کی حامل ہو گی اور اس کے ذریعے خطہ اور دنیا سے تجارتی اور اقتصادی رابطے استوار ہوں گے، پاکستان مستقبل میں دنیا کا تجارتی مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، انڈونیشیا پاکستان کا اہم تجارتی شراکت دار ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور اقتصادی تعلقات قائم ہیں۔

آسیان ممالک میں دنیا بھر کی مسلمان آبادی کا 45 فیصد آباد ہے، اسی طرح بدھ مت کی ایک بہت بڑی آبادی بھی موجود ہے، بدھ مت کے بہت سارے آثار قدیمہ ٹیکسلا اور سوات میں موجود ہیں، ان آثار سے پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان ثقافتی اور مذہبی تعلقات کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، انڈونیشیا نے کراچی میں پام آئل کے شعبہ میں سرمایہ کاری کی ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بڑھیں گے، مستقبل قریب میں فیصل آباد میں بھی انڈونیشیا کی سرمایہ کاری ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا پہلا ملک ہے جس نے عالمی بینک کی تجارتی آسانیوں کی فہرست پر عملدرآمد کیا، انڈونیشیا میں اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا گیا ہے جس سے وفاق مضبوط ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تعلیم کے شعبہ میں بھی تعاون کر رہے ہیں، انڈونیشیا نے اپنے 11 فیصد وظائف پاکستانی طلبائ کو دیئے ہیں، اس سال 60 پاکستانی طلبائ حصول تعلیم کیلئے انڈونیشیا گئے ہیں، دونوں ممالک نے ثقافت کے شعبہ میں بھی تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں، اس ضمن میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com