بہاولپور ڈویژن میں خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی قومی مہم

تحریر : عروسہ فاروقی

وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی قومی مہم کا آغاز کردیاگیا ہے۔اس دوران 9 ماہ کی عمر سے 15 سال تک کی عمر کے 9کروڑ سے زائد بچوں کو خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے،بچوں کو لگائے جارہے ہیں۔ ا س مہم کا باقاعدہ آغاز ملک بھر میں 15 نومبر سے ہو چکا ہے اور جو کہ 27نومبر تک جاری رہے گا۔ قومی مہم میں خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکہ جات کے ساتھ ساتھ پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے بھی پلائے جائیں گے۔دو ہفتوں تک جاری رہنے والی اس قومی مہم میں محکمہ صحت کے 386000 اہلکار حصہ لے رہے ہیں، جن میں 76 ہزار ویکسینیٹرز، اور ایک لاکھ 43 ہزار سوشل موبلائزر شامل ہیں۔یہ قومی مہم نجی اور سرکاری مراکزِ صحت، عارضی ویکسینیشن سنٹرز اور تعلیمی اداروں میں کی جا رہی ہے۔اس مہم کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس مہم میں رکھے گئے ہدف میں آدھے بچے اسکولوں کے طلبہ و طالبات ہیں۔
خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی قومی مہم صوبہ پنجاب کے دیگر حصوں کی طرح بہاول پور ڈویژن میں بھی شروع ہو چکی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر محکمہ صحت کے افسران و پیرا میڈیکل سٹاف اور دیگر محکموں کا عملہ متحرک انداز میں خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ اس مہم کے دوران بہاول پور ڈویژن کی 348یونین کونسلوں میں 9ماہ سے 15سال تک کی عمر کے 48لاکھ 70ہزار سے زائد بچوں کو میزل اور روبیلا سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔ اس مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ڈویژن بھر میں 445فکسڈ ٹیمیں اور 3079آؤٹ ریچ ٹیمیں فیلڈ میں فعال ہیں۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس مہم کے دوران ڈویژن بھر میں پانچ سال تک کی عمر کے 20لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے تاکہ معصوم بچے ان مہلک بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکہ جات مہم کے دوران محکمہ ِصحت کے افسران اور ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹرز مفکر اس مہم کی نگرانی کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ محکمہ صحت، ڈبلیو ایچ او اور یونیسف کے اشتراک سے خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی قومی مہم کو کامیاب بنانے کے لئے 3524ماہر افراد کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں اور 6603سوشل موبلائزرز فیلڈ میں جا کر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح 348یونین کونسل مانیٹرنگ آفیسرز اور 445ویسٹ مینجمنٹ کے فوکل پرسنز بھی خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کی قومی مہم میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔
دنیا کوآج بھی خسرہ اور روبیلا کے متعدی امراض کا سامنا ہے۔حالیہ برسوں میں پاکستان میں ان بیماریوں کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا جس سے ہزاروں بچے متاثر ہوئے۔ خسرہ اور روبیلا جیسی بیماریاں وائرس سے پیدا ہوتی ہیں اور متاثرہ افراد کی ناک یا گلے کی رطوبت سے براہ راست رابطے سے، بذریعہ ہوا پھیلتا ہے، کبھی کبھار ناک اور گلے کی رطوبت سے بھرے اجزاء کے ذریعہ بھی پھیلتا ہے۔ ابتدا ء میں خسرہ متاثرہ افراد کے اندر تھکاوٹ، بخار، کھانسی، زکام، سرخ آنکھیں اور منہ کے اندر سفید دھبوں کے اثرات رونما ہوتے ہیں۔ اس کے بعد 3 سے 7 دن بعد جلد پر سرخ دھبے نکلنے لگتے ہیں جبکہ سنگین صورتِ حال میں پھیپھڑے، آ نت اور دماغ بھی متا ثر ہوسکتے ہیں اورحتیٰ کہ موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
روبیلا، جسے ”جرمن خسرہ“ بھی کہا جاتا ہے، یہ روبیلا وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ مریضوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کی وجہ سے متاثرہ افراد کی ناک اور گلے کی رطوبت سے رابطے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ عام طور پر بچوں میں بخار، سر درد، متلی، بے چینی، منتشر ددورے، آشوبِ چشم اور سب سے خاص جسم پر گلابی یا ہلکے لال دھبوں کا نمودار ہونا جیسی علامات شامل ہیں۔جبکہ اس کی پیچیدگیوں میں گٹھیا، خون میں پلیٹلیٹ کی کمی اور دماغ کی ورم وغیرہ شامل ہیں۔روبیلا انفیکشن کے ساتھ ہوتا ہے۔
خسرہ اور روبیلا متعدی بیماریاں ہیں جوبچوں کے لئے شدید پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہیں یہاں تک کہ موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ عالمی ادارہِ صحت (WHO)،پاکستانی حکومت کے ساتھ مشترکہ کوششیں کررہا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ہر بچے تک ویکسین کی رسائی ممکن ہوسکے۔ان تکالیف سے بچاؤ کے لئے حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ بچوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لئے حکومتِ پاکستان کے اس اہم اقدام سے تمام بچوں کو فائدہ ہوگا۔خسرہ ور روبیلا کی اس قومی مہم سے ان موذی بیماریوں کونا صرف قابو میں رکھا جاسکے گا بلکہ ملک بھر میں ان بیماریوں سے ہونے والی بچوں کی ہلاکتوں کی شرح بھی کمی واقع ہوگی۔صحت کے بنیادی سہولیات تک رسائی ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ خسرہ اور وبیلاسے بچاؤ کی قومی مہم کے دوران صحت کے کارکنان لگن کے ساتھ کام کریں اور والدین بھی اپنے بچوں کوخسرہ روبیلا کا حفاظتی ٹیکہ جات لگوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com