13جولائی 1931 جموں کشمیر کی تحریک آزادی کا نقطہ آغاز ہے،

تحریر نعیم اشرف

13 جولائی 1931 جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کا نقطہ آغاز ہے یہ وہ دن ہے جب خطہ کشمیر کی جدوجہد آزادی ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کر گئی اور آج مقبوضہ جموں و کشمیر کے مجاہدین اور غازی اپنے مقدس لہو سے اس خونی تاریخ کا ایک اور باب رقم کر رہے ہیں. 13 جولائی 1931مسلمانان جموں و کشمیر کی تاریخ میں وہ دن ہے جب وہ ظلم، جبر، نا انصافی اور ظالمانہ شخصی نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور بائیس انسانی جانوں کی قربانی پیش کر کے اس تحریک کی بنیاد رکھی جو بعد میں 1947 میں جموں و کشمیر کے ایک حصے کی آزادی پر منتج ہوئی۔ جو آج بھی جموں و کشمیر کے مقبوضہ حصے کی آزادی کے لیے جاری ہے۔ 13 جولائی 1931 کا واقعہ ظلم و ناانصافی کے خلاف پہلا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس سے پہلے بھی کشمیری انیسویں صدی میں ڈوگرہ خاندان کے ظالمانہ حکمرانی کے خلاف مزاحمت کرتے رہے ہیں، سردار شمس خان کی قیادت میں مہاراجہ گلاب سنگھ کی حکومت کے خلاف 1832 میں ہونے والی بغاوت اور اس بغاوت کے قائدین سبز علی خان اور ملی خان اور ان کے ساتھیوں کے سر قلم کرکے ان کے جسموں سے زندہ کھالیں اتارنے کے بعد ان کی لاشیں جس درخت کے ساتھ لٹکائی گئی تھیں وہ درخت آج بھی منگ آزاد کشمیر میں موجود ہے سرینگر سینٹرل جیل کے سامنے پیش آنے والا سانحہ محض حادثہ نہیں تھا بلکہ اس واقعہ سے مہاراجہ ہری سنگھ کی سخت گیر ظالمانہ حکومت کے خلاف مسلمانوں کے دل و دماغ میں ایک لاوا پک چکا تھا کیونکہ وہ طاقت کے زور پر اکثریتی مسلمانوں پر ان کی مرضی کے خلاف حکمرانی کر رہا تھا مہاراجہ کی حکومت میں اجرت کے بغیر مسلمانوں سے جبری مشقت کا عام رواج تھا ناانصافی اور ظلم و ستم کا بول بالا تھا اور مہاراجہ کی حکومت کے کارندے منظم طریقے سے مسلمانوں کی مقدس علامتوں کی بے حرمتی کرکے انکے جذبات کو مجروح کرنا اپنا حق سمجھتے تھے۔ 13 جولائی کے واقعہ سے قبل قرآن پاک کے تقدس کو پامال کیا گیا تھا اور مساجد کے آئمہ کو خطبات عید اور خطبات جمعہ پڑھنے سے روک دیا گیا تھا اور یوں مسلمانوں کے اندر حکومت کے خلاف بغاوت کے جذبات پوری طرح موجزن تھےاس پس منظر میں عبد القدیر نامی نوجوان نے کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہاراجہ کے محل کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ ظلم و جبر کی اس علامت کو مٹا دو عبدالقدیر کی اس جرات پر اسے گرفتار کر لیا گیا اور اس پر بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا جس کی کارروائی سننے کے لیے چار سے پانچ ہزار مسلمان سینٹرل جیل سرینگر پہنچ گئے۔جن میں سے صرف دو سو سرینگر سنٹرل جیل کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے جہاں عبدالقدیر کے خلاف مقدمہ کی سماعت ہو رہی تھی مقدمہ کی سماعت کے دوران جب نماز ظہر کا وقت ہوا تو ایک مسلمان نوجوان نے کھڑے ہو کر آزان کیلئے اللہ اکبر کی صدا بلند کی تو ڈوگرہ فوج نے اسے گولی مار کر شہید کر دیا اس طرح آزان مکمل کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے بائیس مسلمان کھڑے ہوئے جنہیں شہید کیا گیا۔اسی دوران پولیس کے ایک ریٹائرڈ سپاہیبجسکا نام غلام محمد حلوائی تھا اس نے ایک پولیس سارجنٹ سے اس کی بندوق چھین لی لیکن اس سے بیشتر کہ وہ بندوق چلاتا ایک پولیس کانسٹیبل نے اسے شہید کر دیا۔ پولیس پندرہ منٹ تک نہتے مسلمانوں پر فائرنگ کرتی رہی۔ اس طرح بائیس مسلمان شہید ہو گئے۔ اتنی شہاوتوں اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کو دیکھ کر مسلمان بپھر گئےاور انہوں نے جیل پر حملہ کر دیا اور جیل کی پولیس لائنز کو آگ لگا دی سری نگر شہر میں بھی کچھ ہندوؤں کی دکانوں کو آگ لگا دی گئی تھی، اس واقعے کے بعد ساری ریاست ہل کر رہ گئی سارے شہروں میں مسلمانوں کی شہادت پر ہنگامے پھوٹ پڑے۔ ایک ہفتہ تک ان شہیدوں کا ماتم جاری رہا۔ 13 سے 26 جولائی تک سری نگر، راولپنڈی اور جموں کے درمیان پبلک ٹرانسپورٹ بند رہی۔اس واقعہ کے بعد اولین مسئلہ شہدا کی تجہیز و تکفین کا تھا۔ حکومت نماز جنازہ یا کسی جلوس کی اجازت نہیں دینا چاہتی تھی۔ ایسے میں خواجہ نور محمد نقشبندی کو یہ خیال آیا کہ ان شہیدوں کو ایک جگہ ایک ساتھ دفنانا چاہیے۔ تاکہ ان کی مقدس یادگار قوم کی امنگیں جگاتی رہے۔ اس طرح ان شہیدوں کو خانقاہ معلی کے صحن میں ابدی نیند سلایا گیا۔ گورنمنٹ کی طرف سے قائم کمیشن کی سرکاری رپورٹ کے مطابق اس دن پولیس نے 180 راؤنڈز فائر کیے۔ 70 لوگ موقع پرجاں بحق ہوئے اور 40 شدید زخمی ہوئے جن میں پانچ لوگ ہسپتال میں جا کردم توڑ گئے۔ کشمیری ہر سال 13 جولائی کہ خانقاہ معلی میں واقع مزار شہدا ء پر آنے والے برادران وطن کی آہوں سے معطر اور اشکوں سے منور ہو جاتا ہے۔ جب تک کشمیریوں کے دل میں قومی غیرت کا چراغ روشن ہے، یہ یادگار شاداب اور بارونق رہے گی. اور تحریک آزادی کشمیر کے شہداء کو ہمشہ یاد رکھا جائے گا.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com