دانستہ ہم نے تجھے ستمگر بنا دیا

تحریر سعدیہ ہما
شیخ

,دعا،دعا،دعا
اخبارات ٹی وی چینلز سوشل میڈیا ایک ہی نام کا راگ الاپ رہا ہے بچی کو ایک سیلبریٹی
بنا دیا ہے ریٹنگ کے چکر میں اس کے منفی اور

مثبت اثرات دوسرے بچوں پر پڑیں گئے میں نے لفظ مثبت بھی استمال کیا کیونکہ ہر کوئ دعا کو برا،والدین کا نافرمان اور باغی ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے اس قصے کا دوسرا پہلا کوئ نہیں دیکھ رہا
ایک چودہ سال کی بچی جو بالغ با شعور اور مکمل طور پر اپنے ہوش و حواس میں ہے اس کے ساتھ ایسا کیا ہوا کہ وہ والدین کی دھائی۔ اور آنسو تو دور کی بات ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کر رہی میں خود بچیوں والی ہوں اور میں قسم کھا سکتی ہوں کہ دعا کوئ آوارہ یا دل پھینک لڑکی نہیں تھی وہ ایک معصوم شریف اور ہر ستم سہنے والی بچی تھی پھر ایسا کیا ہوا کہ وہ اس حد تک پہنچ گئ
اس کی سب سے بڑی وجہ وہ قید ہے وہ تنہائ کی بیڑیاں ہیں وہ ہر وقت شک و شبے کی ہتھکڑیاں ہیں جو اس کے باپ نے پہنا رکھیں تھیں اس کی فطری آزادی بھی سلب تھی اسے گھر سے قدم نکالنے کی اجازت نہ تھی اسے موبائل فون کی اجازت نہیں تھی اسے دوست بنانے کی بھی اجازت نہ تھی اسے پڑھنے کی بھی اجازت نہ تھی یہاں تک کہ وہ دروازے سے باہر کبھی سانس لینے کے لئے جھانک بھی لیتی تو والد اس کی بھرپور تواضع کرتا وہ باپ جو آج لاچار معصوم اور لوگوں کی ہمدردیاں بٹور رہا ہے کیا یہ سچ ہے وہ بیٹی کی محبت میں ٹسوے بہا رہا ہے ہر گز نہیں پس پردہ معاملہ کچھ اور ہے اور دعا ابھی بھی اپنے گھر کا پردہ رکھ کر انہیں رسوائ سے بچا رہی ہے
وہ قفس میں قید بے بس پنچھی تھی جسے پب جی کی صورت میں آزادی کا پروانہ
ملا اور اک ،ر

زرا سی روشنی نظر آنے پر اس نے توکل کرتے ہوئے اس سمت دوڑ لگا دی کیا اسیری ہے اور کیا رہائ یہ وہی جانتا ہے جو قفس میں قید ہو
دعا کی ماں فرسٹریشن اور ڈپریشن کا شکار تھی کیون؟
دعا سارا گھر سنبھالتی تھی جسے والدین نابالغ کہ رہے ہیں وہ چھوٹے بہن بھائیوں کی دوسری ماں تھی
دعا کا والد ایک سخت گیر
شکی اور بے حس انسان تھا جس نے بچی کو باپ کا پیار تک نہ دیا
کوئ بھی بچی اپنی زندگی داؤ پر نہیں لگاتی ہمارے معاشرے کی عکاسی ٹی وی چینلز نے کر دی ہے کہ کس طرح عورت کو گھر بسانے کے لئے جبر کی چکی میں پسنا پڑتا ہے تو پھر کیا یہ سچ نہیں دعا والدین کے گھر جس جبر کی چکی میں پس رہی تھی اس کے مقابلے میں ظہیر کی دکھائ دنیا اسے کسی جنت سے کم نہیں لگ رہی
اور سب سے خطرناک پہلو جس امر کی طرف میں رخ کرنے لگی ہوں دعا کی ماں کا ڈپریشن میں رہنا،دعا کو کسی سے ملنے جلنے نہ دینا اس مملکت پاک میں جو ناپاک کام ہو رہے ہیں تو ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ دعا کا والد اس کا جنسی استحصال کرتا ہوں کیونکہ ایک بیٹی ہر ستم سہ لیتی ہے بہت سی بچیا ں والدین کی توجہ اور محبت سے محروم ہیں ۔
مگر وہ دنیا کے بھیڑیوں سے بچنے کے لئے گھر کو ہی جائے امان سمجھتی
ہیں تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دعا کا والد وہ بھیڑیا ،درندہ ہو جو حلال حرام کی تمیز بھول چکا ہو اور اس وحشی کے آگے دعا کی ماں بھی مجبور ہو اور ایک قفس
میں بند لڑکی دوسرے صوبے میں کیسے کسی کی
مدد کے بغیر پہنچ سکتی تو اس ظلم سے بچانے کے لئے دعا کی والدہ نے اس کی بھرپور مدد کی ہو کیونکہ ماں ہی بیٹی کے درد کو جان سکتی ہے اور یہ کوئ انہونی نہیں یہاں کئ باپوں نے بیٹیوں کو پامال کیا ہے یہی وجہ ہے ورنہ اتنی نفرت اور بیگانگی ایک بیٹی کیسے

کر سکتی بیٹے والدین کو اذیت دے سکتے ہیں ۔مگر بیٹی تو والدین کے درد چن لیتی ہے اذیت ۔نہیں دے
سکتی سیالکوٹ
ی۔ ایس ہی ظلم ایک باپ کر چکا اور جب بچی حاملہ ہوئ تو ہر طرف شور مچ گیا اور لوگوں نے بچی کو ہی برا بھلا کہا کہ وہ کیوں خاموش رہی کسی کو بتایا کیوں نہیں اس بچی کی ماں مر چکی تھی یونہی دعا کی طرح اس پر بھی پابندیاں تھیں
اور یہ
میری مکمل تحقیق کے بعد سو فیصد سچ ہے کہ دعا پر بہت پابندیاں تھیں وہ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل نہیں سکتی تھی اسے گھر سے باہر نکلنے کی بھی اجازت نہ تھی اس کا چھت پر جانا بھی عزاب بن جاتا تھا اسے باپ کی مار کھانا پڑتی تھی وہ مسلسل جبر اذیت اور قید
۔ی۔

میں رہنے والی معصوم بچی اب ازاد ہو گئ وہ نہیں جانتی ظہیر اور اس کے گھر والے کب تک اسے یونہی رکھیں گئے
مگر جس اذیت سے وہ رہا ہوئ ہے اس کی ۔نشاندہی
اس کا چہرہ کرتا ہے کم از کم
وہ اس جبر سے نہیں گزرے گی جو باپ کے گھر میں تھا جب رہبر ہی رہزن بن جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے
میری دعا ہے اللہ اس ۔
معصوم کی جھولی اب خوشیوں سے بھر دے
اور آخر میں یہ بھی نشاندہی کر دوں کہ ہا ہمارے معاشرے میں گھر سے بھاگی ہوئی بچیوں کو سینے سے کوئ نہیں لگاتا بلکہ گھر کے صحن ان کی قبر بنا دئے
جاتے ہیں پھر اتنی ذلت اور رسوائ کے بعد دعا کا باپ کیوں اتاولا ہوا جا رہا ہے وہ کیوں پچھاڑے مار رہا ہے یقیناً دال میں کچھ کال نہیں کہ پوری دال ہی کالی ہے زرا نہیں زیادہ سوچئے ایک بچی جس نے باہر کی دنیا نہیں دیکھی جس کا کسی سے کوئ رابطہ نہیں جو فون استعمال نہیں کرتی وہ کیسے اتنا بڑا کام کر جاتی ہے دعا بیٹا دنیا جو بھی کہے تاریخ ہر سچ اگلوا لے گی میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں اللہ تمہیں اپنی امان میں رکھے کیونکہ میرا دل کہتا ہے تم ستمگر نہیں تھی تمہارے والد نے اور اس کے پیدا کردہ حالات نے تمہیں
ستمگر بنا دیا ہے

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com