پرامن پاکستان ہی خوشحال پاکستان کی علامت ہے،زین بلوچ

بہاولپور ( محمد ناصر )ممتاز سماجی ادارہ سگنیفائی کے زیر اہتمام ڈسٹرکٹ پیس سیمینار ”پرامن پاکستان خوشحال پاکستان” کا انعقادشاہی محل میں ہوا۔ جس میں سیاسی، سماجی، مذہبی، رہنماؤں سفیران امن، ماہرین تعلیم مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد مختلف سماجی منصوبہ جات سے وابستہ افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز سماجی رہنما ہیڈ آف سٹریٹجی ادارہ سگنیفائی زین بلوچ نے کہا ہے کہ پرامن پاکستان ہی خوشحال پاکستان کی علامت ہے۔ قیام امن سے معاشرتی استحکام یقینی ہوسکتا ہے۔ ملک میں قیام امن کیلئے سماجی اداروں کا کردار موثر اور اہمیت کا حامل ہے قیام امن ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ہم نے احترام آدمیت کو فروغ دینا ہے سب کے سب پاکستانی شہریوں کو سماجی حقوق کے اعتبار سے برابر تسلیم کرنا سب کی یکساں توقیر کرنا معاشرے کیلئے ہواکا ایک خوشگوار جھونکا ثابت ہوگا، تنازعات کی روک تھام اور انکے حل میں خواتین کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا آئندہ انتخابات میں تربیت یافتہ خواتین کو بلدیاتی سطح سے لیکر صوبائی اور قومی سطح پر الیکشن میں براہ راست حصہ لینا چاہئے۔، مس کومل خالدنے اپنے خطاب میں کہا کہ تعصب نے ہمیشہ معاشرتی ماحول کو پراگندہ کیا ہے اسلیئے تعصبات کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے رواداری سماجی ہم آہنگی برداشت قبولیت اور مثبت رویوں کو پروان چڑھا کر ہم نہ صرف پاکستان کو مستحکم کرسکتے ہیں بلکہ ہماری معاشرتی فضاتب جنت نظیر بن سکتی ہے جب ہر کسی کو بلا امتیاز وبلاتفریق مذہب مسلک ذات زبان کا احترام کیا جائے۔ سماجی تنظیموں اور اداروں کی مختلف کمیٹیاں تشکیل دے کر صوبائی قومی سطح پر فروغ امن کیلئے تمام اداروں کو مل کر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سماجی رہنما عظمی احمد، سماجی رہنما رانا عامر نے کہا کہ بڑھتے ہوئے منفی رویئے عدم برداشت معاشرے کیلئے مہلک ہیں جن سے معاشرے بدامنی کی طرف جاتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ مثبت رویوں کو فروغ دے کر ہم سماج میں ایک دوسرے کو مستحکم کریں تاکہ صورتحال بہتر ہو جس کا حتمی نتیجہ ملکی استحکام ہے، ضلعی سطح پر قائم امن کمیٹیوں کو مزید فعال کرنے کی ضرورت ہے اور ان کمیٹیوں میں بھی خواتین کی نمائندگی لازمی ہونی چاہئے۔ کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امن کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے،تشدد سے پاک معاشرہ، احترام انسانیت یقینی بنانا ہم سب کی عملی طور پر اخلاقی و قانونی ذمہ داری ہے تاکہ ہم عالمگیر پیغام محبت، امن،اتحاد،رواداری کو فروغ دیں۔ لوکل گورنمنٹ کی ہر سطح پرامن اور رواداری کے قیام کیلئے بھی باقاعدہ فنڈز مختص کیئے جانے چاہییں تاکہ ایک منظم انداز میں فروغ امن کا عظیم کام کیا جاسکے۔ مس سعدیہ طالب،میڈم زاہدہ سراج، پاسٹر ڈیوڈ کا کہنا تھا قیام امن کیلئے آپس میں اخوت و برداشت کا رشتہ پیدا کیا جائے امن کی روشنی ایک ضوفشاں روشنی ہے امن کی روشنی سے نہ صرف پاکستان میں بلکہ عالمی برادری میں امن کو فروغ دیا جاسکتا ہے اسی طرح بانی پاکستان قائد اعظم کی 11اگست کی تقریر کے تناظر میں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ 11 اگست کو اقلیتوں کے دن کو امن ورواداری کے قومی دن کے طور منایا جائے۔ پاسٹر ڈیوڈ، پنڈت ہریش نے کہا کہ ملک میں فروغ امن کی تمام تر کاوشیں قابل تحسین ہیں تاہم سماجی ادارے سگنیفائی نے جس سطح پر کاوش کی وہ قابلِ تحسین ہے ادارہ سگنفائی لمیٹڈ کے سیمینار ہی بذات خود مذہبی سیاسی سماجی ہم آہنگی کا حسین امتزاج اور خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں ہر پاکستانی شہری اس عظیم مقصد کو اپنا مقصد حیات بنائے کہ اس نے پر امن پاکستان کیلئے اپنے کردار کو مستقل تسلسل کے ساتھ جاری رکھنا ہے اقلیتوں کو بھی ملک میں حقوق حاصل ہیں۔ شیخ نوید، قاری اسلم نے کہا کہ اقلیتوں کے مذہبی تہواروں پر سرکاری تعطیلات اور انکے لئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا بھی کیا جائے۔ اس موقع پر مس سعدیہ طالب نے کانفرنس میں سٹیج کے انتظامی امور سرانجام دیئے۔ کانفرنس میں شجاعت بخاری، مس میمونہ، اسجد شیخ،،ثریا فیض، فیضان علی خان، علی حسین بلوچ، محمد عبداللہ، اقصی صبا، انجینئر کاشف حیدری، سہیل سراج، توفیق وسان ودیگر شریک تھے۔ کانفرنس میں پینل ڈسکشن میں فروغ امن کیلئے کردار ادا کرنے والے سماجی اداروں کی جانب سے فروغ امن کی کاوشوں بارے شرکا کو آگاہ کیا گیا، بعد ازاں مختلف دیہی علاقہ جات، دیگر شہروں اضلاع کے سفیران امن، کمیونٹی ممبران نے اپنی کاوشوں کامیابیوں کے متعلق آگاہ کیا۔ اختتام پر شرکا سے فروغ امن کیلئے مزید اقدامات پر گروپ ورک کی صورت میں آرا وتجاویز طلب کی گئیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com