ڈاکٹر کی ڈائری,سینٹی ڈاکٹر

تحریر۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر اسد امتیاز ابو فاطمہ

مسوم اماں جی فاطمہ اسد ویلفئیر کلینک میں ہر ماہ آتی ہیں اپنے جگر کے مرض کے سلسلے میں،جب چند ماہ پہلے تشریف لائیں تھیں تو ذہنی و جسمانی حالت بہت مخدوش تھی،الحمداللہ علاج اور توجہ سے نُمایاں اور مُثبت تبدیلی آئی تھی،گو پہلی ملاقات انکی نَم آنکھوں کیساتھ ہوی تھی اپنی بِپتا سناتے(انکے تین بچے پیدائشی موروثی بیماری سے وفات پا چکے تھے)
وہ جب بھی آتیں میں کوئی نہ کوئی شُغلیہ بات کر کے انہیں ہسا دیا کرتا( میرے نزدیک گوروں کا وضع کردہ پبلک ڈیلنگ کا میکانیکی پروفیشنل رویہ ہمارے سماج کی نفسیات سے مکمل مطابقت نہیں رکھتا کہ ہم اپنے مریضوں سے کمیونیکیٹ کرتے لازمی مغربی ممالک کی گائیڈ لائنز ہی فالو کریں)
اس دفعہ آئیں تو اپنا پرابلم بتانے لگیں ؛
“ڈاکٹر جی مینو اینج اے جیویں سارے جسم تے کوی سوئیاں چبوندھا اے۔۔
چِنگاں پیدیاں نے چِنگاں۔۔۔
میں نے کہا کیا مطلب کوئی خارش وغیرہ ہوتی ہے کیا!
کہنے لگیں؛ آہو جلون جئی تے ہُندی اے ۔۔
میں نے کہا کوئی مسئلہ نہیں الرجی کی دوائی لکھ دیتا ہوں تو کہنے لگیں ؛ نیئں باہر کوئی خارش نیئں ہوندی اینج لگدا اے جیویں اندروں کوئی کھُرچن ڈیا اے۔۔
(لو تُسی کر لو ڈاکٹرین دسو)
میں نے برجستہ ازراہ مزاح کہا !
ماں جی مینو لگدا اے تواڈے تے کسے نے جادو کیتا اے،اُدھر کوی بٹاوے 🧟‍♀️ نو سوئیاں چبوندھا اے تے ایدھر توانوں سوئی چُبھ جاندی اے۔۔۔۔
ماں جی نے کِھلکلا کر ہنستے ہوے برجستہ جواب دیا
“آہو کیتا اے میرے تے جادو”
میں نے پوچھا ! اچھا کِنے۔۔
کہنے لگیں “میرے ڈاکٹر نے ہور کِنے۔۔۔
کی ساں میں جدوں آی ساں تے کِنا کرم کر دِتا اے اللہ نے،جادو ای اے۔۔۔۔
“ تے ساڈے پیسے پورے بلکہ مُنافعے”

کل ڈسکہ جمعہ وار کلینک پہ بھی ایک بزرگ تشریف لائے جن کی اپنی عمر ساٹھ پینسٹھ سال تو ہو گی،معدہ کی شدید تکلیف کیساتھ،ان کیساتھ ایک عمر رسیدہ لیکن دیہاتی اماں جی تھیں جو کہ مجھے مریض سے زیادہ پریشان لگ رہی تھیں(ینگ ڈاکٹرز کیلئے ٹِپ ہے کہ ایک کامیاب کلینیشن کو ساتھ آنے والے لواحقین پہ بھی طائرانہ نظررکھنی چاہیے،قوت مشاہدہ ایسی رکھیں کہ ایک منٹ میں پروفائلنگ کر لیں،چہرے کے تاثرات و بات چیت کے انداز سے کس مزاج کے لوگ لگ رہے ہیں،یاد رکھیں مریض کیساتھ بیٹھا/بیٹھی آپ کو مریض سے زیادہ آبزرو کر رہے ہوتے ہیں اور میری نظر میں ہسپتالوں میں کئی جھگڑے خاص طور پہ ایمرجنسی میں لواحقین کو ٹھیک سے رِیڈ نہ کرپانے یا سیٹسفائی کرنے میں ناکامی سے پیدا ہوتے ہیں نہ کہ ڈاکٹر کی طبی قابلیت سے)
مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ عمر رسیدہ خاتون ان بزرگ کی والدہ ہیں تو میں نے مریض سے پوچھا ؛
اے تواڈی کی لگدے نیں” کہنے لگے؛امی نیں میرے!
میں نے پیلان کے مطابق چھیڑا ؛
تُسی ہلی وی ماں دی اُنگلی پھڑ کے چلدے او جہیڑا ایناں نو نال لے کے آئے او،کلیاں ڈر لگدا اے”
تو کمرے میں موجود سب نے قہقہہ لگایا اور ماں جی کہنے لگیں ہلی تے ایدا ابا وی نال آ رہیا سی(نوے سالہ)ڈاکٹر صاب اسی مائی بابے نے دو دِناں توں روٹی نیئں کھادی،میرے ُپتر دا کُج کرو۔۔
میں نے کہا؛اوہو او کیوں۔۔۔!!
تو ان کے جواب سے ڈاکٹر بھی تھوڑا سینٹی ہوگیا ؛“ساڈے پُتر نے جو دو دناں تو روٹی نیئں کھادی سانوں کیویں لنگے”
اور مائیں جو خود بیمار ہو جایئں تو الٹا اس بات پہ پریشان ہوتی ہیں کہ ؛
“کی وخت پا دِتا اے بیمار ہو کے بَچیاں نوں”
مجھے یاد ہے کہ امی بھی اپنے کینسر کے علاج پہ آنے والے اخراجات سے خوامخواہ پریشان رہتیں اور میرا حال یہ تھا کہ کوئی میرا سب کچھ لے لے بس میری ماں کو شفا مل جائے،ابھی تھوڑی دیر پہلے خُرم بٹ صاحب(جنکی والدہ میری پیشنٹ تھیں،بتا رہے تھے کہ انکی امی جب لاہور ڈاکٹرز ہسپتال میں داخل تھیں تو تقریباً روز کا لاکھ روپیہ لگ رہا تھا تو امی فکر مندی سے کہنے لگیں بڑا پیسہ لگ رہیا اے میرے ُپتر دا روز دا پَنج ہزار تے لگدا ای ہوئے گا،بٹ صاب ہستے ہوئے بتا رہے تھے کہ میں نے تسلی دی نہیں امی جی واقفیت نکل آئی اے پنج ہزار وی نیئں لگ رہیا)
میری امی بھی چلی گیئں اور بٹ صاحب کی بھی،کیونکہ آپ جتنے مرضی پھنے خاں ہوں بیماری سے لڑا جا سکتا ہے واپسی کے بلاوے سے نہیں اگر یہ بات سمجھ لگ جائے تو برائے مہربانی ۔۔۔
One should surrender to Allah’s will
پھر بیٹھ کر لکیر نہ پیٹیں کے یہ کیا ہوا کیسے ہوا۔۔۔
فَلَوۡ لَااِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَ
پس جبکہ روح نرخرے تک پہنچ جائے ۔
وَ اَنۡتُمۡ حِیۡنَئِذٍ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿ۙ۸۴﴾
اور تم اس وقت آنکھوں سے دیکھتے رہو ۔
وَ نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡکُمۡ وَ لٰکِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۸۵﴾
ہم اس شخص سے بہ نسبت تمہارے بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے ۔

یقین کریں ایگزیکٹلی یہی سین تھا،میں میرا پیسہ اور میری ڈاکٹری وہاں کھڑے دیکھ رہے تھے،
فَلَوۡ لَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ غَیۡرَ مَدِیۡنِیۡنَ ﴿ۙ۸۶﴾
پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں ۔
تَرۡجِعُوۡنَہَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۸۷﴾
اور اس قول میں سچے ہو تو( ذرا )اس روح کو تو لوٹاؤ ۔
ایسے ہی ایک اور پیشنٹ کیساتھ تین چار خواتین کلینک میں داخل ہویئں،تھوڑی ہیلدی تھیں ان میں سے شاید ایک میری پرانی مریضہ تھیں یقینا وہی پیشنٹ لایئں تھیں تو مجھ پہ بطور ڈاکٹر اعتماد کرتے کہنے لگیں ؛
ڈاکٹر صاب ساڈے مریض نوں آرام آنا چای دا اے(ویسے مجھے یہ گارنٹیاں مانگنا آج تک سمجھ نہیں آیا)
لیکن میں نے پھر بھی مریض کو مخاطب کرتے ہوئے ازراہ مزاح کہا ؛ یار اتنی ہیوی ڈیوٹی پارٹیاں ساتھ لائے ہو مجھ پہ تو بڑا پریشر پڑ گیا ہے،تیری مہربانی پراوا عزت رکھ لئیں تے آپی ٹھیک ہو جایئں،تو سب ہسنے لگے،پتا چلا کہ ؛ “مُنڈے دی پیناں سی”
بہنیں بھی کمال کا رشتہ ہوتا ہے انکے دل شادی کے سالہا سال بعد بھی بھائیوں کی خیر کیلئے دھڑکتے ہیں۔۔
کلینک پہ آنے والی کتنی ہی خواتین کو جب ڈپریشن تشخیص کرتا ہوں تو رونے لگ جاتی ہیں،اپنے فوت شُدہ بھائی کو یاد کر کے،کہ ڈاک صاب بھولتا ہی نہیں
یہ لکھتے لکھتے میں پھر”سینٹی” ہو گیا کہ جب سے امی کا انتقال ہوا ہے زندگی کے جھمیلوں میں پھس کر میں کئی کئی ماہ اپنی بہنوں سے نہیں مل پاتا،سچ ہے کہ ماں نے ہی بچوں کو ایک لڑی میں باندھ کر رکھا ہوتا ہے۔

سینٹی ڈاکٹر اسد امتیاز ابو فاطمہ

مسوم اماں جی فاطمہ اسد ویلفئیر کلینک میں ہر ماہ آتی ہیں اپنے جگر کے مرض کے سلسلے میں،جب چند ماہ پہلے تشریف لائیں تھیں تو ذہنی و جسمانی حالت بہت مخدوش تھی،الحمداللہ علاج اور توجہ سے نُمایاں اور مُثبت تبدیلی آئی تھی،گو پہلی ملاقات انکی نَم آنکھوں کیساتھ ہوی تھی اپنی بِپتا سناتے(انکے تین بچے پیدائشی موروثی بیماری سے وفات پا چکے تھے)
وہ جب بھی آتیں میں کوئی نہ کوئی شُغلیہ بات کر کے انہیں ہسا دیا کرتا( میرے نزدیک گوروں کا وضع کردہ پبلک ڈیلنگ کا میکانیکی پروفیشنل رویہ ہمارے سماج کی نفسیات سے مکمل مطابقت نہیں رکھتا کہ ہم اپنے مریضوں سے کمیونیکیٹ کرتے لازمی مغربی ممالک کی گائیڈ لائنز ہی فالو کریں)
اس دفعہ آئیں تو اپنا پرابلم بتانے لگیں ؛
“ڈاکٹر جی مینو اینج اے جیویں سارے جسم تے کوی سوئیاں چبوندھا اے۔۔
چِنگاں پیدیاں نے چِنگاں۔۔۔
میں نے کہا کیا مطلب کوئی خارش وغیرہ ہوتی ہے کیا!
کہنے لگیں؛ آہو جلون جئی تے ہُندی اے ۔۔
میں نے کہا کوئی مسئلہ نہیں الرجی کی دوائی لکھ دیتا ہوں تو کہنے لگیں ؛ نیئں باہر کوئی خارش نیئں ہوندی اینج لگدا اے جیویں اندروں کوئی کھُرچن ڈیا اے۔۔
(لو تُسی کر لو ڈاکٹریہُن دسو)
میں نے برجستہ ازراہ مزاح کہا !
ماں جی مینو لگدا اے تواڈے تے کسے نے جادو کیتا اے،اُدھر کوی بٹاوے 🧟‍♀️ نو سوئیاں چبوندھا اے تے ایدھر توانوں سوئی چُبھ جاندی اے۔۔۔۔
ماں جی نے کِھلکلا کر ہنستے ہوے برجستہ جواب دیا
“آہو کیتا اے میرے تے جادو”
میں نے پوچھا ! اچھا کِنے۔۔
کہنے لگیں “میرے ڈاکٹر نے ہور کِنے۔۔۔
کی ساں میں جدوں آی ساں تے کِنا کرم کر دِتا اے اللہ نے،جادو ای اے۔۔۔۔
“ تے ساڈے پیسے پورے بلکہ مُنافعے”

کل ڈسکہ جمعہ وار کلینک پہ بھی ایک بزرگ تشریف لائے جن کی اپنی عمر ساٹھ پینسٹھ سال تو ہو گی،معدہ کی شدید تکلیف کیساتھ،ان کیساتھ ایک عمر رسیدہ لیکن دیہاتی اماں جی تھیں جو کہ مجھے مریض سے زیادہ پریشان لگ رہی تھیں(ینگ ڈاکٹرز کیلئے ٹِپ ہے کہ ایک کامیاب کلینیشن کو ساتھ آنے والے لواحقین پہ بھی طائرانہ نظررکھنی چاہیے،قوت مشاہدہ ایسی رکھیں کہ ایک منٹ میں پروفائلنگ کر لیں،چہرے کے تاثرات و بات چیت کے انداز سے کس مزاج کے لوگ لگ رہے ہیں،یاد رکھیں مریض کیساتھ بیٹھا/بیٹھی آپ کو مریض سے زیادہ آبزرو کر رہے ہوتے ہیں اور میری نظر میں ہسپتالوں میں کئی جھگڑے خاص طور پہ ایمرجنسی میں لواحقین کو ٹھیک سے رِیڈ نہ کرپانے یا سیٹسفائی کرنے میں ناکامی سے پیدا ہوتے ہیں نہ کہ ڈاکٹر کی طبی قابلیت سے)
مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ عمر رسیدہ خاتون ان بزرگ کی والدہ ہیں تو میں نے مریض سے پوچھا ؛
اے تواڈی کی لگدے نیں” کہنے لگے؛امی نیں میرے!
میں نے پیلان کے مطابق چھیڑا ؛
تُسی ہلی وی ماں دی اُنگلی پھڑ کے چلدے او جہیڑا ایناں نو نال لے کے آئے او،کلیاں ڈر لگدا اے”
تو کمرے میں موجود سب نے قہقہہ لگایا اور ماں جی کہنے لگیں ہلی تے ایدا ابا وی نال آ رہیا سی(نوے سالہ)ڈاکٹر صاب اسی مائی بابے نے دو دِناں توں روٹی نیئں کھادی،میرے ُپتر دا کُج کرو۔۔
میں نے کہا؛اوہو او کیوں۔۔۔!!
تو ان کے جواب سے ڈاکٹر بھی تھوڑا سینٹی ہوگیا ؛“ساڈے پُتر نے جو دو دناں تو روٹی نیئں کھادی سانوں کیویں لنگے”
اور مائیں جو خود بیمار ہو جایئں تو الٹا اس بات پہ پریشان ہوتی ہیں کہ ؛
“کی وخت پا دِتا اے بیمار ہو کے بَچیاں نوں”
مجھے یاد ہے کہ امی بھی اپنے کینسر کے علاج پہ آنے والے اخراجات سے خوامخواہ پریشان رہتیں اور میرا حال یہ تھا کہ کوئی میرا سب کچھ لے لے بس میری ماں کو شفا مل جائے،ابھی تھوڑی دیر پہلے خُرم بٹ صاحب(جنکی والدہ میری پیشنٹ تھیں،بتا رہے تھے کہ انکی امی جب لاہور ڈاکٹرز ہسپتال میں داخل تھیں تو تقریباً روز کا لاکھ روپیہ لگ رہا تھا تو امی فکر مندی سے کہنے لگیں بڑا پیسہ لگ رہیا اے میرے ُپتر دا روز دا پَنج ہزار تے لگدا ای ہوئے گا،بٹ صاب ہستے ہوئے بتا رہے تھے کہ میں نے تسلی دی نہیں امی جی واقفیت نکل آئی اے پنج ہزار وی نیئں لگ رہیا)
میری امی بھی چلی گیئں اور بٹ صاحب کی بھی،کیونکہ آپ جتنے مرضی پھنے خاں ہوں بیماری سے لڑا جا سکتا ہے واپسی کے بلاوے سے نہیں اگر یہ بات سمجھ لگ جائے تو برائے مہربانی ۔۔۔
One should surrender to Allah’s will
پھر بیٹھ کر لکیر نہ پیٹیں کے یہ کیا ہوا کیسے ہوا۔۔۔
فَلَوۡ لَااِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَ
پس جبکہ روح نرخرے تک پہنچ جائے ۔
وَ اَنۡتُمۡ حِیۡنَئِذٍ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿ۙ۸۴﴾
اور تم اس وقت آنکھوں سے دیکھتے رہو ۔
وَ نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡکُمۡ وَ لٰکِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۸۵﴾
ہم اس شخص سے بہ نسبت تمہارے بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے ۔

یقین کریں ایگزیکٹلی یہی سین تھا،میں میرا پیسہ اور میری ڈاکٹری وہاں کھڑے دیکھ رہے تھے،
فَلَوۡ لَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ غَیۡرَ مَدِیۡنِیۡنَ ﴿ۙ۸۶﴾
پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں ۔
تَرۡجِعُوۡنَہَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۸۷﴾
اور اس قول میں سچے ہو تو( ذرا )اس روح کو تو لوٹاؤ ۔
ایسے ہی ایک اور پیشنٹ کیساتھ تین چار خواتین کلینک میں داخل ہویئں،تھوڑی ہیلدی تھیں ان میں سے شاید ایک میری پرانی مریضہ تھیں یقینا وہی پیشنٹ لایئں تھیں تو مجھ پہ بطور ڈاکٹر اعتماد کرتے کہنے لگیں ؛
ڈاکٹر صاب ساڈے مریض نوں آرام آنا چای دا اے(ویسے مجھے یہ گارنٹیاں مانگنا آج تک سمجھ نہیں آیا)
لیکن میں نے پھر بھی مریض کو مخاطب کرتے ہوئے ازراہ مزاح کہا ؛ یار اتنی ہیوی ڈیوٹی پارٹیاں ساتھ لائے ہو مجھ پہ تو بڑا پریشر پڑ گیا ہے،تیری مہربانی پراوا عزت رکھ لئیں تے آپی ٹھیک ہو جایئں،تو سب ہسنے لگے،پتا چلا کہ ؛ “مُنڈے دی پیناں سی”
بہنیں بھی کمال کا رشتہ ہوتا ہے انکے دل شادی کے سالہا سال بعد بھی بھائیوں کی خیر کیلئے دھڑکتے ہیں۔۔
کلینک پہ آنے والی کتنی ہی خواتین کو جب ڈپریشن تشخیص کرتا ہوں تو رونے لگ جاتی ہیں،اپنے فوت شُدہ بھائی کو یاد کر کے،کہ ڈاک صاب بھولتا ہی نہیں
یہ لکھتے لکھتے میں پھر”سینٹی” ہو گیا کہ جب سے امی کا انتقال ہوا ہے زندگی کے جھمیلوں میں پھس کر میں کئی کئی ماہ اپنی بہنوں سے نہیں مل پاتا،سچ ہے کہ ماں نے ہی بچوں کو ایک لڑی میں باندھ کر رکھا ہوتا ہے۔

سینٹی ڈاکٹر اسد امتیاز ابو فاطمہ

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

WP Twitter Auto Publish Powered By : XYZScripts.com