سعودی عرب اور قطر کا پاکستان کے لیے 5 ارب ڈالر مالی تعاون، معاشی دباؤ میں بڑی سہولت
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کے لیے 5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے، جسے معاشی حلقے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں ایک بڑی سہولت قرار دے رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو رواں ماہ متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر قرض واپس کرنا ہے، جس سے زرِمبادلہ کے ذخائر پر نمایاں دباؤ بڑھنے کا خدشہ تھا۔
ترک خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب اور قطر کی جانب سے متوقع یہ مالی معاونت اسلام آباد کو نہ صرف قلیل مدتی بیرونی ادائیگیوں میں سہولت دے گی بلکہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ موجودہ ذخائر تقریباً 16.4 ارب ڈالر بتائے جا رہے ہیں، جبکہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جون تک انہیں 18 ارب ڈالر سے اوپر رکھنا ایک اہم ہدف ہے۔
سعودی وزیر خزانہ کی اہم ملاقات
یہ پیش رفت سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان کی وزیراعظم شہباز شریف سے اسلام آباد میں اہم ملاقات کے بعد سامنے آئی، جس میں دوطرفہ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔
اگرچہ اس ملاقات کے بعد کوئی باضابطہ معاہدہ جاری نہیں کیا گیا، تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق مالی معاونت کے فریم ورک پر عملی بات چیت شروع ہو چکی ہے، جسے جلد حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
معاشی استحکام کے لیے اہم پیش رفت
معاشی ماہرین کے مطابق یہ مالی پیکج پاکستان کے لیے ایک اہم liquidity cushion ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بیرونی قرض ادائیگیاں، درآمدی اخراجات اور خطے کی کشیدہ صورتحال معیشت پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔
یہ معاونت نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دے گی بلکہ روپے پر دباؤ کم کرنے، مارکیٹ اعتماد بہتر بنانے اور آئی ایم ایف اہداف کے حصول میں بھی مدد فراہم کر سکتی ہے۔
دوست ممالک کا اعتماد
حکام کے مطابق پاکستان اس وقت مختلف دوست ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مالی تعاون، رول اوور سہولیات اور آئندہ بڑے مالی اجلاسوں کے لیے بھی رابطے میں ہے۔ سعودی عرب اور قطر کی اس یقین دہانی کو پاکستان کی سفارتی اور معاشی پوزیشن کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔