سرحد پار دہشت گردی اب برداشت نہیں ہوگی: صدر آصف علی زرداری کا دوٹوک پیغام

president-asif-zardari-cross-border-terrorism-afghanistan-warning

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے دوٹوک اور سخت موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وطنِ عزیز کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ ایوانِ صدر سے جاری کردہ ایک اہم اعلامیے کے مطابق، صدر زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان کی حالیہ عسکری کارروائیاں کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ اپنے شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کی گئی ہیں، جو بارہا خبردار کرنے کے باوجود باز نہ آنے والے عناصر کے خلاف ایک ناگزیر ردِعمل ہے۔

عالمی برادری کو تنبیہ اور افغانستان کی صورتحال

صدر آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ جب دہشت گرد گروہوں کو سرحد پار سے سہولت کاری، پناہ گاہیں یا استثنیٰ فراہم کیا جائے گا، تو اس کے بھیانک نتائج صرف خطے کو نہیں بلکہ پوری دنیا کے بے گناہ شہریوں کو بھگتنے پڑیں گے۔ انہوں نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں طالبان حکومت کے زیرِ اثر حالات نائن الیون جیسے یا اس سے بھی بدتر رخ اختیار کر چکے ہیں، جو عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی اور کابل انتظامیہ

صدرِ مملکت نے کابل کی عبوری انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی تشویش کا معاملہ ہے کہ ایک ایسی انتظامیہ جسے ابھی تک اقوامِ متحدہ نے تسلیم نہیں کیا، وہ دہشت گرد عناصر کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی کھلی اجازت دے رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ عمل ‘دوحہ معاہدے’ کی صریح خلاف ورزی ہے، جس میں طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ صدر زرداری کے مطابق، کابل انتظامیہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی تصدیق اور پاکستانی موقف کی تائید

اپنے بیان میں صدر زرداری نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ‘اینالیٹکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم’ کی حالیہ رپورٹ کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عالمی رپورٹ نے پاکستان کے اس دیرینہ موقف کی تائید کر دی ہے کہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں اور وہیں سے پاکستان میں تخریب کاری کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ صدر نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سفارتی اور دفاعی حکمت عملی

سیاسی تجزیہ نگار صدر زرداری کے اس بیان کو پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اب دہشت گردی کے خلاف "بلاجواز استثنیٰ” کے خاتمے کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔ صدر کے اس دوٹوک موقف نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ اگر کابل انتظامیہ نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت کارروائی جاری رکھے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں