پیٹرولیم سبسڈی کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کا اعلان
یوتھ ویژن نیوز : (عمران قذافی سے) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر ہدفی سبسڈی کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد ریلیف کو مستحق عوام تک براہِ راست پہنچانا اور سبسڈی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
یہ اعلان وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس میں سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے وزرا اور نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، سبسڈی اصلاحات اور توانائی کے شعبے میں موجودہ چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
وفاقی حکومت کا ہدفی سبسڈی منصوبہ
پیٹرولیم ڈویژن کی بریفنگ کے مطابق ملک میں ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے اور کسی فوری بحران کا خطرہ نہیں، تاہم عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے پیش نظر مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
وزارت آئی ٹی نے اجلاس میں ایک جدید ڈیجیٹل نظام کی تجویز پیش کی، جس کے تحت موبائل ایپ کے ذریعے مستحق افراد کی شناخت اور سبسڈی کی ترسیل براہِ راست کی جائے گی۔ اس نظام کا مقصد کرپشن اور غیر مستحق افراد کو سبسڈی ملنے کے امکانات کو کم کرنا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے تاکہ اس منصوبے کو جلد عملی شکل دی جا سکے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ایندھن کی مسلسل فراہمی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عوام میں بچت اور ذمہ دارانہ استعمال کے رجحان کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانے پر زور دیا، جبکہ خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ مزمل اسلم نے حکومت کی حکمت عملی کو سراہا۔ بلوچستان کے وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بھی نظام کی مؤثریت کو بڑھانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔
اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبائی وزرا کی شرکت
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت کی مالی گنجائش محدود ہے اور زیادہ تر آمدن پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہو رہی ہے، اس لیے کسی بھی سبسڈی پروگرام کو معاشی استحکام کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دینا ضروری ہے۔
وزیر خزانہ کے اشارے: اصلاحات اور ڈیٹا پر مبنی فیصلے
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ حالات کو چیلنج کے بجائے اصلاحات کا موقع سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کے ذریعے سبسڈی اور ٹیکس نظام میں شفافیت کو فروغ دینے اور عوام میں ذمہ دارانہ استعمال کے رجحان کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ہدفی سبسڈی کے نظام کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے گی اور اسے شفاف، مؤثر اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف مہنگائی میں کمی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کے ڈیجیٹل گورننس ماڈل کو بھی مضبوط کرے گا۔